یوں
تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر بات ہر ادا ہر کام حکمت سے بھرپور ہے کہیں پر آقا
علیہ الصلوۃ والسلام کا اشارے سے تربیت فرمانا کہیں پر فرمان کے ذریعے تربیت
فرمانا کہیں پر تشبیہات کی تربیت فرمانا اور اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا
سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا احادیث مبارکہ میں ملتا ہے چنانچہ جن احادیث کریمہ میں اللہ کے آخری نبی محمد
عربی مکی مدنی ﷺ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ان کو ملاحظہ
کرتے ہیں:
1:کیا
تم جانتے ہو:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے
سوالیہ انداز سے پوچھا کہ جنت میں اور دوزخ میں کون سی چیز جلدی پہنچا دے آقا علیہ
الصلوۃ والسلام نے اس حوالے سے فرمایا: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ
مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ
وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز
زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ
لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔ (مراةالمناجیح
شرح مشکاۃالمصابیح باب: زبان کی حفاظت کا بیان اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر
:6 حدیث نمبر :4832)
2:خاموشی
اور اچھی عادت:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے خاموشی اور اچھی عادت کے حوالے سے سوالیہ
انداز سے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَعَنْ
أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا
ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ
وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ
الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے
قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (مراةالمناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح باب: زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر:6حدیث
نمبر :4867)
اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے ان احادیث مبارکہ میں جو کچھ پڑھا اور بیان کیا اور جو
کچھ سیکھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کے فرامین پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن جن چیزوں
کے بارے میں اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ان کو خود
سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الکریم ﷺ
Dawateislami