حضور ﷺ کی کئی
صفات ہیں آپکی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے حضور ﷺ کی محبت کی کیا مثال
دیں حضور ﷺ کی اپنی امت سے محبت بھی بے مثال حضور ﷺ کی اپنی ازواج سے محبت بھی بے
مثال حضور ﷺکی اپنے رب سے محبت بھی بے مثال حضور ﷺ کی بچوں سے محبت بھی بے مثال
اور حضور کی صحابہ سے محبت بھی بے مثال اور غریب اور نادار صحابہ سے محبت بھی بے مثال، آج ہم بات کریں گے حضور ﷺ کی اپنے
غریب نادار صحابہ سے محبت۔ اور یہاں غریب سے مراد وہ غریب ہے جس کے پاس مال و دولت نہ ہوں۔
قرآن کریم میں
رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ
رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15،
الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے
رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
اس آیت کا
شان نزول یہ ہے کہ سرداران کفار کی ایک جماعت نے سرکار دوعالم ﷺ سے عرض کیا کہ
ہمیں غربا اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے۔ اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لانے سے خلق کثیر اسلام لے
آئے گی۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ کو فرمایا گیا کہ اپنی جان
کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و
شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا
چاہتے ہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ ہر وقت
اللہ کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔
یہ مبارک آیت غریب
صحابہ کے لیے نازل ہوئی جن سے عرب کے بڑے سردار کفار قریش انکی غربت کی وجہ سے ان
سے گھن کھاتے تھے، لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے پہلو میں بیٹھایا اور انہیں عزت
اور مقام دیا اور تاریخ میں اسکی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کفار نے غریب مسلمانوں
کو کتنا ستایا؛ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جو امیہ بن خلف کافر کے غلام تھے ان کی
گردن میں رسی باندھ کر کوچہ و بازار میں انکو گھسیٹا جاتا تھا۔ انکی پیٹھ پر
لاٹھیاں برسائی جاتی تھی اور ٹھیک دوپہر کے وقت تیز دھوپ میں انکو گرم گرم ریت پر لٹاکر اتنا بھاری پتھر انکی چھاتی پر رکھ دیا جاتا تھا کہ انکی زبان باہر
نکل آتی تھی۔امیہ کافر کہتا تھا کہ اسلام سے باز آجاؤ ورنہ اس طرح گھٹ گھٹ کر
مرجاؤگے۔ مگر اس حال میں بھی حضرت بلال
رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر بل نہیں آتا تھا بلکہ زور زور سے احد احد کا نعرہ لگاتے
تھے اور بلند آواز سے کہتے تھے خدا ایک ہے۔ خدا ایک ہے۔ (سیرت مصطفےٰ، ص 119)
حضور ﷺ نے
غریب ہونے کی بناء پر کسی میں کوئی فرق و امتیاز نہیں فرمایا حضور ﷺ نے سب غریب
اور مساکین سے محبت کی اور انہیں وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ اب وہ مقام کسی کو
حاصل نہیں۔ جیساکہ؛
کعبے
کی چھت پر اذان: جب
نماز کا وقت ہوا تو حضور ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیاکہ کعبے کی چھت پر
چڑھ کر آذان دیں۔ (سیرت مصطفےٰ، ص 443)
یہ وہ مقام و
مرتبہ ہے کہ اب یہ خصوصیت کسی کو حاصل نہیں حضور ﷺ کی غریب و نادار صحابہ سے محبت اس مثال میں مکمل
ملتی ہے
مجھے
مسکینوں میں اٹھانا: حضرت ابو سعید خضری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
مساکین سے محبت کرو کیونکہ میں نے رسول خدا محبوب انبیاء ﷺ کودعا میں یہ الفاظ
شامل فرماتے سنا: اللھم احینی مسکینا
وامتنی مسکینا وحشرنی فی زمرۃ المساکین یعنی اے اللہ مجھے مسکینی کی
حالت میں حیات اور مسکینی کی حالت میں وصال عطا فرماء اور گروہ مساکین میں میرا
حشر فرما۔ (غریب فائدے میں ہے، ص 16)
فقرا مساکین
کی کیا شان ہے کہ حضور ﷺگروہِ مساکین میں شامل ہونے اور اس گروہ کو اپنی رفاقت کی
برکتوں سے نوازنے کی خواہش اور ان سے محبت کی تلقین فرمارہے ہیں۔
اصحابِ
صفہ: قارئین
کرام اصحابِ صفہ یہ وہ غریب صحابہ ہیں جو علم دین حاصل کرنے کے لیے حضورﷺ کے پاس
آتے تھے، حضورﷺ نے ان کے لیے مسجد نبوی کی تعمیر کےساتھ ہی ایک چبوترہ بنایاجسے صفہ کہتے ہیں ان میں زیادہ
تعداد مہاجرین کی تھی۔
اس سے اصحابِ
صفہ کی علم دین سے محبت اور حضور ﷺکی ان
غریب صحابہ کرام سے محبت کا پتا چلتا ہے کہ حضور کتنے کریم غربا سے محبت فرمانے والے تھے۔
اس سے ہمیں یہ
بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں بھی حضور ﷺ
کی سنت کو لازم پکڑنا ہے اور اسکول میں
محلے میں اور اپنے رشتے داروں میں آس پاس جو غریب ہیں ان سے محبت سے پیش آئیے ان کی عزت نفس کا خیال رکھے اور کسی غریب کا
مذاق نا اڑائیں اور انکی مالی مدد بھی
کریں کہ اللہ اسے اپنے قریب رکھے گا جو غریبوں اور مسکینوں کو اپنے قریب رکھے گا۔
اللہ پاک ہمیں
ان سب باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami