بے شک ہر وہ چیز جو عزت و احترام کے قابل ہو اس کے حقوق ہوتے ہیں جيسے کہ مجلس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں کہ ہمیں کیسی مجلس میں بیٹھنا چاہیے اور كس مجلس میں نہیں بیٹھنا چاہیے.

ذکر اللہ عزوجل کی مجلس میں شرکت کی فضیلت :صحیح مسلم شریف کی ایک طویل حدیث مبارک ہے جس میں ان خوش نصیبوں کے لیے مدہ جانفزا ہے جو ذکر اللہ کے لیے حلقہ بناتے ہیں اور مجتمع ہو کر اپنے معبود برحق کا ذکر کرتے ہیں اس حدیث مبارک کے آخر میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بس فرشتے بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں اے رب عزوجل ان میں فلاں بندہ بڑا گنہگار تھا وہ تو ان یعنی ذکر کرنے والوں پر گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا مدنی سرکار ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اسے بھی بخش دیا وہ ذکر کرنے والی ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بھی بد نصیب نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر الخ باب فضل مجالس ذکر الحدیث 2679 ص 1444 )

رحمت خوا خداوندی لامحدود ہے اور اس کی رحمت سے کوئی فرد خارج نہیں بلکہ ہر ایک کو اس کی رحمت مہیط ہے اور یہی عقیدہ اسلام نے مسلمانوں کو دیا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں رحمت خداوندی کے طلبگار رہیں اور اسی سلسلے میں ہما وقت سعی کرتے رہیں مخبر صادق نبی رحمت ﷺ نے ہمیں خبر دی کہ وہ گنہگار شخص جس نے ذاکرین کے ساتھ تھوڑی سی ہم نشینی اور صحبت اختیار کی تو باری تعالی نے اس کی بخشش فرما دی ۔

ایک حدیث شریف میں ہے:حضرت ابو رزین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پا لو پس وہ اصل چیز یہ ہے کہ تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو۔ ( شعب الایمان باب فی مقاربہ الخ فصل فلم مصافحہ الخ حدیث 9023ج6ص492)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ایک گنہگار بندے کے نیکوں کی مجلس میں بیٹھ کر اس نے اللہ تعالی سے بخشش حاصل کر لی اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ بدوں کی مجلس چھوڑ کر نیکوں کی مجلس میں بیٹھیں ۔ جو کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے. آمین بجاہ النبی الامین ﷺ