رب
تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو دینِ اسلام عطا کیا اس میں ہمارے لیے تمام
امور کے آداب بیان کیے گئے ہیں، اور تمام چیزوں کے حقوق بتائے گئے ہیں، تاکہ انسان
ان پر عمل کرکے معاشرے کا بہترین انسان بن کے ابھرے۔ اسی طرح آج ہم مجلس کے آداب
کے بارے میں پڑھے گے۔
جگہ
کشادہ کرو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ
لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ
اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ
کنزالعرفان : اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہوجاؤ
تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا
ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ (سورۃ المجادلہ،پارہ:
28،آیت:11)
اس
آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اگر تم کسی مجلس میں بیٹھے ہو اور تمہیں کہا جائے کے
جگہ کشادہ کرو تو کردو۔
مجلس
میں اللہ کا ذکر نہ کرنا:عن ابي
هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه
كانت عليه من الله ترة، ومن اضطجع مضجعا لا يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ
اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ مجلس اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی
اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی
طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا“۔ (سنن ابی داود/كتاب الأدب /حدیث: 4856)
اس
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ رب العزت کا ذکر
مبارک نہ کرے وہ اس پر بروز قیامت حسرت کرے گا اور جو اپنے بستر پر لیٹے اور اللہ
عزوجل کا ذکر نہ کرے وہ بھی بروز قیامت اس پر حسرت کرے گا۔یہ تھے مجلس کے حقوق
اللہ ہمیں اپنے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami