الحمد للہ مجالس ذکر کی ہو یا کوئی اور ان تمام کے کچھ حقوق اور ضوابط ہوتے ہیں مجلس سے مراد ہر وہ جگہ ہے جہاں کچھ لوگ جمع ہو کسی مشورے یا ذکر کے لیے اور مجمع ضروری نہیں ہے ۔اسلام ہماری اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے آئیے وہ ملاحظہ کرتے ہیں ۔

ذکر والوں کی مجلس :وَعَنْ أَبِي رَزِيْنٍ أَنَّهٗ قَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى مِلَاكِ هٰذَا الْأَمْرِ الَّذِي تُصِيبُ بِهٖ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ أَهْلِ الذِّكْرِ وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّكْ لِسَانَكَ مَا اسْتَطَعْتَ بِذِكْرِ اللّٰهِ وَأَحِبَّ فِي اللّٰهِ وَأَبْغِضْ فِي اللّٰهِ يَا أَبَا رَزِيْنٍ هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ مَنْ بَيْتِهٖ زَائِرًا أَخَاهُ شَيَّعَهٗ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِنَّهٗ وَصَلَ فِيكَ فَصِلْهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْمِلَ جَسَدَكَ فِي ذٰلِكَ فَافْعَلْ ۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابو رزین سے ان سے رسول الله نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو تم ذکر والوں کی مجلس اختیار کرو اور جب تم تنہائی میں ہو تو جہاں تک کرسکو اپنی زبان الله کے ذکر میں ہلاتے رہو اور الله کی راہ میں محبت کرو اور الله کی راہ میں عداوت کرو اے ابو رزین کیا تمہیں خبر ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر سے اپنی بھائی کی ملاقات کے لیے نکلتا ہے تو اسے ستر ہزار فرشتے پہنچاتے ہیں وہ تمام اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الٰہی اس نے تیری راہ میں جوڑا ہے تو اسے جوڑ دے تو اگر کرسکو کہ اپنے جسم کو اس میں مشغول کرو تو ضرور کرو ۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5025)

شرح حدیث : کون سی مجلسیں مراد :اس سے مراد علماء دین اولیاء کاملین صالحین کی مجلسیں ہیں کیونکہ یہ مجلسیں جنت کے باغات ہیں جیساکہ دوسری حدیث شریف میں ہے یہ مجلسیں خواہ مدرسے ہوں یا درس قرآن و حدیث کی مجلسیں یا حضرات صوفیاء کرام کی ذکر کی محفلیں یہ فرمان بہت جامع ہے جس مجلس میں الله کا خوف حضور کا عشق اور اطاعت رسول کا شوق پیدا ہو وہ مجلس اکسیر ہے۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5025)

مجلس میں سلام کریں:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ ۔ ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(حوالہ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

سلام کون کریں معلوم ہوا کہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو۔ یعنی اگر وہاں بیٹھنا نہ بھی ہو صرف گزر جانا ہو جب بھی سلام کرے اور اگر بیٹھنا ہو تب بھی سلام کرے۔ معلوم ہوا کہ راہ گیر یعنی گزرنے والا صرف ایک سلام کرے اور جو مجلس میں کچھ دیر ٹھہرے وہ دو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کا۔ (حوالہ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

امیروں کی مجلس :وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِنْ أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتّٰى تُرَقِّعِيهِ۔ ترجمہ :روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا اے عائشہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو تم کو دنیا سے اتنا کافی ہو جیسے سوار مسافر کا توشہ اور امیروں کی مجلس سے اپنے کو بچا ؤ اورکسی کپڑے کو پرانا نہ سمجھو حتی کہ اسے پیوند لگالو۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4344)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی مجلسوں کو پاکیزہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین