رسولِ
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات سراپا حکمت، دانائی،
اور فہم و فراست کا کامل نمونہ تھیں۔ آپ ﷺ نہ صرف وحی الٰہی کے امین تھے بلکہ بہترین
معلم، مربی اور مصلح بھی تھے۔ آپ ﷺ کی تربیت کا انداز نہایت مؤثر، نفسیاتِ انسانی
سے ہم آہنگ اور قلب و ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں
شفقت، نرمی، بصیرت، تدبر اور حکمت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک خاص
انداز جو ہمیں احادیثِ مبارکہ میں بارہا نظر آتا ہے آیئے ہم احادیث مبارکہ کو
جانتے ہیں اور ان سے تعلیمات حاصل کرتے ہیں ۔
حدیث
نمبر 1:وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍ أَلَا أَدُلُّكَ
عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ
قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي
نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
ترجمہ
:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا در از خاموشی اور اچھی عادت سے اس کی قسم
جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(كتاب: مرآۃ
المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)
شرح
حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں، چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل
ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے، نیز بوجھ پیٹھ پر
ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہر حال کلام بڑا صحیح
ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔
یعنی
کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تو لی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے
ہو جائیں گے ، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن
بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہو گا۔
خاموشی
سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی
نہیں۔ اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق ادا کرنا، نرم و گرم حالات میں
شاکر و صابر رہنا، چونکہ خاموشی اور صبر و شکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ
ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے
جائیں گے۔ واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں، یہاں معاملات کے
مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے (كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد
: 6, حدیث نمبر : 4867)
حدیث
نمبر 2: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ. أَتُدْرُونَ مَا
أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ ماجه
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے
کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر
اور اچھی عادت ! کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی
چیز یں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی،
ابن ماجہ ) نہیں) یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے، نوے فی
صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں، شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بد ترین گناہ ہے عقل کو
مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4832)
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا سوالیہ اندازِ تربیت محض ایک
طرزِ گفتگو نہیں، بلکہ ایک جامع، بامقصد اور بصیرت افروز طریقہ تھا جس سے دلوں میں
اثر، ذہنوں میں سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے سوالات، مخاطب کو
غور و فکر پر آمادہ کرتے اور اسے خود اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتے تھے۔ یہ اندازِ
تربیت آج کے تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی رہنمائی کا عظیم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم بھی اپنے بچوں، شاگردوں اور معاشرے کے افراد کی تربیت میں اس سنتِ نبوی ﷺ کو
اپنائیں، تاکہ ہمارا انداز تعلیم، نرمی، حکمت اور اثر انگیزی سے بھرپور ہو۔
دعا
ہے اللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرما۔ ہمیں حکمت و دانائی کے ساتھ دوسروں کی تربیت کرنے والا بنا دے۔
اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور سنت پر استقامت عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
Dawateislami