پیارے پیارے اسلام بھائیو! اللہ پاک کے پیارے آخری نبی محمد عربی ﷺ  نے ہماری ہر طرح سے تربیت فرمائی کبھی اشارے کے ساتھ اور کبھی خط کھینچ کر تربیت فرمائی کبھی مثال کے ذریعے تربیت فرمائی اور کبھی سوالوں کے ذریعے تربیت فرمائی ۔آئیے چند احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُّدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ. قَالَ: ’’لَقَدْ سَاَلْتَ عَنْ عَظِيْـمٍ وَّاِنَّهٗ لَيَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ؛ تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَّتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَـيْتَ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَااَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ؛ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَّالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.‘‘ ثُمَّ تَلَا: ’’ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‘‘ حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ ‘‘. ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِهٖ‘‘ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! قَالَ: ’’رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُهٗ اَلصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهٖ اَلْجِهَادُ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّهٖ‘‘ قُلْتُ:بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم !. فَاَخَذَ بِلِسَانِهٖ. ثُمَّ قَالَ: ’’ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا.‘‘ قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللهِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ فَقَالَ: ’’ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ؛ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰى وُجُوهِهِمْ. اَوْ قَالَ: عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ.‘‘

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور آگ (جہنم) سے دور کردے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے بےشک وہ اسی پر آسان ہے جس کے لئے اللہ پاک آسان فرمادے۔ (وہ یہ ہے)تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے یہ آیات مبارکہ تلاوت فرمائیں:تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پ ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)ترجمہ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔

پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ ارشادفرمایا: ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نماز اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں۔ آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’اسے قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی۔(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (جامع ترمذی میں) روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)(اربعین نوویہ , حدیث نمبر:29)

(2)پہلوان کون ہے: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ:لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًاقَالَ:فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: «لَيْسَ بِذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ رقوب کا کیا معنی سمجھتے ہو ہم نے عرض کیا جو شخص لاولد ہو آپ نے فرمایا یہ رقوب نہیں ہے رقوب وہ شخص ہے جس نے (آخرت میں پیشوائی کے لیے )پہلے اولاد کو نہ بھیجا ہو آپ نے فرمایا تم پہلوان کسے کہتے ہو ہم نے کہا جس کو لوگ بچھاڑ نہ سکیں آپ نے فرمایا وہ پہلوان نہیں پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے اپ کو قابو میں رکھ سکے۔(مسلم شریف ،کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب وبای شیء یذھب الغضب، جلد 2، الحدیث 6641،)

(3)تم نے اس پر بہتان لگایا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا :کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے عرض کی گئی :اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:(غیبت یہ ہے کہ)تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذکرکرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اگر وہ بات اس میں موجود ہو توفرمایا :جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔(مسلم شریف کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب تحریم الغیبۃ ، جلد 2 حدیث نمبر 6593،)

( 4)وارث کا مال کیا ہے: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أخر رَوَاهُ البُخَارِيّ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میں کون ہے، جسے اپنے وارث کامال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی نہیں مگر اسے اپنا مال ہی زیادہ پیارا ہے، اپنے وارث کے مال سے فرمایا تو اس کا مال وہ ہے جو آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جاوے ۔(بخاری)(مشکاۃ المصابیح (مترجم) کتاب الرقاق ،الفصل الاول ، جلد 7، حدیث نمبر 4937، )

(5) درگُزر کرنے والے پر آگ حرام ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ تَحْرُمُ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ ليِّنٍ سَهْلٍ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 , حدیث نمبر:642 )

اللہ پاک سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ