نبی
کریم ﷺ کی بعثت کا ایک عظیم مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیت تھا۔ آپ ﷺ نے جس انداز سے
انسانوں کے اخلاق، کردار، عقائد اور عبادات کو درست فرمایا، وہ انتہائی حکمت اور
دانائی پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ کی تربیت کے مختلف انداز تھے جن میں سے ایک مؤثر ترین
انداز "سوالیہ انداز" تھا۔ سوالیہ طرزِ مخاطب انسان کی توجہ کو مرکوز
کرتا ہے، سوچنے پر آمادہ کرتا ہے، اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ
اکثر اوقات سوال کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متوجہ فرماتے اور پھر ان کے
جوابات یا وضاحت کے ذریعے تعلیم دیتے۔ یہ انداز نہ صرف تربیت کے اصولوں پر مبنی
تھا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔
وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا
أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ
قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي
بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
(مرات المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 6( 4867)
ترجمہ
: روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا
میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا
ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے
مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ
مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ۔ ( مرات المناجیح شرح مشکوۃ
المصابیح جلد 6) حدیث نمبر(4832)
ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله
علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی
ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو
کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی،
ابن ماجہ)
رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک حکیمانہ اور
مؤثر تربیتی اسلوب تھا، جس کے ذریعے نہ صرف مخاطب کی توجہ حاصل کی جاتی بلکہ اس کی
سوچ، فہم اور شعور کو بیدار کیا جاتا۔ آپ ﷺ نے سوالات کے ذریعے نہ صرف تعلیم دی
بلکہ دلوں میں علم و حکمت کی شمع روشن کی۔ آج بھی اگر اس نبوی انداز کو اپنایا
جائے تو تعلیم و تربیت کے میدان میں بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انداز
ہمیں سکھاتا ہے کہ بات صرف معلومات دینے کی نہیں، بلکہ دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور
حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے کی ہونی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami