محمد
شہباز عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
دین
اسلام جہاں ہمیں عقائد اور عبادات سکھاتا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی
کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ ایک سچا مسلمان مہذب، شائستہ، سلجھا ہوا اور بااخلاق ہوتا
ہے۔ ایک مسلمان کا مجلس میں بیٹھنے کا انداز کیسا ہونا چاہیے،اور اس کے لیے مجلس
کے حقوق کیا ہیں آئیے ،قران مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے ۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ:
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ
کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے
ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو
علم دیا گیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(پ28، المجادلۃ:11)
شانِ
نزول نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غزوۂ بدر میں حاضر ہونے والے
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابۂ کرام رضی
اللہ عنہم ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی، اُنہوں نے حضورِ اقدس صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضور پر نور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تو اُنہوں
نے جواب دیا، پھر وہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کے لئے مجلس شریف میں جگہ بنائی
جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی، سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ چیز
گراں گزری تو آپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کے لئے جگہ بنادی، اُٹھنے
والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا:
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو،
اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنّت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے
کھڑے ہونے کا کہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی
اور اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان
والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ
تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(تفسیرخازن، پ28، المجادلۃ، تحت الآیۃ:11،ج 4،ص240)
اس
آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہوا کہ صالحین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا
جائز بلکہ سنّت ہے حتی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کی جائے گی۔ حدیثِ پاک میں دینی
پیشواؤں اور اساتذہ کی تعظیم کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، سید المرسلین صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے لئے عاجزی اختیار
کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے بھی تواضع اختیار کرو اور سرکش عالم نہ
بنو۔“(الجامع لاخلاق الراوی، ص230، حدیث:802) نیک لوگوں کی عزت کرنا اور بوڑھوں کا
لحاظ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا:”بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرنا جو
قرآن میں غلو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا،
اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے۔“(ابو داؤد،ج 4،ص344، حدیث: 4843) خوش نصیب
ہیں وہ لوگ جو علماء و مشائخ اور دین داروں کی عزت کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ
جو آزادی کے نام پر علماء اور دین داروں کا مذاق اڑاتے اور اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔
مجلس
کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ
اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کے لئے نمایاں جگہ بنادی
جائے جیسے دینی و دنیوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کو اسٹیج پر یا سب
سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کے
لئے زیادہ قریب بیٹھیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم
میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے۔“ (ابو
داؤد،ج1،ص267،حدیث: 674) اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضور پر
نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو ان کے مرتبے اور
منصب کے مطابق بٹھاؤ۔“(ابو داؤد،ج 4،ص343،حدیث:4842) البتہ فضیلت اور مرتبہ رکھنے
والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ کثیر
احادیث میں حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جیسا
کہ فرمایا:”کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔“(مسلم،ص923،حدیث:5683)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی دوسری روایت میں ہے، رسولِ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے
اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ) دوسروں کے لئے جگہ کشادہ
اور وسیع کر دو۔ (بخاری،ج 4،ص179،حدیث:6269)
فرمانِ
مصطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’مجالس (یعنی دوسروں کی
موجودگی) میں سب سے مکرم (یعنی عزت والی) مجلس(یعنی بیٹھنا ) وہ ہے جس میں قبلے کی
طرف منہ کیا جائے(معجم اَوْسَط ۶/۱۶۱
حدیث ۸۳۶۱)
حضورِ
انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی کسی مجلس (یعنی بیٹھک )میں کسی
کی طرف پائوں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے، نہ اولاد کی طرف نہ اَزواجِ پاک کی طرف نہ
غلاموں خادموں کی طرف۔( مراٰۃ ۸/۸۰ )
مجلس
(یعنی بیٹھک) سے فارغ ہوکر یہ دُعا تین بار پڑھ لیں تو خطائیں مٹادی جاتی ہیں اور
جو مجلسِ خیر و مجلسِ ذکر میں پڑھے تو اُس کیلئے اُس خیر(یعنی اچھائی) پر مہر لگا
دی جائے گی ۔ وہ دُعا یہ ہے : ’’ سبحٰنک
اللھم وبحمدک لا الٰہ الاانت استغفرک واتوب الیک ۔‘‘(ابوداوٗد
۴/۳۴۷ حدیث ۴۸۵ )
ترجمہ:
تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ پاک! تیرے ہی لئے تمام خوبیاں ہیں، تیرے سواکوئی
معبود نہیں ، تجھ سے بخشش چاہتاہوں اور تیری طرف تو بہ کرتا ہوں۔
Dawateislami