نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اَصحاب رَضِیَ اللہُ
عنہم اجمعین قیامت تک
کے لئے تمام لوگوں کے لئے روشن ستاروں کی مانند ہیں ،جیسا کہ خود آپ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرمان
کا خلاصہ ہے:میرے اَصحاب ستاروں کی مانند ہیں،انہی میں سے روشن و تابندہ ہستی خلیفۃ
المسلمین،خلیفہ ثانی، یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ بھی ہیں۔ آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ کی شان کے کیا
کہنے!خودقرآن اور صاحبِ قرآن نے آپ کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ وہ ہستی ہیں، جن
کی مدح سرائی تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ
عنہم نے فرمائی ہے۔
آئیے!حصولِ برکت کے لئے شانِ صدیقِ اکبر ،مولا علی شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ
عنہ کی زبانی سنتی ہیں:صحابہ
میں سب سے افضل:امیر المؤمنین حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا:ہم سب
صحابہ میں حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ سب سے افضل ہیں۔(الریاض النضرہ،1/ 138)سبحان
اللہ!قربان جائیے!
شانِ صدیقِ اکبر پر کہ آپ افضل البشر بعد الانبیاء ہیں۔ہر نیک کام میں
سبقت:حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ فرماتے ہیں:اس
ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!میں نے جس کام میں بھی سبقت کا ارادہ
کیا،اس میں حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ
عنہ مجھ سے سبقت لے
گئے ۔(مجمع الزوائد، 9/ 29، حدیث 14332)محبتِ صدیقِ اکبر کا انعام:حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ فرماتے ہیں:جس
نے حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ سے محبت کی، قیامت کے دن وہ انہی کے ساتھ کھڑا ہوگا اور وہ
جہاں تشریف لے جائیں گے، وہ بھی انہی کے ساتھ جائے گا۔(کنزالعمال،7/6،حدیث36094)صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کا دل بہت مضبوط ہے: حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ نے برسر ِمنبر
فرمایا:حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ کا دل بہت مضبوط
ہے۔ (الریاض
النضرہ،1/139)سب سے
پہلے خلیفہ صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ:حضرت علی رَضِیَ اللہُ
عنہ نے ارشاد
فرمایا:غور سے سن لو! ہم نے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ کو ہی خلافت کا
اہل سمجھا۔(مستدرک ، 4/ 27، حدیث :4519)الزام تراشوں والی سزا:حضرت علی المرتضیٰٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے ارشاد
فرمایا:جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ
عنہما سے افضل کہے گا
تو میں اس کو مفتری کی(یعنی
تہمت لگانے والے کو دی جانے والی)سزا دوں گا۔(تاریخِ ابن
عساکر، 30/ 383)حضرت علی رَضِیَ اللہُ
عنہ بارگاہِ رسالت
میں حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ کے مقام و مرتبے
سے بخوبی آگاہ تھے، جبھی تو فرماتے ہیں:میں صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کی تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں۔الغرض فرمانِ مولیٰ
علی سے شانِ صدیقِ اکبر خوب ظاہر ہوتی ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ وہ ارفع و اعلیٰ شخصیت کے مالک ہیں جن کی عظمت کے قائل
تمام ہی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم اور خود سردارِ اولیا آپ کی شان کے قائل ہیں۔سبھی اَصحاب
سے بڑھ کر مقرب ذات ہے ان کی ،رفیقِ سرورِ اَرض و سَما صدیقِ اکبر ہیں۔اللہ پاک ہمیں
فیضانِ صدیقِ اکبر سے مالامال فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کےسب سے
پہلے خلیفہ ہیں۔ اسلام میں آپ کا درجہ اور مرتبہ بہت ہی بلند ہے۔حضرت صدیقِ اکبر
کے ایثار پر اللہ پاک کی خوشنودی:حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ تمام اصحابِ
رسول میں سب سے زیادہ سخی تھے، اللہ پاک کا ارشاد ہے:ترجمۂ کنزالایمان:اور
عنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ
اسے پاکیزگی ملے۔مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت آپ ہی کی شان میں نازل ہوئی۔(تاریخ الخلفاء/ 157)حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ کی شان میں حضرت
حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ عنہ کے اشعار:ابنِ سعید نے زہری سے روایت کیا:رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ
اللہُ عنہ سے فرمایا:تم نے
حضرت ابوبکر(رَضِیَ اللہُ عنہ) کی شان
میں بھی کچھ کہا ہے؟انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:سناؤ!تو حضرت حسان بن
ثابت رَضِیَ اللہُ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:و
ثانی اثنین فی الغارِ المنیف قد طاف عدو بہ اذ صعد الجبلا یعنی حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ
عنہ حضرت رسالتِ مآب
صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے یارِ
غار ہیں۔ جب آپ پہاڑ پر چڑھتے ہیں تو دشمن بھاگ جاتا ہے۔وکان
حب رسولُ اللّٰہِ قد علموا من البریہ لم یعدل بہ رجلا تمام لوگ جانتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ان کو کتنی محبت ہے۔ آپ کو اتنی محبت کسی سے بھی نہیں
ہوئی۔ان اشعار کو سُن کر رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تبسم
فرمایا اور حضرت انس نے فرمایا: اے حسان! تم نے سچ کہا۔(تاریخ الخلفاء/ 168) شانِ صدیقِ اکبر بزبانِ حیدرِکرار:جنت کا اجازت نامہ:ایک
بار حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ اور حضرت مولا علی،شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ
عنہ کی ملاقات ہوئی
تو حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ حضرت مولیٰ علی رَضِیَ
اللہُ عنہ کو دیکھ کر
مسکرانے لگے۔حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے پوچھا:آپ
کیوں مسکرا رہے ہیں؟حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ
عنہ نے فرمایا:میں
نے رسولُ
اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : پُلِ صراط سے وہی گزرے گا جس کو علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ تحریری اجازت
نامہ دیں گے۔یہ سن کر حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ بھی مسکرا دئیے
اور کہنے لگے:میں آپ کو رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف
سے آپ کے لئے بیان کردہ خوشخبری نہ سناؤں؟ رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:پُلِ صراط سے گزرنے کا تحریری اجازت نامہ صرف اُسی کو ملے گا، جو حضرت ابوبکر
رَضِیَ اللہُ عنہ سے محبت کرنے والا
ہوگا۔(الریاض
النضرہ،1/201)اللہ!میرا حشر ہو بوبکر اورعمر،عثمانِ غنی و حضرت مولیٰ علی کے
ساتھ۔حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ کے ارشادات:٭جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر رَضِیَ
اللہُ عنہما سے افضل
کہے تو میں اس کو مفتری کی(یعنی بہتان لگانے والے کو دی جانے والی سزا)دوں گا۔(تاریخِ ابنِ عساکر،30/383)٭اس اُمّت میں نبی صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد
سب سے بہتر (حضرت) ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ
عنہما ہیں۔(تاریخِ ابن ِعساکر،30/346 ملتقظاً)٭امام ذہبی رحمۃُ اللہِ علیہنے فرمایا:یہ قول حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ سے تواتر سے
منقول ہے۔(تاریخ الخلفاء،ص
34) ٭حضرت
ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ شکر کرنے والوں
اور اللہ
پاک کے پسندیدہ بندوں کے امین ہیں، آپ ان سب سے زیادہ شکر کرنے والے اور سب
سے زیادہ اللہ
پاک کے پسندیدہ ہیں۔(تفسیرطبری، پ4، ال ِعمران، تحت الآیۃ: 3،144/455)٭ہم میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکر رَضِیَ
اللہُ عنہ ہی ہیں۔(مسند بزار3/14، حدیث: 761)٭یاد رکھو! وہ(یعنی حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ
عنہ) انسانوں میں سب سے زیادہ رحم دل، نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے یارِ
غار اور اپنے مال سے حضور صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں۔(الریاض النضرۃ،1/138)٭ہم سب صحابہ میں حضرت ابوبکر رَضِیَ
اللہُ عنہ سب سے افضل ہیں۔(الریاض النضرہ،1/138)٭حضرت علی رَضِیَ اللہُ
عنہ نے قسم کھا کر
ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے حضرت ابوبکر رَضِیَ
اللہُ عنہ کا نام صدیق آسمان
سے نازل فرمایا۔(معجم
کبیر ،1/55،حدیث:14)
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابہ ہی مقتدیٰ بہٖ(یعنی جن کی پیروی کی جائے)، ستاروں کی مانند اور شمعِ رسالت کے پروانے ہیں،لیکن حضرت صدیقِ
اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں
جو انبیائے کرام علیہمُ السلام کے بعد مخلوق میں سب سے افضل ہیں، جو محبوبِ خدا ہیں، جو عتیق بھی ہیں،صدیق
بھی ہیں، صادق بھی ہیں اورصدیقِ اکبر بھی ہیں۔جن کے والدین صحابی، اولاد صحابی،
اولاد کی اولاد بھی صحابی ہے۔صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس۔ یہ ان کی کتابِ زندگی
کا عنوان تھا، وہ شخصیت جن کے فضائل کلامُ اللہ اور احادیثِ مبارکہ میں آئے ہیں۔خود
صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم اور اسلاف رحمۃُ اللہِ علیہم بھی جن کے فضائل
بیان کریں انہی صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ
عنہ کی شان جن کی
زبانی پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گی وہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت مولا مشکل کشا ،علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ کی ذاتِ بابرکت
ہے۔
بیاں ہو کس زباں
سے مرتبہ صدیقِ اکبر کا ہے
یار ِغار ِمحبوبِ خدا صدیقِ اکبر کا
چار باتوں میں سبقت:حضرت علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: بلا شبہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ ان چار باتوں میں مجھ سےسبقت لے گئے:(1)انہوں نے مجھ سے
پہلے اظہار اسلام کیا(2)مجھ سے پہلے ہجرت کی(3)رسولِ پاکصلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کےیارِ
غار ہونے کا شرف پایا اور (4) سب سے پہلے نماز قائم فرمائی۔(فیضانِ صدیقِ اکبر، ص657 بحوالہ الریاض النضرۃ، 89/1،
تاریخ ابنِ عساکر، 291/30)تمام نیکیوں میں سے ایک نیکی:حضرت علی
المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:میں تو حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ کی تمام نیکیوں
میں سے صرف ایک نیکی ہوں۔(فیضانِ صدیقِ اکبر، ص657 بحوالہ تاریخِ ابن عساکر،383/30، کنز العمال، جز:12،
6/224،حدیث:35631) صدیقِ
اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ سے محبت کا انعام:حضرت علی المرتضیٰ، شیرِ خدا رَضِیَ
اللہُ عنہ ارشاد فرماتے
ہیں: جس نے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ سے محبت
کی،قیامت کے دن وہ ان ہی کے ساتھ کھڑا ہوگااور جہا ں وہ تشریف لے جائیں گے وہ بھی
ان ہی کے ساتھ ساتھ جائے گا۔(فیضانِ صدیقِ اکبر،ص656 بحوالہ کنزالعمال، جز:13، 6/7،حدیث:36096، تاریخ ابن
عساکر، 128/39) سب
سےزیادہ معزز شخصیت:حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ فرماتے ہیں:اس اُمت
میں اللہ
پاک کے محبوب، دانائے غیوب صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کے بعد اللہ پاک کے نزدیک سب سے زیادہ معزز صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ ہیں اور ان کا
رتبہ سب سے زیادہ بلند ہے کیونکہ انہوں نے رسولُ اللہصلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد
سب سے پہلے قرآنِ مجید،فرقانِ حمید کو جمع کرنا شروع کیا ،نیز رسولُ اللہصلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دین
کو اس کی قدیم حسن و خوبیوں کے ساتھ قائم فرمایا۔(فیضانِ صدیقِ اکبر،ص661 بحوالہ جمع الجوامع، 1/39، حدیث:
158) پُلِ صراط سے
گزرنے کا اجازت نامہ:ایک بارحضرت ابوبکر
صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللہُ عنہ کی ملاقات ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ حضرت علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللہُ عنہ کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے پوچھا: آپ
کیوں مسکرا رہے ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا: میں
نے رسولُ
اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے سنا:پُلِ صراط سے وہ ہی گزرے گا جس کو علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللہُ عنہ تحریری اجازت نامہ دیں گے۔ یہ سن کر حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ بھی مسکرادئیے
اور عرض کرنے لگے: کیا میں آپ کو رسولُ اللہصلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف
سے آپ کے لیے بیان کردہ خوشخبری نہ سناؤں؟ رسولُ اللہصلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا:پُلِ صراط سے گزرنے کا تحریری اجازت نامہ صرف اسی کو ملے گا جو حضرت ابو
بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ سے محبت کرنے والا ہوگا۔(فیضانِ صدیقِ اکبر، ص666 بحوالہ الریاض النضرۃ،1/207) بہتان لگانے والے کی سزا:حضرت علی المرتضیٰ، شیرِ خدا رَضِیَ
اللہُ عنہ نے ارشاد
فرمایا: جو شخص مجھے حضرت ابو بکر و عمر رَضِیَ
اللہُ عنہما پر فضیلت
دے گا میں اس کو مُفتری(یعنی
بہتان لگانے والے) کی سزا
دوں گا۔(فیضانِ صدیقِ اکبر،
ص659 بحوالہ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 3/99، تاریخِ ابنِ عساکر، 365/44)اللہ
پاک کی ان پر رحمت
ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
محمدِ مصطفے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے یارِ غار، مسلمانوں کے پہلے خلیفہ،امیر المؤمنین حضرت صدیقِ
اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کا نامِ مبارک عبداللہ، کنیت ابو بکر اور صدیق و عتیق القاب ہیں۔صدیق کا معنی ہے:بہت زیادہ سچا۔ آپ
زمانۂ جاہلیت میں ہی اس لقب سے مشہور ہو گئے تھے، کیونکہ آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ جبکہ عتیق کا
معنی ہےآزاد۔آپ قریشی ہیں اور ساتویں پشت میں شجرۂ نسب رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے
خاندانی شجرے سے مل جاتا ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ
عنہ عامُ الفیل کے
تقریباً اڑھائی سال بعد مکے شریف میں پیدا ہوئے۔زبانِ جبرائیل سے صدیق:حضرت نزال بن سبرہ رَضِیَ
اللہُ عنہ سے روایت
ہے،فرماتے ہیں:ہم لوگ حضرت علی المرتضیٰ، شیرِخدا
رَضِیَ
اللہُ عنہ کے ساتھ کھڑے
ہوئے تھے اور وہ خوش طبعی فرما رہے تھے۔ ہم نے ان سے عرض کی:اپنے دوستوں کے بارے
میں کچھ ارشادفرمایئے۔فرمایا: رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تمام
اصحاب میرے دوست ہیں۔ہم نے عرض کی: حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ کے بارے میں بتایئے۔فرمایا: ان کے تو کیا
کہنے!یہ تو وہ شخصیت ہیں جن کا نام اللہ پاک نے جبریلِ امین اور پیارے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زبان
سے صدیق رکھا ہے۔ (مستدرک،4/4،حدیث:
4462)بہادر اور جرأت
مند:حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے خطبہ دیتے
ہوئے ارشاد فرمایا:غزوہ ٔبدر کے روز ہم نے دو عالم کے مالک ومختار صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت
اور نگہداشت کے لئے ایک سائبان بنایا، تا
کہ کوئی کافر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر حملہ کر کے تکلیف نہ پہنچا سکے، اللہ پاک
کی قسم! ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا،صرف حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے آگے تشریف لائے اور نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس
کھڑے ہو گئے ،پھر کسی کافر کی جرأت نہ ہو سکی کہ آپ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قریب
بھی بھٹکے۔اس لئے ہم میں سب سے زیادہ بہادر حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ ہی ہیں۔(کنزالعمال، الجزء: 12، 6/ 235،حدیث: 35685)حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ کا شجاعت و
بہادری میں کوئی ثانی نہیں، آپ رتبہ و مقام میں تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ
عنہم میں سب سے زیادہ
فضیلت والے ہیں۔ آپ کی رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت
اور احترام کی کوئی مثال نہیں۔ آپ ہر طرح
کے مصائب میں رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے۔ہجرت کے رفیقِ سفر:حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ سے روایت ہے :حضرت جبریلِ امین علیہِ
السَّلام نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس
حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پوچھا:میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟ عرض کی:یا رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم!
آپ کے ساتھ حضرت ابو
بکر رَضِیَ اللہُ عنہ ہجرت کریں گے اور وہ صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ ہیں۔وصال
شریف:عاشقِ اکبر حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ
عنہ 22 جمادی
الاخریٰ،سن 13 ہجری،بروز پیر شریف،63سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔(سنن کبری للبھیقی،3/557، حدیث: 6663) بوقتِ وفات زبانِ مبارک پر آخری کلمات یہ تھے:اے
پروردگار!مجھے اسلام پر موت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ (الریاض النضرۃ، 1/258)اللہ
پاک ہمیں بھی نیک
ہدایت عطا فرمائے اور عاشقانِ رسول کے صدقے ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہ معاف فرما
دے۔ اٰمین
بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
یارِ غارویارِ مزار حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ
اللہُ عنہ ایسےصحابی رسول ہیں
جن سے مولا علی رَضِیَ اللہُ عنہ کو والہانہ محبت تھی۔ حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ نے بذاتِ خود
شانِ صدیقِ اکبر کو بیان فرمایا ہے،چنانچہ حضرت علی، حیدرِ کرار رَضِیَ اللہُ
عنہ فرماتے ہیں:خیرُ
ھٰذہ الاُمَّۃِ بعد نبیھا ابو بکر ثم عمریعنی اس اُمّت میں،اس اُمّت کے نبی کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر رَضِیَ
اللہُ عنہما ۔(مسندامام احمد ، 1/
106، مقام صدیقِ اکبر،ص 59)معلوم ہوا!حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ
عنہ بھی حضرت صدیقِ
اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کے سب سے افضل ہونے کے قائل تھے۔حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ نے منبر پر خطبہ
ارشاد فرمایا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا:مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر
و عمر رَضِیَ اللہُ عنہما پر فضیلت دے رہے ہیں!اگر میں اس معاملے میں مقدم ہوں تو
سزا کا حق دار ہوں،تقدیم سے پہلے مجھے سزا نا پسند ہے،(جس نے مجھے حضرت صدیقِ
اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ پر فضیلت دی،جس نے ایسا کہا)وہ جھوٹا ہے۔اس کو وہی سزا دی جائے گی جو جھوٹے کو دی جاتی
ہے۔رسولُ
اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سے بہتر حضرت ابوبکر پھر عمر رَضِیَ
اللہُ عنہما ہیں۔(مقامِ صدیقِ اکبر،ص71- فضائلِ صحابہ لامام احمد ،1/633)معلوم ہوا!جب حضرت علی رَضِیَ
اللہُ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ پر فضیلت دی گئی
تو آپ کا منبر پر جلوہ افروز ہو کر غم و غصّے کا اعلان کرنا کوئی عام بات نہ تھی۔آپ
کا مبارک انداز بتا رہا ہے کہ یہ مسئلہ کئی مسائل سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ نہ صرف آپ نے افضل کہنے والوں کا ردّ فرمایا،
بلکہ انہیں جھوٹا قرار دے کر سزا کا حق دار بھی بتایا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہو
جاتی،حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ اپنی زبانِ مبارک سے شانِ صدیق بیان فرما رہے ہیں کہ ہمیں
اس بات کا یقین ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ
اللہُ عنہ ہی رسولُ اللہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد
زیادہ حق دار ہیں،وہ غار کے ساتھی اور دو میں سے دوسرے ہیں۔نیز ہم ان کی بزرگی اور بڑائی کے قائل ہیں۔رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں انہی کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔(مستدرک ، 3/ 64-سنن
کبری للبیہقی، 8/151-مقام صدیقِ اکبر،ص 76)معلوم ہوا!حضرت مولیٰ علی رَضِیَ
اللہُ عنہ والہانہ محبت
بھرے انداز میں حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ
عنہ کی مدح و
ستائش،عظمت و رفعت،منزلت و مر تبت اور امتیازی خصوصیات کو بیان فرمایا،نیز اپنے کلام کو مضبوط کیا کہ انکار کی گنجائش نہ
رہی۔اللہ
پاک ہمیں بھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ
عنہم سے محبت کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔ہر صحابیِ
نبی ،جنتی جنتی،صدیق و عمر جنتی جنتی
وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی
اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ۔
ترجمۂ
کنزالایمان:اوراللہ کی طرف توبہ کرو ،اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح
پاؤ۔ (پ18،
النور:31)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ
ترجمۂ
کنزالایمان:اے ایمان والو!اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔ (پ28،التحریم:8)
سرورِ
عالَم، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا:اَلتَّائِبُ
مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَہٗ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا
ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الشہادات ، باب شہادۃ
القاذف، ۱۰/ ۲۵۹،
حدیث:۲۰۵۶۱)
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے:’’اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یُحِبُّ
الشَّابَّ التَّائِبَ “ یعنی جوانی میں توبہ کرنے والا شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب ہے۔
(کنز العُمّال،
کتاب التوبۃ، الفصل الاول فی الخ، الجزء۴، ۳/۸۷،حدیث:۱۰۱۸۱)
امیر
اہلسنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ ہر ہفتے عاشقان
رسول کو موقع مناسبت سے ہفتہ وار رسائل پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلاتے ہیں اور پڑھنے
/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نواز تے ہیں۔اس ہفتے امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ
نے اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسن سلوک
کرنے، ان کی غیبتوں سے بچنے، کسی کے حقوق تلف کرنے اور اللہ پاک کے خوف سے ڈرانے
کے لئے رسالہ ”دو گُدڑیوں والا“ پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی دعاؤں
سے نوازا ہے۔
دعائےعطار
یا
اللہ پاک ! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ ”دو گُدڑیوں والا“ پڑھ یا سن لے اُسے ہمیشہ نیکیاں کرنے، نیکیاں کروانے، گناہوں سے
بچنے اور دوسرے کو بچانے کی سعادت عطا فرماکر بے حساب مغفرت سے نواز دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے
رسالہ
آڈیو میں سننے کے لئے کلک کریں
شعبہ جامعۃالمدینہ و مدرسۃ المدینہ اور فیضان مدینہ
رینوویشن کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ
پنجاب پاکستان کے شہر فیصل آباد میں قائم مدنی مرکز فیضان مدینہ میں دعوت
اسلامی کے تحت مدنی مشورے کا انعقاد ہوا
جس میں جامعۃالمدینہ(
بوائز ، گرلز ) ، مدرسۃ المدینہ ( بوائز
، گرلز ) اور فیضان مدینہ رینوویشن کے ذمہ داراسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
اس مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن
ونگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہدعطاری نے جامعۃالمدینہ(
بوائز ، گرلز ) اور مدرسۃ المدینہ ( بوائز ، گرلز ) کے طلبہ
وطالبات کو ضروری سہولیات دینے کے حوالے سے مدنی پھول ارشاد فرمائے ۔
اس کے علاوہ نگران پاکستان مشاورت نے جامعۃالمدینہ
ومدرسۃ المدینہ اور فیضان مدینہ کو رول ماڈل بنانے اور ان کوجلد از جلد پائے تکمیل تک پہچانے کاذہن۔
اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین حاجی
محمد اسد عطاری مدنی ، حاجی جنید عطاری مدنی اور نگران ِ شعبہ جات سمیت دیگر اہم
ذمہ داران موجود تھے۔( کانٹینٹ: غیاث
الدین عطاری)
ضلع لودھراں
میں چیف آفیسرضلع کونسل ملک سعیداحمد سمیت دیگر شخصیات سے ملاقات
دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کےتحت
4 جنوری 2022ء بروز منگل ذمہ دارااسلامی بھائیوں نے دینی کاموں کے سلسلے میں ضلع لودھراں میں چیف آفیسرضلع کونسل ملک سعیداحمد، سپرنڈنٹ
ملک محمداقبال خان جوئیہ اور ہیڈکلرک ملک محمدنوازصابر سمیت دیگر شخصیات سے ملاقات
کی۔
اس دوران ذمہ داران نے دعوتِ اسلامی کی جانب سے
ہونے والی دینی و فلاحی خدمات کے بارے میں بتاتے ہوئے ضلع کونسل ہال میں منعقدہونے
والے سنتوں بھرے اجتماع کی اجازت اور انتظامی امور کے حوالے سے میٹنگ کی جس پر
شخصیات نے اپنی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات، کانٹینٹ: غیاث الدین عطاری)
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ بالعلماء
کے لاہور ڈویژن ذمہ داران نے عاشقانِ رسول کی دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ کا وزٹ کیا
جہاں انہوں نے میں مہتم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی صاحب اور مفتی عمران حنفی قادری صاحب سے ملاقات کی۔
ذمہ داران نے انہیں کنزالمدارس بورڈ دعوتِ اسلامی
کے نصابِ تعلیم اور نظامِ امتحانات کا مختصر تعرف پیش کرتے ہوئے’’کنزالمدارس
بورڈ پاکستان‘‘ کتاب تحفے میں دی جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی علمی خدمات
کو سراہتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ بالعلماء، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے تحت کراچی کے علاقےملیر
ڈسٹرکٹ 2 میں مشورے کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبے کے ذمہ داران نے کثیر
تعداد میں شرکت کی۔
اس مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن
حاجی محمد امین عطاری نے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی
اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کو احسن انداز میں
کرنے کا ذہن دیا۔اس موقع پر رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی امین قافلہ عطاری سمیت
دیگر اہم ذمہ داران بھی موجود تھے۔(
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
گزشتہ دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضانِ آن لائن
اکیڈمی کے تحت ستیانہ روڈ پر قائم مین برانچ میں مدنی
مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں ایڈمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کی شرکت ہوئی۔
رکن شعبہ غلام الیاس عطاری مدنی نے مدنی مشورے
میں شریک اسلامی بھائیوں کی تربیت کرتے ہوئے Skill Enhancement and Feedback System پر کلام کیا۔
اس کے علاوہ ذمہ دار نے اسلامی بھائیوں سے گفتگو
کرتے ہوئے professional customer
service tips کو Followکرنے کے مفید نکات بتائے۔اس موقع پر رکنِ شعبہ سلمان عطاری بھی موجود تھے۔(رپورٹ:شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ملتان میں ناظمینِ اعلیٰ ، مفتشین اور تعلیمی
ذمہ داران کے درمیان مدنی مشورہ
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ جامعۃ المدینہ
بوائز کے تحت نگرانِ شعبہ مولانا ظفر بشیر عطاری مدنی نے
دینی کاموں کے سلسلے میں ملتان ریجن کا دورہ کیا جس دوران انہوں نے مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ ملتان میں ناظمینِ اعلیٰ، مفتشین اور تعلیمی ذمہ داران کے
درمیان مدنی مشورے کا انعقاد کیا۔
اس مدنی مشورے میں نگرانِ شعبہ نے ذمہ داران کی تعلیمی
، تنظیمی ، اخلاقی اور انتظامی اعتبار سے
تربیت کرتے ہوئےموجودہ تعلیمی کیفیت کا جائزہ لیا اور مزید تعلیمی معیار و رزلٹ کو
بہتر بنانے کے حوالے سے ذہن سازی کی۔اس کے علاوہ انتظامی معاملات کے حوالے سے بھی
مدنی پھول دیئے۔(رپورٹ:محمد امیرحمزہ
عطاری پروجیکٹ منیجرآئی ٹی ڈیپارٹمنٹ آف جامعۃ المدینہ بوائزپاکستان، کانٹینٹ: غیاث
الدین عطاری)
Dawateislami