نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے۔خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے۔نئے سال کی آمد پر جہاں گزشتہ سال ہونے والی غلطیوں کا جائزہ لے کر ان سے بچنے کا عزم کیا جاتا ہے، وہیں نئے سال کے ارادے بھی باندھے جاتے ہیں جنہیں عرفِ عام میں

New year resolutionکہا جاتا ہے۔ سال 2022 بلکہ تمام ہی عمر گزارنے میں سب سے بنیادی چیز جس کو ہمیں ہر لمحہ ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے، وہ ہمارا مقصدِ حیات ہے۔ارشادِ باری ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(27،الذّریٰت:56)ترجمۂ کنز العرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔لہٰذا عبادتِ الٰہی ہماری سب سے اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ نماز کا وقت آنے پر ہر کام موقوف کرکے نماز ادا کرنے کا پکا ارادہ کرلیجئے۔ اسی طرح دیگر فرائض و واجبات کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کا عزم کیجئے۔ منظّم رہنے کی عادت اپنائیے کیونکہ آرگنائز رہنے کی صورت میں ہی آپ اپنے کاموں کو پائے تکمیل تک پہنچاسکتی ہیں۔ لہٰذا اپنی زندگی میں ترتیب لائیے،سستی کو دور بھگائیے اور ہر کام وقت پر انجام دیجیے۔ہوسکے تو اپنا ٹائم ٹیبل/ شیڈول بنائیے اور پھر سختی سے اس پر عمل پیرا رہئے۔ ایسے کاموں سے خود کو بچائیے جن کا حاصل وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہ ہومثلاً بلاضرورت انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز پر گھنٹوں صرف کرنا، فضول بحثوں اور بے فائدہ گپ شپ میں مصروف رہنا وغیرہ۔ زندگی اور موت کا کوئی بھروسا نہیں لہٰذا اپنی آخرت کو ہرگز فراموش نہ کیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت کے سبب آخرت میں پچھتانا پڑے۔ اس لئے دنیا کی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے خدانخواستہ اگر قضا نمازیں یا روزے ہوں تو جلد از جلد ادا کرلیجیے۔ فرض ہونے کی صورت میں زکوٰة/حج ادا کیجئے۔ حقوق العباد تلف ہوئے ہوں تو معافی تلافی، صلح صفائی میں دیر نہ کیجیے۔علمِ دین حاصل کرنے کیلئے وقت نکالیے۔قرآنِ کریم اگر درست نہیں پڑھا تو اس سال تو یہ اہم ترین کام کرہی لیجیے۔ اس کیلئے دعوت اسلامی کے تحت اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ یا فیضان آن لائن اکیڈمی میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی فرض علوم حاصل کرنے میں بھی سستی نہ کیجیے۔ مزید مکتبۃ المدینہ سے جاری کردہ دینی کتب و رسائل پڑھنےاور بیانات سننے کا بھی معمول بنائیے۔ حدیثِ پاک میں ہے: تم میں اچھے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔( بخاری،2 /489 ،حدیث: 3559)لہٰذا گھر والوں سمیت تمام لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آئیے اور اس کے دینی و دنیاوی فوائد حاصل کیجیے۔ غصہ کنٹرول کرنے اور برداشت پیدا کرنے میں کامیابی پانے کیلئے کوشش جاری رکھئے۔ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی عادت بنائیے اور مسلسل اپنی اصلاح میں مصروف رہئے۔ اس کیلئے امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے عطا کردہ نیک اعمال کا رسالہ فِل کرنا نہایت مفید ہے۔ مثل ِمشہور ہے:جان ہے تو جہان ہے۔ اس لئے اپنی صحت کا خیال رکھیے اور صحت بخش غذاؤں،پھلوں اور سبزیوں کا مناسب مقدار میں استعمال کیجیے۔بازاری کھانوں،فاسٹ فوڈزاورمٹھائیوں وغیرہ کا استعمال جتنا ہوسکے، کم کردیجئے۔روزانہ کچھ نہ کچھ ورزش، اگرچہ چہل قدمی ہی ہو، اپنے معمولات میں شامل رکھئے۔ربِّ کریم سال 2022 کو ہمارے لئے امن و عافیت،خوشیوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہمیں اپنی رضا والی زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


اس دنیائے فانی میں انسان کے لئے سب سے بڑا نقصان گناہ کی طرف مائل ہونا اور گناہ کرنا ہے اور اس سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گناہ ہو جانے کے بعد اِس بات کا احساس تک نہ ہونا ہے کہ ہم سے گناہ کا اِرتکاب ہوا ہے اور یہ بھی سوچ نہیں آتی کہ اگر گناہ کرنے سے ہمارا ربّ کریم ناراض ہو گیا اور ہم عذابِ الٰہی کی مستحق ہوئیں تو ہمارا کیا بنے گا۔۔۔؟؟افسوس ! ہمارے شب و روز غفلت میں گزرتے چلے جا رہے ہیں اور ہم موت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں یہی ایک زندگی دی گئی ہے،جس میں رہ کر ہمیں آخرت کی تیاری کرنی ہے۔ رضائے الہٰی و رضائے رسول  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لئے ہمارا سب سے بڑا مقصد اللہ پاک اور رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہئے، کیونکہ جس سے اللہ پاک اور آخری نبی،محمد عربی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم راضی ہو گئے، اُس کا تو بیڑا پار ہے۔آئیے! نیت کرتی ہیں کہ سال 2022 میں ان شاءاللہ اللہ پاک اور پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا کے لئے گناہوں سے خود کو بچانے، نفسانی خواہشات سے بچنے اور اپنے آپ کو نیکیوں کی طرف راغب کرنے کی بھر پور کوشش کریں گی۔ اپنا محاسبہ کریں:یعنی دیکھیں کہ پچھلے سال ہم نے اپنا وقت نیکیوں میں گزارا یا گناہوں میں؟ ہماری ایسی کونسی عادتیں ہیں جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، انہیں اس سال میں ختم کرنے کی کوشش کریں اور پختہ عزم کریں کہ ان شاءاللہ اس سال میں گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کو مزید بڑھانے کی بھر پور کوشش کریں گی۔وقت کی قدروقیمت کو سمجھئے:اس بات پر غور کیجئے کہ ہم نے زندگی کے اتنے سال بے معنیٰ و بے مقصد گزار دیئے، ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا، ہمیں تو ہر وقت نیکیاں کمانے کی حریص ہونا چاہئے، یہ سوچئے کہ ہماری زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا، ہماری منزل کس انجام کی طرف بڑھ رہی ہے ، اچھے یا بُرے؟؟؟حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلْوَقْتُ سَیْفُ قَاطِعْوقت وہ تلوار ہے، جو رُکتی نہیں، کاٹتی چلی جاتی ہے۔ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔

سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں۔اب یہ پختہ ارادہ کیجئے کہ ان شاءاللہ 2022 کو ہر طرح سے بہترین بنانے کی بھرپور کوشش کریں گی، ہر بُری عادت، گناہ، وقت کا ضیاع اور فضول کاموں سے خود کو بچا کر نیکی کی راہ کی طرف گامزن ہوں گی، اپنے مدنی مقصدمجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے کو مدِّنظر رکھتے ہوئے پہلے خود اپنی اصلاح کریں گی اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں گی اور بُرائی سے منع کریں گی، طالبات بھی یہ نیت کریں کہ 2022 میں ان شاءاللہ بہت لگن،محنت،دلچسپی اور ذوق و شوق سے علمِ دین حاصل کریں گی۔وہ وقت جسے ہم نے پہلے ضائع کردیا،اب اُس میں نیکی کریں گی اور نیکی کی دعوت دیں گی۔ان شاءاللہ ۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

عمل کا ہو جذبہ عطا یا الٰہی گناہوں سے مجھ کو بچا یا الٰہی


اسلامی تعلیمات میں نمایاں بات یہ ہے کہ ہر سال کی  ابتدا میں اللہ کریم کی بارگاہ سے دستِ سوال دراز کیا جاتا ہے ، ہمیں سال کی ابتدا اچھے طریقے سے کرنی چاہیے تاکہ پورا سال ہم پر برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں اور ہمارا سارا سال گناہوں سے بچتے ہوئے عبادتوں میں گزرے اور ہمارا یہ سال 2022 آنے والے تمام سابقہ سالوں سے بہترین انداز میں گزرے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ معاملات میں ان کاموں کو شامل کریں تاکہ ہمارا سال 2022 گناہوں سے دور نیکیوں میں گزرے ۔1۔پنج وقتہ نماز:نماز دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے ، اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ، قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے : وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ0(پ1،البقرہ : 43)نیز کئی اَحادیثِ نبوی میں بھی نماز کی تاکید آئی ہے۔تو آئیے! نیت کرلیتی ہیں کہ 2022 میں ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی ۔2۔تلاوتِ قرآنِ پاک:قرآنِ مجید اسلام کی بنیادی کتاب ہے۔تلاوتِ قرآن کی فضیلت احادیث کی روشنی میں واضح ہے:حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ (بخاری،3/410،حدیث:5027) ہمیں اولیائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے قرآنِ پاک کی تلاوت کو روزانہ کا معمول بنالینا چاہیے اور اس کا فیض حاصل کرنا چاہیے۔3۔درود شریف:محمدِ مصطفےٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدّس ذات پر دُرود شریف بھیجنا ایک مسلمان کے لئے بہت بڑی نعمت ، اعزاز اور خوش قسمتی کی بات ہے۔ درود شریف کی فضیلت احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے ، اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ (ابوداود،1/391،حدیث:1047)آئیے! نیت کرتی ہیں کہ 2022 میں درود شریف کی کثرت کریں گی ۔4۔دینی کتب کا مطالعہ:ہمیں 2022 میں دینی کتب کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے۔مطالعہ اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اللہ پاک نے اپنے سب سے پہلے پیغام میں فرمایا : اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ ۚترجمۂ کنزالایمان:پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔مطالعے کی بہت اہمیت ہے،دینی مطالعہ ذہنی و اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہے،مطالعہ کی عادت انسان کو بہت ساری بے فائدہ مصروفیات سے بچالیتی ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے:حصول ِعلم ہے ہر اک فعل سے بہتر۔دوست نہیں ہے کوئی کتاب سے بہتر۔اس کے علاوہ یہ بھی نیت کرلیتی ہیں کہ 2022 میں جھوٹ،غیبت،چغلی،وعدہ خلافی،گانے باجے،حسد،تکبر،ماں باپ کی نافرمانی ، رشتےداروں سے قطعِ تعلق ، نیز ہر صغیرہ کبیرہ گناہ سے بچیں گی ۔ذرا غور کیجئے! ایک سال میں 31،536،000 سیکنڈز ہوئے ، تو 2021 میں 31،536،000 سیکنڈز کا ہم نے کہاں استعمال کیا؟وقت مفت ہے لیکن یہ قیمتی ہے۔خیر ماضی تو گزر گیا آئیے! اب وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے نیت کرلیں کہ سال 2022 کو گناہوں سے بچتے ہوئے نیک کاموں میں گزاریں گی۔ایک مشہور مقولہ ہے:وقت کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کہ گیا وقت آپ کو دوبارہ وقت دے ۔آئیے!ہم نیت کرلیتی ہیں کہ اپنے وقت کو قیمتی جانتے ہوئے اس سال کو ایسے گزاریں گی کہ بروزِ قیامت اپنے اس وقت پر شرمندگی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔


الحمدُللہ!اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ احسان ہے جس نے ہمیں زندگی کے کچھ اور لمحات عطا کئے۔اللہ پاک نے ہمیں وقت عطا فرمایا ہے جس میں نیکیاں کر کے ہم اپنے ربّ کریم کو راضی کر لیں،جن میں ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ پاک کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔اللہُ اکبر 2021 گزر گیا اور 2021 کے گزرنے کا پتا بھی نہ چل سکا۔آہ! زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمیں موت سے قریب سے قریب تر کرتا چلا جا رہا ہے،لیکن دنیا کی رنگینیوں میں مَست ہو کر اپنی موت کو بھولے بیٹھی ہیں، آخرت کو بھولے بیٹھی ہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

حدیثِ مبارکہ میں ہے:لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو۔2022 کا آغاز ہو گیا، سب سے پہلے تو پہلی فرصت میں ہی اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ تمام گناہوں کو نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیجئے اور ان تمام گناہوں کے اسباب پر غور کریں اور ان سے بچنے کی کوشش کیجئے۔2022 کے آغاز کو گناہوں بھرا نہ گزاریں،سال کے آغاز میں ہی بہت ہی گناہوں بھرے کام کئے جاتے ہیں،جیسے نائٹ کلب میں پارٹی،آتش بازی وغیرہ وغیرہ کرکے نئے سال کاجشن منایا جا رہا ہوتا ہے۔ ہم اس بات پر تو غور کریں کہ آخر ہم کس بات کا جشن منا رہی ہیں؟ گناہوں کی اتنی کثرت ہو گئی، بے حیائی اتنی بڑھ گئی، 2021 میں ہم نے ایسا کیاکر لیا کہ ہم جشن منا رہی ہیں؟ غور تو کریں کہ کیا ہم نے اپنے ربّ کو راضی کر لیا؟ کیونکہ حقیقی جشن تو تب بنتا ہے، جب ہم اپنے ربّ کو راضی کر لیں۔لہٰذا 2022 کے آغاز کو اللہ پاک کے ذکر سے، درودِ پاک پڑھتے ہوئے، تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے ہوئے کریں، اس کے لئے ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے منسلک ہو جائیں، new year night میں مدنی مذاکرہ بھی ہوتا ہے، اس میں مدنی چینل کے ذریعےشرکت کی نیت فرما لیجئے۔اللہ پاک امیرِ اہل ِسنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کی برکت سے ہمیں 2022 میں نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔2022 میں نمازوں کی پابندی فرمائیں کہ نماز ہی مؤمن کا نور ہے اور قیامت کے دن بھی سب سے پہلےنماز کے بارے میں سوال ہوگا، لہٰذا کوشش کریں کہ بھلے جان جاتی ہے تو چلی جائے، لیکن نماز نہ جائے۔ہمیں روزانہ 5 بار اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضری کا شرف ملتا ہے، ہمارےلئے تو خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں حاضری کے لئے بلایا تو اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور نیت کریں کہ آئندہ سے کوئی نماز قضا نہیں کریں گی اور جو نمازیں پہلے قضا ہو گئیں، ان کی توبہ بھی کریں گی اور قضا بھی پڑھیں گی۔2022 کو نیکیاں کرتے ہوئے گزاریں، کسی بھی چھوٹی سی چھوٹی نیکی کو نہ چھوڑیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس چھوٹے سے عمل سے ہماری بخشش ہو جائے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں، اگر کسی رشتہ دار سے قطعِ رحمی کی تو اس سے رشتہ جوڑ لیجئے، مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آئیں،ظلم سے بچیں،مسلمانوں کو ایذا دینے سے بچیں،اللہ پاک کو راضی کرنے والے کام کریں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ہماری زندگی کے آخری لمحات ہوں۔2022 کے آغاز میں ہی اچھی اچھی نیتیں فرما لیجئے کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ تو جتنی اچھی نیتیں ہوں گی اتنا ہی ثواب زیادہ ملے گا، آغاز میں ہی نیتیں کر لیں گی تو ثواب ملنا شروع ہو جائے گا، چند نیتیں پیشِ خدمت ہیں:اللہ پاک کی رضا والے کام کروں گی، نمازوں کی پابندی کروں گی،قرآنِ پاک کی روز تلاوت کروں گی،گناہوں سے بچوں گی، کسی کی حق تلفی نہیں کروں گی، حصولِ ثواب کے لئے مزید اچھی اچھی نیتیں فرما لیجئے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہو جائے اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رکھے۔اٰمین بجاہ ِالنبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


آنے والا نیا سال نئی روشن صبح کی نوید دیتا ہے، اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے نئی اُمید اور لگن کے ساتھ آگے بڑھیں، مایوسی کو کبھی بھی اپنے دل و دماغ میں جگہ نہ دیں، ربّ کریم کی رحمت پر نظر رکھیں۔کامیاب آدمی:کامیاب آدمی وہ ہے جو اپنی دنیا و آخرت دونوں میں سُرخرو (کامیاب) ہونے کی فکر کریں، انسان دنیوی طور پر کچھ بھی ہو، کوئی سا بھی کام کرتا ہو، مذہب سے اُس کا گہرا رشتہ ہوتا ہے، یوں مومن کی زندگی دو طرح تقسیم ہوتی ہے۔1۔ عبادات، 2۔ معاملات ۔عبادات: نماز روزے کے بغیر مومن کی زندگی بے نُور ہے، اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا قربِ الٰہی پانے(اللہ پاک کے قریب ہونے) کا بہترین ذریعہ ہے۔نماز، روزہ اور دیگر ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے ساتھ دل کو گناہوں سے پاک صاف رکھنا،مثلاً جھوٹ، غیبت،چغلی،حسد،تکبر،وعدہ خلافی،ریاکاری اور کینۂ مسلم سے بچیں کہ یہ روحانی طور پر دل کی بیماریاں ہیں، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہیں۔معاملات:سمجھداری کے ساتھ معاملات طے کریں، معاملہ خواہ لین دین کا ہویاگفت و شنید کا، ایک چیز جو سرِ فہرست نظر آتی ہے وہ ہے کردار، کردار خود بولتا ہے، شخصیت کیسی ہے؟ خوش اخلاقی، نرم مزاج، زبان کی کَھرا، ملنسار معاملہ فہم ہو تو شخصیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں، ایک مقولہ ہے: اپنے حق کے لئے احتجاج ضرور کرو، مگر اپنا وَقار مجروح نہ ہونے دو یعنی گرنے نہ دو۔مطلب یہ ہے کہ کیسا ہی خراب ناراضی والا معاملہ کیوں نہ ہو، بندہ کوئی ایسا کام یا بات نہ کرے، جس سے اس کی عزت وقار ختم ہو جائے، نیز کسی قریبی سے لین دین کے معاملے میں بھی لکھ کر طے کر لینا ضروری ہے، مشہور عربی مقولہ ہے:تَعَاشَرُوْا کَالْاِ خْوَانِ وَتَعَامَلُوْا کَالْاَجَانِبِحسنِ سلوک بھائیوں کی طرح اور معاملات اجنبیوں کی طرح طے کرو (یعنی مالی معاملات واضح، صاف ستھرے اور تحریری شکل میں ہوں۔)مقصد کا حصول: achievementsکسی بھی شرعاً جائز مقصد کے حصول کے لئے چند باتوں کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ 1۔ وقت کی قدر کریں۔2۔ آپ جس شعبہ (field) میں کام کرنا چاہتی ہیں، پہلے اس کا انتخاب کرلیں،ایک وقت میں دس کام کرنے کا ارادہ کریں گی تو ایک بھی نہ ہوگا۔لِکُلِّ فَنٍ رِجَالٌ3۔جس کام کو کرنے کا ذہن بنا لیا، اس پر ڈٹی رہیں، ملامت کرنے والی کی ملامت کا خوف نہ رکھیں، بڑا بندہ ہمیشہ تعریف و تنقید سے آزاد ہوتا ہےیعنی کسی کے اچھا یا بُرا کہہ دینے سے اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹیں۔پسندیدہ شخصیت:Ideal personality: اپنی پسندیدہ شخصیت ضرور رکھیں، وہ شخصیت ایسی ہو جسے دیکھ کر خدا یاد آجائے، جو آپ کو عصرِ حاضر(موجودہ دور) کے تقاضوں کے مطابق دُنیاوی و اُخروی امور سے روشناس کرائے، موجودہ دور میں امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ ایک ایسی شخصیت ہیں، جنہیں اپنا آئیڈیل بنایا جا سکتا ہے۔گستاخِ رسول سے بیزار رہئے: کافر، گستاخِ رسول اور بد مذہبوں کی دوستی سے بچیں کہ ان کی دوستی ایمان کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حضرت علامہ مولانا سیّد مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:بد مذہبوں اور خدا و رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مَوَدَّتْ و اِخْتِلَاطْ (محبت و میل جول رکھنا) جائز نہیں۔(خزائن العرفان،پ28، المجادلہ، تحت الآیۃ22)اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم نیا سال اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی فرماں برداری میں گزاریں اور کسی مسلمان کو ہم سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


انسان کی زندگی اللہ پاک کی محتاج ہے، حتٰی کہ اِک اِک سانس اللہ پاک کا احسان ہے، اگر اللہ پاک کی رضامندی نہ ہو تو بندہ کوئی کام نہیں کر سکتا، اس طرح ہمارا کوئی بھی منصوبہ (plan) کامیاب نہیں ہوسکتا، جب تک اللہ پاک کو منظور نہ ہو، لیکن پھر بھی ہم سال 2022 کو گزارنے کےلئے اچھے اور نیک کام کرنے کی نیت ضرور کر سکتی ہیں کہ فرمانِ مصطفے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔(معجم کبیر، 6/ 185، حدیث: 5942)سال 2022 میں ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کے حصول کے لئے نیک کام اور نیک و متقی اسلامی بہنوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے،دینِ اسلام کی تبلیغ اور اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت اور فرماں برداری کرنی چاہئے۔والدین کی عزت و آبرو کو اپنی عزت پر ترجیح دیں گی اور ان کے حقوق کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی، جھوٹ،فریب، غیبت، چغلی اور حسد جیسی خطرناک معاشی برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں گی۔دنیاوی مال و دولت کمانے کے لئے حلال ذرائع اور عدل و انصاف سے کام لیں گی،رشوت و کرپشن کو اپنانے سے اجتناب کریں گی،پڑوسیوں کے حقوق پورے کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے کے لئے بھرپور کوشش کریں گی اور لڑائی جھگڑوں سے دور رہیں گی، کیونکہ حضرت عبد الرحمن بن قاسم رَضِیَ اللہُ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:ایک بار حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللہُ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے پڑوسی کو ڈانٹ رہے تھے، آپ رَضِیَ اللہُ عنہ نے ان سے فرمایا: اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا مت کرو، کیونکہ یہ تو یہیں رہیں گے، لیکن جو لوگ تمہاری لڑائی کو دیکھیں گے،وہ یہاں سے چلے جائیں گے اور مختلف قسم کی باتیں بنائیں گے۔(کنزالعمال، الجزء:9، 5/ 79 ،حدیث:25599)خود کو دوسروں کی دل آزاری اور نقصان سے بچائیں گی۔اللہ پاک ہمیں سال 2022 میں ان تمام اچھائیوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


سال 2021 ہمارے لئے ایک سبق بھی ہے کہ کس طرح ہم مصیبتوں میں صبر کرتی ہیں، نیکیاں کرتی ہیں اور گناہوں سے بچتی ہیں، ہم نے 2021 کیسے گزارا؟ یہ تو ہم ہی جانتی ہیں کہ کیا ہم نے اسے نیکیوں میں گزارا یا بُرائیوں میں گزار کر اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا! کہیں نہ کہیں ہم نے غلطی کی ہو گی اور 2021 سے بہت کچھ سیکھا بھی ہوگا، لہٰذا نیت کر لیتی ہیں کہ 2021 میں ہم سے جو گناہ وغیرہ ہوگئے ہیں، ان سے توبہ کرکے 2022 نیکیوں میں، اللہ پاک کی عبادت کرکے اور بُرائیوں سے بچ کر گزاریں گی۔اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ ٔکنزالایمان:جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا، مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔اس آیتِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک نیکی کرنے پر دس گنا ثواب ہے تو جب ہم ایک سے زیادہ نیکیاں کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو ہماری تو قسمت ہی بدل جائے گی۔وہ ربّ کریم جو ہم پر بڑا مہربان ہے، کئی گُنا ثواب عطا فرمائے گا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم برائی کی طرف جائیں گی تو اس کا کوئی بدلہ نہیں، بلکہ نقصان ہی نقصان ہے۔

آئیے!حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں دیکھتی ہیں کہ ہمیں نیکی کرنے پر کتنا اجر ملے گا! حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک فرماتا ہے:جب میرا بندہ کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہوں اور اگر وہ اس کے مطابق عمل کرلیتا ہے تو میں اس کے لئے 10 سے لےکر سات سو گُنا تک نیکیاں لکھ دیتا ہوں، جب وہ گناہ کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو میں اسے نہیں لکھتا اور اگر اس گناہ پر عمل کرے تو صرف ایک گناہ ہی لکھتا ہوں۔(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)ہم سال2022 مندرجہ ذیل طریقوں سے گزار سکتی ہیں:ہم سال2022 کو اللہ پاک کی رضا والے کام میں گزار سکتی ہیں۔ ہم سال 2022 کو پانچوں نمازیں پابندی کے ساتھ پڑھنے،قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے، کثرت سے درودِ پاک پڑھنے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے بچتے ہوئے،نفل روزے رکھتے ہوئے،نفل نمازیں پڑھتے ہوئے، ایک دوسرے کا دل دُکھانے سے بچتے ہوئے،رسائل اور کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، بُرائیوں سے بچتے ہوئے،اپنا محاسبہ کرتے ہوئے، مدنی مذاکرہ دیکھتے ہوئے، والدین کی اطاعت کرتے ہوئے،جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی سے بچتے ہوئے، اللہ پاک کی خوب خوب عبادت کرتے ہوئے، اپنی پڑوسنوں کی مدد کرتے ہوئے، اللہ پاک کی راہ میں خوب خوب خرچ کرتے ہوئے، غرض اور بھی نیکیاں کرتے ہوئے اور بُرائیوں سے بچتے ہوئے ہم 2022 گزار سکتی ہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سال2022 کو نیکیوں میں گزارنے اور بُرائیوں سے بچتے ہوئے گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


نیا سال نئی اُمیدیں، نئی سوچ اور نئے تجربات لے کر آتا ہے،  ہر گزرتا ہوا لمحہ نئے سال کی طرف بڑھنے کی ایک نوید سناتا ہے، جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ آ نہیں سکتا، مگر جو آنے والا ہے، اس کو بہتر بنانے کے لئے کاوش ضرور کی جا سکتی ہے، نیا سال ایک طرح کا نیا امتحان ہوتا ہے،ہر اس غلطی کو سُدھارنے کا ایک موقع جو کسی نہ کسی طرح جانے اَنجانے میں گزشتہ سال ہو گئی، ہر اس بُرائی کو ختم کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے، جو کسی نہ کسی طرح ہماری زندگیوں کا حصّہ بن گئی ہے۔ہماری زندگی اور اس کا گزرتا ہواوقت ویسے تو ہمیں آخرت کی طرف لے جا رہا ہے، نئے سال کے آغاز کےساتھ زندگی کا ایک سال کم ہو جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں اس کو نیا سال کہا جاتا ہے، مگر افسوس!اس طرف دھیان بہت کم جاتا ہے کہ جو بیت گیا، وہ بھی تو نیا تھا مگر ہائے! ہم نے اس کو صحیح استعمال نہ کیا، ہم اچھائیاں نہ کر پائیں، سچ اور انصاف نہ کر پائیں، خود کو بُرائیوں سے بچا نہ پائیں ۔نیا سال اگر گزارنا ہے تو خود کو سنتوں کا پابند بنا لیجئے، ہر حال میں خود کو سنتِ مصطفے کا پیروکار بنا لیجئے، اس آنے والے سال میں اگر کوئی عہد کرنا ہی ہے تو یہ کیجئے کہ میری ذات سے میرے کسی مسلمان بھائی یا بہن کو تکلیف نہیں پہنچے گی، میری ذات صرف اور صرف دوسروں کی بھلائی اور ان کے کام کے آنے میں صرف ہو گی، نہ کہ چالاکیوں اور جھوٹ، غیبت،حسد کا شکار ہو کر نئے سال میں بھی خود کو دوسروں اور سب سے بڑھ کر پیارے پیارے آقا، مدینے کے والی، نبی آخر الزمان صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے شرمسار ہو گی، نیا سال دراصل اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے اعمال کو اچھا اور مثبت کرنے کا ایک موقع عطا فرما دیا ہے۔لہٰذا اس سال خود کو دنیاوی تمام بُرائیوں سے بچا کر اپنی آخرت کا ثواب بڑھانے کی کوشش کیجئے۔اپنی ذات کو صرف اور صرف دوسروں کے لئے خیر کا ذریعہ بنائیے،جو (اچھا کام)خود کو آتا ہے وہ دوسروں کو سکھائیے، کیونکہ علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ کہاوت ہے:اگر تمہارے چراغ میں روشنی کم پڑھنے لگے تو اپنے دئیے کا کچھ تیل دوسرے دیئے میں ڈال دو، ہو سکتا ہے اس کی چمک سے تمہاری چمک بھی چمک اُٹھے۔ سال 2021 کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کر کے سال 2022 کو روشن اور مزید مثبت بنائیے، اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دینی کاموں میں صرف کیجئے، نماز، روزہ، زکوۃ تو کرتی ہیں، مگر اس میں مزید خشوع خضوع پیدا کیجئے، قرآنِ پاک کی تلاوت کو اپنی زندگی کا لازمی جُزو بنائیے، کیونکہ دنیا کی کوئی بھی کتاب ہمیں وہ علم اور معلومات نہیں دے سکتی، جو اللہ پاک نے اپنی اس مقدس کتاب میں لکھ دیا ہے، جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور اس میں ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کو۔ (پ14، النحل:12)


اللہ پاک کے ہم پر احسانات بے حد و بے حساب ہیں اور اس کی عطا کی گئی نعمتوں کا شمار و حصر ناممکن ہے۔ان ہی نعمتوں میں سے اللہ پاک کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہماری حیات ہے۔ اس کا نہ صرف ہر سال ہر دن بلکہ ہر ہر لمحہ بہت انمول ہے۔ افسوس! ہماری زندگی کے ان قیمتی لمحات میں سے گزشتہ سال 2021 بھی غفلت میں گزر گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سالِ آئندہ 2022 کو کیسے گزارا جائے؟اس کے لئے چند نکات پیش کیے جاتے ہیں:1۔گزشتہ سال کا جائزہ لیجئے:سال 2022 کے موقع پر اپنی زندگی میں ایک سال کی کمی اور عملِ صالح کی قلت پر افسوس کرتے ہوئے گزشتہ سنِ عیسوی کا جائزہ لیجئے اور اپنا محاسبہ کیجئے کہ 2021 میں گناہوں سے بچنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی؟2021 کے آغاز پر کی گئی نیتوں پر استقامت رہی یا نہیں؟اپنے نیک عزائم اور اچھی نیتوں پر کتنے فیصد کامیابی حاصل ہوئی؟2۔نئے اہداف مقرر کیجئے:سالِ 2021 کا محاسبہ کرتے ہوئے سابقہ گناہوں سے گڑگڑاتے ہوئے توبہ کیجئے نیز نئے سال اچھی اچھی نیتیں کرتے ہوئے اپنے لئے نیک اہداف مثل نیک اعمال پر عمل، دینی مطالعہ، دینی کام وغیرہ مقرر کیجئے نیز ان میں سے ترجیحات متعین کیجئے کہ کون سا کام زیادہ ضروری ہے اور کس کام کو پہلے کرنا چاہئے؟ اس طرح آئندہ کے لئے لسٹ بناکر منصوبہ بندی فرمالیجئے اور بڑے اہداف کو چھوٹے چھوٹے مراحل و مقاصد میں تقسیم کیجئے کہ یہ منزل تک پہنچنے کےلئے بہت کارآمد ہے۔3۔وقت کی قدر:2022کو اپنے لئے غنیمت جانتے ہوئے اپنے اندر احساس پیدا کیجئے کہ اگر اس وقت کو ضائع کر دیا تو سوائے حسرت و ندامت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اے آدمی! تُو ایّام ہی کا مجموعہ ہے ۔جب ایک روز گزر جائے تو سمجھ تیری زندگی کا ایک حصہ گزر گیا۔(طبقات کبرٰی للمناوی،1/259)4۔عزم و استقلال:اللہ پاک کی طرف سے دئیے گئے وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنے نیک اہداف اور مقاصد پورے کرنے کےلئے وقتا فوقتا اپنا جائزہ لیجئے کہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں کتنی کوشش رہی؟ کیا میں اب تک اپنے ارادوں پر قائم ہوں؟ یا ان سے کنارہ کشی کرلی؟ ان پر عمل درآمد نہ ہونے یا کمی آنے کی صورت میں پھر سے عزمِ مصمّم کرتے ہوئے اپنے اہداف کی تکمیل کے لئے کمر بستہ ہوجائیے اور دوبارہ سے اپنے نیک ارادوں کی تجدید کیجئے ان شاءاللہ اپنی نیک نیتوں پر ثابت قدمی کےلئے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔5۔خود کو بدلئے: استقامت کےساتھ اپنے نیک مقاصد کو پورا کرتے ہوئے خود کو بدلنے کی بھرپور کوشش کیجئےکہ سالِ گزشتہ مجھ میں جن برائیوں کی عادت تھی ان سے نجات پاتے ہوئے اچھی عادات میں رضائے الٰہی کےلئے اضافہ کرنا ہے۔ان شاءاللہ۔اللہ پاک ہمیں 2022 اپنی رضا اور خوشنودی کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


محترم قارئینِ کرام! جب آپ سال کی منصوبہ بندی کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وقت کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، سال 2022 کیسے گزارنا ہے؟یہ جاننا اتنا اہم نہیں ہے، جتنا یہ جاننا اہم ہے کہ آج کا دن اور آنے والا لمحہ کیسے گزارنا ہے، تبھی رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ہے:(آخرت کے معاملے میں) گھڑی بھر غوروفکر کرنا 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔(جامع صغیرللسیوطی، ص 365،حدیث: 5897)جب لفظِ آخرت آتا ہے تو اس سے دینی اور دُنیاوی دونوں معاملات مراد ہوتے ہیں،لہٰذا حدیث ِ مبارکہ سے پتا یہ چلا کہ زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ لمحۂ موجودہ کس طرح گزارتی ہیں، لہٰذا ایک لمحے کو بھی اچھا گزارنا سیکھیں اور آپ اچھا سال،دن یا لمحہ اس وقت گزار سکتی ہیں، جب آپ میں پہلے سے اچھا، نیا اور بہتر کر کے دکھانے کا جذبہ اور سوچ ہو، اس لئے کہا جاتا ہے:زندگی صدیوں، سالوں اور مہینوں میں نہیں بدلتی، بلکہ اس لمحے بدل جاتی ہے، جب آپ اسے بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ فیصلہ کریں کہ آنے والے لمحوں میں کیا کیا نہیں کرنا، اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کن راستوں پر نہیں چلنا تو ان راستوں کی پہچان زیادہ آسان ہو جاتی ہے کہ جن پر چلنا ہوتا ہے۔اس لئے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:آدمی کے اسلام کی ایک خوبی بے مقصد کام کو چھوڑ دینا ہے۔ (اربعین نووی، حدیث: 12، ص 45)لہٰذا جو بھی planning (منصوبہ بندی) کریں، اس میں دین اور دنیا کا کوئی مقصد ضرور ہونا چاہئے۔ جیسا کہ خود کو اچھا انسان بنائیں، اپنی صحت، اخلاق پر بھرپور توجہ دیں، کئی گناہوں مثلاً جھوٹ،تکبر اور بُرے اخلاق یا نمازوں میں سستی ہو تو دور کرنے کی کوشش کریں،وہ اس طرح کہ ہر مہینے ایک بُری عادت کو لیجئے اور یہ نیت کر لیں کہ اس عادت کو مجھے خود سے نکالنا ہے۔ اسی طرح جو عادات اچھی ہوں مثلاًنفلی نمازیں، روزے، عاجزی، سلام و مصافحہ، شفقت اور برداشت کی عادت کو لیجئے اور پورا مہینا مسلسل اسے کرتی جائیں تو وہ عادت آپ کے مزاج کا حصّہ بنتی چلی جائیں گی، اسی طرح اپنے دنیاوی اور معاشرتی معاملات چاہے وہ خاندان سے ہو یا سہیلیوں سے،انہیں بہتر بنانے اور ان کی تربیت پر بھی توجّہ دیں۔ایک بات یاد رکھیں!جب بھی کوئی چیز plan کریں۔آغاز ہمیشہ چھوٹے سے یا تھوڑے سے کریں، مگر کریں مسلسل،تا کہ کامیابی بڑی ملے، کامیابی کی طرف اُٹھایا جانے والا پہلا قدم مشکل ہوتا ہے، مگر یہ یاد رکھیں! مشکل آسانی ضرور لاتی ہے۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک سال 2022 کو دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے عافیت کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


اللہ پاک نے انسان کا مقصدِ تخلیق قراٰنِ کریم میں کچھ یوں ارشاد فرمایا:﴿ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی لئے) بنائے کہ میری بندگی کریں۔ (پ27،الذّریت:56) لیکن افسوس!انسان دنیا میں آکر اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول بیٹھا، ربِّ کریم کی عبادت سے غافل ہوگیا اور بھول گیا کہ اس کو ایک دن مرنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ دنیاوی زندگی عارضی ہے، اس کی ہر چیز عارضی ہے۔ انسان نے اسی دنیا کو بہتر بنانا اپنا مقصدِ حیات سمجھ لیااور اپنے دن،رات، ماہ و سال مسلسل اس دنیا کو بہتر بنانے میں گزار دیئے۔ اپنے قیمتی وقت کو فضولیات میں برباد کر دیا۔یہ وقت اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے مگر افسوس! انسان نے اس کی قدر نہیں کی اور اس کو غفلتوں میں گزار دیا۔ زندگی کے کتنے ہی سال، مہینے اور دن لاپرواہیوں اور گناہوں کی نذر ہو گئے۔ لیکن ابھی بھی وقت ہے، ابھی سانسیں چل رہی ہیں تو جو وقت گزر گیا اس پر غورکرتے ہوئے آنے والے وقت کو اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا والے کاموں میں گزارنے کی نیت کرنی چاہئے۔ آئیے! نیت کرتے ہیں کہ آنے والا سال اللہ پاک کی عبادت اور نیکی کے کاموں میں گزاریں گے۔ان شاءاللہ

عبادتِ الٰہی: آج سے ہی سال 2022 ءکے اہداف طے کر لیتے ہیں کہ آنے والے سال میں بلا عذر شرعی ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہو گی۔ فرائض و واجبات کا اہتمام کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قضا نماز اور روزوں کی ادائیگی کریں گے۔ تلاوتِ قراٰن، ذکر و اذکار اور درودِ پاک میں اپنا وقت صرف کریں گے۔ اور اس سال بلکہ آنے والی زندگی کے ہر سال ہر دن بلکہ ہر لمحے کو رضائے الٰہی کے کاموں میں گزارنے کی کوشش کریں گے۔ حقوق العباد:سال 2022ءمیں ہم حقوقُ العباد کا خیال کریں گے۔ ہمارا یہ ہدف ہونا چاہئے کہ اگر ہم سے کسی کا حق تلف ہوا ہو تو اس کا حق ادا کریں گے اور معافی بھی مانگیں گے۔ والدین، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق کا خیال کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کو پرامن بنانے کی کوشش کریں گے۔تعلیم و تَعَلُّم: تعلیم کو عام کریں گے اور اپنے ملک سے ناخواندگی کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ خود بھی علمِ دین سیکھیں گے اور دوسروں کو بھی سکھائیں گے۔ اچھی صحبت: انسان کو اچھی زندگی گزارنے کے لئے اہل ِ علم اور دانشور لوگوں کی صحبت کو اختیار کرنا چاہئے۔ وہ لوگ جو دین اور دنیا کا فہم و شعور رکھتے ہیں ان کی صحبت کو اختیار کرنے سے انسان کے علم اور عمل کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس لئے نیت کرتے ہیں کہ آنے والی زندگی میں نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں گے۔ صحبت بد سے دوری:وہ لوگ جو بُری صحبت اختیار کرتے ہیں وہ غلط نظریات اور غلط راستوں پر چل نکلتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم بری صحبت سے بچیں۔آنے والے سال میں ہم یہ نیت کرتے ہیں کہ ایسوں کی صحبت سے بچیں گے جن سے عقائد و اعما ل میں خرابی پیدا ہوتی ہو۔لَغْوِیات اور حرام سے اجتناب:سال 2022ء کو لَغْوِیات اور حرام سے پاک گزاریں گے۔ بلکہ آنے والی پوری زندگی کےلئے نیت کریں کہ حرام اور فضول کاموں سے بچیں گے۔ ہر اس کام سے اجتناب کریں گے جو اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ناراضی کا سبب ہے۔ نبیِّ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن بندہ اس وقت تک اللہ پاک کی بارگاہ میں کھڑا رہے گا جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے۔ (1)اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری؟(2) اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ (3) مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور (4) اپناجسم کن کاموں میں لگایا؟ (ترمذی،4/188، حدیث:2425) ان سوالوں کے جواب کے لئےہم میں سے ہر ایک کو اپنے احوال کا جائزہ لینا ہو گا اور پھر درستی کی طرف آنا ہو گا۔ اسی صورت میں ہم قیامت کے دن کی شرمندگی سے بچ سکیں گے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا آنے والا سال بلکہ زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کےمطابق گزرے اور اس کی دائمی رضا نصیب ہو جائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


اُخوت‘‘عربی زبان کا لفظ ہے جو’’اَخٌ‘‘ سے بنا ہے،اس کے معنیٰ’’بھائی چارہ،یگانگت اوربرادری‘‘کے ہیں۔اسلام میں تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں اور ان کا کسی بھی رنگ ونسل اور وطن سے تعلق ہو۔جو کلمہ طیبہ پڑھ کراسلام میں داخل ہو جاتا ہے وہ بحیثیت مسلمان ہمارا دینی بھائی ہے ۔اﷲ پاک نے اپنے پیارے حبیب،حضرت محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان ایک پائیدار اور مستحکم رشتہ قائم کیا ہے۔اس رشتے کی عظمت وفضیلت،اِفادیت و اہمیت کے حوالے سے قرآنِ مجیدکی کئی آیاتِ مقدسہ اور رسول اﷲصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکی بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں۔قرآنِ مجید میں ارشادِ باری ہے :اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمْ ۚوَ اتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ 0٪ (پ26،الحجرات:10 )ترجمۂ کنزالایمان : مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ اﷲ پاک نے اس آیتِ مبارکہ میں تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔حضور رحمتِ دوعالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اہلِ ایمان کے درمیان’’رشتۂ اُخوت‘‘ قائم کیا ۔یہ اتنا مضبوط اور پائیدار رشتہ ہے کہ اسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکی اور نہ کرسکے گی کیونکہ اس عظیم رشتے کی بنیاداسلام اوراﷲ ورسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت پر قائم ہے۔حدیثِ پاک میں فرمایا گیا:تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔یہاں کامل مومن ہونے کی نفی ہے۔واقعی کامل مومن اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرنے والا ہوتاہے،کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اُلفت ومحبت کا درس دیا ہے۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے مروی ہے،حضور نبیِ پاک،صاحبِ لولاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو اور کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے بجا لاؤ توآپس میں محبت پیدا ہوجائے ؟اپنے درمیان سلام کو عام کرو ۔حضرت فضیل بن عیاض رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:’’انسان کا محبت ومہربانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔ اُخوت و بھائی چارہ مسلمانوں کے درمیان وہ عظیم رشتہ ہے جس کی بدولت مسلمان جہاں کہیں بھی بستے ہوں وہ اپنے آپ کو ایک معاشرے کا حصہ سمجھتے ہیں۔اُخوت سے باہمی اختلافات اور تنازعات کو ختم کیا جاتا ہے ۔ اُخوت و بھائی چارے سے مسلمان ایک دوسرے کی مدد اور خدمت کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں،جس سے معاشرتی زندگی کو استحکام ملتا ہے اورمعاشرے میں ایک اچھی اور عمدہ فضا قائم ہوتی ہے ،نیز نیکیوں کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔اُخوت و بھائی چارے سے مسلمانوں میں اتحاد ویکجہتی پیدا ہوتی ہے ، جس سے مسلمانوں کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اورمسلمانوں کی یہ قوت دیکھ کرکفار کے دلوں پر رعب و دہشت طاری ہو جاتی ہے۔ اُخوت وبھائی چارے کی بنیادپر جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی مالی مدد کرتا ہے تو اسلامی معاشرے میں مالی استحکام پیدا ہوتا ہے اور معاشرے میں امن وسکون اور جذبۂ ہمدردی پیدا ہوتی ہے ۔ اُخوت و بھائی چارے کی فضا میں معاشرے کے سب افراد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔دوسروں کا دُکھ درد محسوس کرتے ہیں۔مصیبت و آزمائش کے موقع پرایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ غم وخوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔