دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی قافلہ کےتحت پچھلے دنوں اسلام آباد میں ایک ماہ کا مدنی قافلہ راہِ خدا کے سفر پر روانہ ہوا جس میں کثیر تعداد میں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ زون علی ستی عطاری نے شرکائے قافلہ کی تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی قافلوں کی اہمیت و ضرورت اورمساجد کا ادب و احترام کرنے کے حوالے سے بتایا۔

اس کےعلاوہ شرکا کو اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں شرکت کرنے کے حوالے سے ذہن سازی کی گئی جس پر شرکا نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:نعمان عطاری اسلام آباد آئی سی ٹی، قافلہ ذمہ دار ڈویژن راولپنڈی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے تحت پچھلے دنوں ذمہ داراسلامی بھائیوں نے سیالکوٹ میں DPO ملک عمر سعید سے ملاقات کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کےمختلف شعبہ جات کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آنے کی نیت کا اظہار کیا۔

بعدازاں ذمہ داران نےمختلف شخصیات (جن میں افضال ممتاز SHO تھانہ کینٹ ، اشرف بریال انسپکٹر، انسپکٹر شہزاد PRO ٹو DPO، تنویر کوثر SHO تھانہ نیکاپورہ، سب انسپکٹر اشرف ، عبدالرحمٰن ڈسٹرکٹ انچاچ سیکورٹی برانچ، ملک کاشف رجسٹرار سیالکوٹ اور فاروق اکمل ڈپٹی کمشنر جنرل شامل تھے) سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کےہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع اور مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کااظہار کیا۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دینِ اسلام کی تعلیمات میں سے اپنے مسلمان بھائیوں کی حاجت پوری کرنا اور مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دینا  شامل ہے۔اسی سلسلے میں پچھلے دنوں یوگینڈا کے شہر لِیرا (Lira) میں دعوت اسلامی کے شعبہ ایف جی آر ایف کے تحت نگرانِ ویسٹ نائل کابینہ شاہدمنظورعطاری نے دیگر ذمہ داران کے ہمراہ مقامی ضرورت منداسلامی بھائیوں کے درمیان راشن تقسیم کیا۔

ذمہ داران نے انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں شمولیت اختیار کرنے اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیا جس پر وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے دعوتِ اسلامی سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:شاہد منظور عطاری، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ دنوں تحصیل قصورکی ایک مسجد میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں شعبہ ذمہ داران نے شرکت کی۔اس مدنی مشورے میں مبلغِ دعوتِ اسلامی و ضلع قصور کے ذمہ دارصغیر عطاری نے گھریلو صدقہ بکس کے ضلع اور سٹی قصور کے ذمہ داران کےہمراہ چند اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس کے علاوہ ضلع قصور میں کم و بیش 6ہزار گھریلو صدقہ بکس کی پلاننگ اور 8 جنوری 2022ء کو یومِ گھریلو صدقہ بکس منانے کے حوالے سےگفتگو کرتے ہوئے مدرسین کو اہداف دیئے۔(رپورٹ:صغیر عطاری اسلامی بھائیوں کے مدرسۃ المدینہ رکنِ زون، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیاجس میں ذمہ داراسلامی بھائیوں سمیت سینکڑوں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی جنید عطاری مدنی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے وہاں موجود عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا۔بعدازاں رکنِ شوریٰ نے سیکھنے سکھانے کا حلقہ بھی لگایا اورشرکا کو مدنی پھولوں سے نوازا۔(رپورٹ:ساجد سلیم عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام پتوکی میں مدنی مشورے کاانعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبے کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اس مدنی مشورے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفوررضا عطاری نے ذمہ داران سے گفتگوکرتے ہوئے 12 دینی کاموں کا جائزہ لیا۔

اس کے علاوہ رکنِ شوریٰ نے پتوکی میں نیو مدارس المدینہ(بوائز، گرلز) اور جامعات المدینہ (بوائز، گرلز) بنانے کے حوالے سے اہداف دیئے جس پر وہاں موجود ذمہ داراسلامی بھائیوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


گزشتہ دنوں پنجاب کے شہر پتوکی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کااہتمام کیا گیاجس میں ذمہ داران، علاقے کے سیاسی و سماجی شخصیت سمیت کثیر تعدادمیں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی تربیت و رہنمائی کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں انٹرنیشنل ٹریول ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کے اہم ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس دوران رکنِ مرکز ی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد علی عطاری نے ذمہ داراسلامی بھائیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شعبے کے دینی کاموں کا جائزہ لیا اور اس میں مزید بہتری کے حوالے سے تربیت کی۔اس موقع پر ذمہ داران نے مفید مشورے بھی دیئے۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں فیصل آباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں کنزالمدارس بورڈ پاکستان کےتعلیمی اور امتحانی بورڈ زکے سلسلے میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں تعلیمی بورڈ کے نگران مولانا گل رضا عطاری مدنی، اراکینِ میں مولانا احمد سعید عطاری مدنی، مولانا مزمل عطاری مدنی، مولانا طیب عطاری مدنی، مولاناجواد عطاری مدنی جبکہ امتحانی بورڈ کے نگران و کنٹرولرامتحانات مولانا اسماعیل عطاری مدنی، اراکین میں غلام الیاس عطاری مدنی، قاری لیاقت عطاری مدنی، مولانا شکیل عطاری مدنی اور کنزالمدارس بورڈ کے لیگل ایڈوائزر پروفیسر جاوید اسلم باجوہ نے شرکت کی۔

اس میٹنگ میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و صدر کنزالمدارس بورڈ حاجی جنید عطاری مدنی نے سابقہ کارکردگی اور آئندہ کے اہداف کا جائزہ لیتے ہوئے كليۃ الشریعہ( چار سالہ ڈگری پروگرام) پر بریفنگ د ی اور اراکین ِ بورڈ سے تجاویز لیں۔

اس کے علاوہ کنزالمدارس بورڈ کے ذیلی شعبہ Alumni and job placmenet کا تفصیلی تعارف، قیام کا مقصد اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو بھی کی گئی۔(رپورٹ:ساجد سلیم عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت وقتاً فوقتاً عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کے لئے درس و بیان کا سلسلہ ہوتا رہتا ہےجس میں انہیں دینِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں پچھلے دنوں عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں بعد نمازِ عصر سیکھنے سکھانے کا حلقہ منعقد ہوا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین عطاری سنتوں بھر ابیان کرتے ہوئے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی دینی اور اخلاقی اعتبار سے تربیت فرمائی۔

اس موقع پر کراچی سطح کے شعبہ ائمہ اور نیو سوسائٹی ذمہ دار اعجاز عطاری سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


سالِ نو عیسوی کا ہو یا ہجری کا مسلمانوں پر مبارک باد دینا فرض یا واجب نہی ۔ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اچھے کام کیے جائیں ۔اپنے محاسبے کے ساتھ ساتھ خوب صدقہ وخیرات کیا جائے۔ سال بھر میں جس کسی کی حق تلفی ہوئی ہے اس سے معافی مانگی جائے ۔یہ تو رہا عیسوی سال جسے شمسی بھی کہا جاتا ہے جس کا آغاز جنوری کے مہینے سے ہوتا ہے ۔سالِ عیسوی دنیاوی معمولات کے لئے۔اور قمری و ہجری اسلامی سال چاند کے اعتبار سے دینی معملات مکمل کیجئے جس کا آغاز محرم الحرام یعنی حرمت والا مہینے سے ہوتا ہے جو وفا داریِ دین کے لئے قربان ہونے کا درس دیتا ہے کہ ہمارا مقصد دنیا میں اللہ پاک کی رضا اور عبادت کرکے اس کا قرب پانے کا ہے نہ کہ اغیار کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے اپنا دین اور اپنی دنیا تباہ کریں۔جیسا کہ ہر سال ہی سالِ نو کی خوشیاں بڑی دھوم سے منائی جاتی ہیں۔ آتش بازی تو کہی ناچ گانا غرض کہ معاذ الله بہت سے بُرے کاموں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد علمِ دین سے دوری یا یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ جہالت کی بنا پر گناہ کا ارتکاب بھی کر ڈالتی ہے۔معاذَاللہ فحاشی کو عام کرنا، شراب نوشی کے بازار گرم کرنا ایک مسلمان کے لئے یہ سب کام حرام ہیں۔ایک منٹ کے لئے بھی نہی سوچا جاتا جس سال کی خوشی اتنی بد حواسیوں میں مشغول منا رہی ہیں ایک پل بھی جی نہ سکیں تو آخرت کا کیا بنے گا ؟

آخرت کی فکر کرنی ہے ضرور جیسی کرنی،ویسی بھرنی ہے ضرور

عمر اک دن یہ گزرنی ہے ضرور قبر میں میت اترنی ہے ضرور

آہ صد افسوس! نوجوان طرح طرح کے کرتب کرتے دیکھائی دیتےہیں۔موٹر سائیکل کی آوازوں سےدوسروں کو اذیت دیتےاور ون ویلنگ کرکے اپنی جان سے جاتے ہیں۔ایک دن مرنا ہے، آخر موت ہے،کر لے جو کرنا ہے ،آخر موت ہے۔جبکہ ایک اچھے مسلمان کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ اسے اپنے ہر گزرے دن کے ساتھ اپنی بے عملی اور گناہوں میں گزاری زندگی پہ نادم ہوتے ہوے اپنے رب کریم سے توبہ استغفار کرنی چاہیے۔اپنے سال بھر کے تجربات کی روشنی میں آنے والے سال کے لئے کچھ ضابطے بنا لینے چاہییں۔اپنے آپ کو شریعت کی حدود میں قید کرنے کا ذہن بنانا چاہیے۔ہر حال میں اللہ پاک پر توکل کرتے ہوئے ہی شکر بجا لائیے کہ جو آزمائشیں ہماری اپنی کو تاہی کے سبب تھیں اللہ پاک نے اسے ہم سے دور کیا ۔جو نعمتیں مل چکیں اللہ پاک کا ان پر شکر اور جو خواہشات پوری نہ ہوئیں اسے رب کریم کی حکمت جان کر اس کا بھی شکر ادا کیا جائے۔ بے شک وہ ہماری خواہش سے بہت بہترین ہوتا ہے جو وہ اپنی رضا سے عطا فرماتا ہے۔خود کو گند ی محافل سے دور رکھتے ہوئے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ آپس میں خیالات کے تبادلے سے دوریاں اور بد گمانیاں بھی ختم ہوتی ہیں ۔مومن کی ہر صبح اس کے لئے نعمت ہے کہ وہ اپنے رب کریم کا شکر ادا کرے اور اسی کی عبادت کو مقصدِ عین بنائے۔دن مہینے سال ایسے ہی گزرتے جارہے ہیں۔گناہوں میں لتھڑے سال نو منا رہے ہیں۔آہ ! سالِ نو میں اچھی نیتوں کا ذہن بن جائے ۔نمازیں نہ قضا ہونے پائیں۔ فضول گوئی کی عا دت بھی نکل جائے۔ غیبت بھی کبھی نہ ہونے پائے ۔جھوٹ سے بھی اللہ پاک محفوظ فرمائے۔سالِ نو کی فضول رسومات سے چھٹکارا پانے کے لئے اچھی نیت کی جائےکے اپنا مال اللہ پاک کے دین کی خاطر رضائے الٰہی کے لئے خرچ کریں گی۔ترجمۂ کنزالایمان:اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی بیشک اس میں سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں کو۔(پ18،النور24: 44)نئے سال ہی نہی ہمیں ہر نیا دن نصیب ہونے پہ اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ہر لمحہ ہمیں موت کے قریب کر رہا ہے۔قربِ قیامت سال مہینوں میں مہینے ہفتوں میں اور ہفتے دنوں میں شمار ہو نگے۔اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ قیمتی جانتے ہوئے عبادتِ الٰہی میں گزار جائے۔اللہ پاک اُمتِ مسلمہ کی خیر فرمائے اور وقت، اتفاق ، اتحااور رزق میں خوب برکتیں عطا فرما ئے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔اللہ پاک ہمیں تمام بری خصلتوں سے محفوظ فرمائے۔ پورا سال اپنی رضا کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت میں استقامت کیساتھ پیش پیش رہنے کی تو فیق عطا فرمائے۔


ہماری زندگی کے شب و روز گزرتے جارہے ہیں،وقت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،ایسا لگتا ہے کہ زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے،سال آتا ہے، پھر دوسرا آجاتا ہے۔ہم زندگی کا مقصد بھول چکی، جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کہ لوگوں نے اپنے زندگی کے اصل مقصد کو ہی بھلا دیا ہے۔ آئیے! جانتی ہیں کہ  ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟آیتِ مبارکہ:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا ہدف بنائیں، اپنا Time Managementکریں کہ 2021 تو غفلتوں میں گزر گیا ، لیکن 2022 ہمیں غفلتوں میں بالکل نہیں گزارنا، ان شاءاللہ ۔کچھ فائدے اس ضمن میں پیشِ خدمت ہیں کہ ہم 2022 کس طرح گزاریں؟ جب آپ مندرجہ ذیل باتوں میں عمل کریں گی، تو ان شاءاللہ آپ کا وقت ضائع نہیں ہوگا، بلکہ نیکیوں بھرا گزرے گا۔ سب سے پہلے اپنے وقت کے 3 حصّے کرلیجئے:1۔عبادات،2۔آرام،3۔گزر بسر/ روزگار وغیرہ کے معاملات/ گھریلو معاملات وغیرہ۔اب عبادت میں بھی 2 طرح کی ہوتی ہیں:ایک تو انفرادی یعنی نفلی عبادت اور دوسری وہ جو ہم پر فرض ہیں۔فرض عبادات تو ہمیں کرنی ہی کرنی ہے، لیکن اگر ہم اس کے ساتھ نفلی عبادات کو شامل کرلیں، تو ہمارا وقت فضولیات میں گزرنے سے بچ جائے، نہ صرف بچے گا بلکہ ساتھ ساتھ عبادت کرنے سے نیکیوں بھرا گزرے گا، لہٰذا پہلی نیت یہ کرلیں کہ ہم 2022 میں کثرت سے نفلی عبادات بھی کریں گی۔ ان شاءاللہ آرام تو زندگی کا حصّہ ہے کہ آرام نہ کریں تو ظاہر ہے ایسے گزارا ممکن نہیں، لیکن ہم اگر اس میں بھی اچھی اچھی نیتیں کرلیں تو ان شاءاللہ ہمارا یہ وقت بھی نیکیوں بھرا وقت گزرے گا، مثلاً یوں نیت کرلیجئے کہ عبادت پر قوّت حاصل کرنے کی نیّت سے آرام کروں گی۔ گھریلو معاملات/معاش/دیگر معاملات، ان سب میں بھی اچھی اچھی نیتیں کر کے اپنے وقت کو نیکیوں والا کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف وہ کام تھے، جو ہم کرتے تھے، لیکن نیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا وہ وقت نیکیوں والا نہیں ہوپاتا تھا، لیکن کچھ کام ہیں کہ جو ہمیں چھوڑنے ہیں اور کچھ کو اپنانا ہے۔ کرنے والے کام :1۔اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہے۔2۔کثرت سے درودِ پاک پڑھنا ہے۔3۔کثرت سے تلاوتِ قرآنِ پاک کرنا ہے۔4۔روزانہ گھر درس دینا ہے۔5۔اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ،ان سے حسن سلوک،ان کے کام میں ان کا ساتھ دینا ہے۔6۔نمازوں کی پابندی کرنا ہے۔7۔فرض علوم سیکھنے ہیں۔8۔مسلمانوں کی خیر خواہی کرنی ہے،ان سے مسکرا کرملنا ہے،ان کی خیر خواہی،حاجت روائی،تیمارداری،نیز خوشی و غمی میں ان کا ساتھ دینا ہے۔ نہ کرنے والے کام:1۔گناہوں کو چھوڑنا ہے۔2۔بری صحبت کو چھوڑنا ہے۔3۔فضولیات کو چھوڑنا ہے۔4۔بے حیائی اور برے کاموں کو چھوڑنا ہے۔5۔بے پردگی کو چھوڑنا ہے۔6۔ہمیں اپنے والدین کی نافرمانی کرنے کو چھوڑنا ہے۔7۔ہمیں بے ادبی کو چھوڑنا ہے۔8۔ہمیں مسلمان کو اذیت دینے، ان کا مذاق اُڑانے، ان کی دل آزاریاں کرنے کو چھوڑنا ہے۔آپ تمام کو چاہئے کہ تمام باتوں پر عمل کر کے اپنے وقت کو گناہوں سے بچا کر آئندہ سال گزشتہ سالوں کی طرح غفلت میں نہیں،بلکہ نیکیوں میں گزار کر اپنے زندگی کے اصل مقصد کو اپنانے کی کوشش کیجئے۔اس کے لئے آپ سے عرض ہے کہ ہر کام کے لئے ایک وقت متعین کردیں، تاکہ آزمائش نہ ہو، مثلاً محاسبہ کے لئے فجر کی نماز کے بعد کا وقت،تو اس طرح بھی استقامت ملے گی، یہ بھی یاد رکھیں کہ ایسا نہ ہو کہ شروع میں جوش میں آکر ایک ساتھ اتنے سارے نیک کام شروع کردیں اور کچھ دنوں میں جذبہ ٹھنڈا ہوجائے اور سارے نیک اعمال چھوڑ دیں۔لیکن جہاں بات گناہ کی ہو،باپا جان بھی فرماتے ہیں:گناہوں کو یک لخت چھوڑ دیں، یہ نہیں کہ آہستہ آہستہ چھوڑا جائے،کیونکہ زندگی کا کیا بھروسا؟معاذَاللہ زندگی کا خاتمہ گناہ کرتے ہوئے،ربّ کریم کی ناراضی والے کاموں کو کرتے ہوئے ہوا تو کیا بنے گا؟الامان و الحفیظ۔اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمیں وقت کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم