محمد ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
دین
اسلام ایک ایسا کامل و اکمل دین ہے جو زندگی کی ہر ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا
ہے لہذا رہنمائی فرمانے کے کئی طریقے ہیں انہی میں سے ایک بہترین طریقہ سوالیہ
انداز میں تربیت کرنا بھی ہے جیسا کہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا مقامات
پر سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی۔
1۔عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنَّ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ
ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہٗ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ
تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءٌ قَالَ
أَقْضِيْ بِکِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲ ِ قَالَ
فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ
لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ
تَعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ
وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲ ِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ ِ ۔رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُ
وَ أَبُوْ دَاؤُدَ وَالْدَّارَمِيُّ .
ترجمہ:حضرت
سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش
آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں اﷲ
عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر اﷲ
عزوجل کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ
رسول کریم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر تو رسول علیہِ السّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ
پائے تو پھر کیا کرے گا انہوں نے عرض کی
کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں
گا۔ حضرت سیّدنا معاذرضی اﷲ عنہ کہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیم صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲ عزوجل کہ اﷲ تعالیٰ نے
اپنے رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھ اﷲ
تعالیٰ عزوجلکا رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم راضی ہے۔ (کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
, حدیث نمبر:2)
2۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ
بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ
قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِ اللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ
قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللہ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ
الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ قَالَ: اَنْ
تَعْبُدَ اللہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ
فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ قَالَ:مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا
بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ
الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی
الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللہ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ:اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ
اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ
جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔
ترجمہ:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن
حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں سے
ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان
کیا ہے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا
کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو
اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام
کیا ہے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو
خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم
کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے تو
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا
کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ )
وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے
وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں
بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے
کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان
پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ
( ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت
وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو
لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے
۔ (منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:2)
3۔عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ
قَالَ:قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللہ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ:مَنْ سَلِمَ
الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔ ترجمہ:
حضرت ابو موسٰی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ !
عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون سا
اسلام افضل ہے تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام
مسلمان سلامت رہیں ۔(منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:4)
4۔عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ
مَالِِکِ بْنِ اُھَیْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُھْرَۃَ بْنِ کِلابِ بْنِ مُرَّۃَ
بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّالْقُرَشِيِّ الزُّہْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ،
اَحَدِالْعَشَرَۃِ الْمَشْھُوْدِ لَہم بِالْجَنَّۃِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم
۔قَالَ:جَائَ نِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
یَعُوْدُنِیْ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اِشْتَدَّبِیْ
فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّيْقَدْ
بَلَغَ بِیْ مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرٰی،وَاَنَا ذُوْمَالٍ وَلَایَرِثُنِيْ اِلَّا
ابْنَۃٌ لِیْ،اَفَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالشَّطْرُ
یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
فَقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالثُّلُثُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ قَالَ:الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ اَوْ کَبِیْرٌ اِنَّکَ اَنْ
تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَہم عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ
النَّاسَ، واِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللہِ اِلَّا
اُجِرْتَ عَلَیْہَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیِّ امْرَاَتِکَ،قَالَ:
فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اُخَلَّفُ بَعْدَ اَصْحَابِیْقَالَ اِنَّکَ لَنْ
تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللہِ اِلَّاازْدَدْتَّ بِہٖ
دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً۔وَلَعَلَّکَ اَنْ تُخَلَّفَ حَتّٰی یَنْتَفِعَ بِکَ اَقْوَامٌ
وَیُضَرَّبِکَ اٰخَرُوْنَ، اللہم اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہم ،وَلَا
تَرُدَّہم عَلٰی اَعْقَابِہم ،لٰکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔یَرْثِیْ
لَہٗ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَاتَ
بِمَکَّۃَ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔
ترجمہ
حدیث : حضرتِ سَیِّدُنا ابو اسحاق سَعْد بن اَبی وقَّاص مالک بن اُھَیْب بِنْ
عَبْد مَنَاف بِنْ زُہْرَہ بِنْ کِلَاب بِنْ مُرَّہ بِنْ کَعْب بِنْ لُؤَیّ قُرَشِی
زُھْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ ُجو اُن دس حضرات میں سے ہیں جنہیں جنت کی
خوشخبری دی گئی فرماتے ہیں : حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پررَسُوْلُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری عِیادت کے لئے تشریف لائے مجھے سخت
دردتھا میں نے عرض کی: یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم !میری بیماری شدت اختیار کرچکی ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، میں
ایک مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی
مال صَدَقہ کردوں فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نصف مال صَدَقہ کر دوں فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی فرمایا:
ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ
جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں
، بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ
گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے
ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘
فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے
جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے
جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے
نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ
دعا کی): یا اللہ عزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی
حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاحضرت سَعَدبن خَولہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنہُ کے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت
ہوئے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:1 , حدیث نمبر:6)
5۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اﷲ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ
رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ عَنْ وَقْتِ الصَّلوٰۃِ فَلَمَّا دَلَکَتِ
الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلاَلٌ الظُّھْرَ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْعَصْرِ حِیْنَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْہُ فَأَمَرَہُ
رَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ
لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْعِشَآءِ حِیْنَ ذَھَبَ
بَیَاضُ النَّھَارِ وَ ھُوَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ
صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ
اَذَّنَ بِلاَلُ الْغَدَ لِلظُّھْرِ حِیْنَ دَلَکَتِ الشَّمْسُ
فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ ﷺ حَتّٰی صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیئٍ مِّثْلَیْہِ
فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲ ﷺ فَأَقَامَ وَ صَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ ﷺ حَتّٰی کَادَ یَغِیْبُ بِیَاضُ النَّھَارِ وَھُوَ الشَّفَقُ فِیْمَا یُرٰی
ثُمَّ اَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْعِشَاءِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ فَنُمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ثُمَّ خَرَجَ
إِلَیْنَارَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَقَالَ مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْتَظِرُ
ھٰذِہِ الصَّلوٰۃَ غَیْرُکُمْ فَاِنَّکُمْ فِيْ صَلوٰۃٍ مَاانْتَظَرْتُمُوْھَا
وَلَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِي لَاَمَرْتُ بِتَأخِیْرِ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃِ
إِلَی نِصْفِ الَّیْلِ اَوْ اَقْرَبَ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ
فَأَخَّرَھَا حَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَطْلُعَ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ
الصَّلوٰۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ، اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ۔ رَوَاہٗ
الطَّبرَانِيُّ فِی الْاَوْسَطِ وَ إسْنَادُہٗ حَسَنٌ مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ۔
ترجمہ
:حضرتِ جابر بن عبد اﷲرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔تو جب آفتاب ڈھل گیا تو بلال رضی
اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو
اس نے تکبیر کہی تو آپ نے نماز پڑھی اس نے عصر کی اذان اس وقت کہی جب کہ ہم نے
سمجھا کہ آدمی کاسایہ اس سے بڑھ گیا ہے ۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھی پھر
نماز مغرب کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب غروب ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے اسے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
نماز مغرب پڑھی ۔پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جبکہ دن کی سفیدی یعنی شفق جاتی رہی
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا۔ اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے نماز عشاء پڑھی پھر فجر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
نماز پڑھی پھر اگلے دن بلال رضی اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب ڈھل گیا۔
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے
برابر ہوگیا ۔اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیاتو اس نے تکبیر کہی
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے عصر کی اذان دی تو آپ
صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے دو مثل یعنی
دو گنا ہوگیا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر کیا (حکم دیا)تو اس نے تکبیر
کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے مغرب کی اذان اس
وقت دی جبکہ سورج غروب ہوگیا تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر
فرمائی کہ دن کی سفیدی غائب ہونے کے قریب ہوگئی اور وہ شفق ہے۔ پھر آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے نماز پڑھی پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جب شفق یعنی دن کی سفیدی غائب ہوگئی
پھر ہم سوگئے پھر جاگے ۔ کئی بار ایسا ہوا۔ پھر رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے
سوا کوئی آدمی اس نماز کا انتظار نہیں کررہا۔ پس تم نماز میں ہی ہو جب تک نماز کے
انتظار میں رہو۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں تاخیر کا حکم کرکے اپنی امت کو مشقت میں
ڈال دونگا تو اس نماز کو نصف شب یا قریب نصف شب تک تاخیر کا حکم دیتا ۔پھر انہوں
نے فجر کی اذان دی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ آفتاب
قریبِ طلوع تھا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر فرمایا تو انہوں نے تکبیر
کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز فجر پڑھی ۔ پھر فرمایا کہ وقت ان
دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ۔ ( مجمع الزوائد ۱/۳۰۴ ،معجم الاوسط ۷/۴۰ کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ )
Dawateislami