وعدہ سے مراد ایک شخص کا کسی دوسرے شخص کو کسی کام کے
کرنے یا نہ کرنے کا یقین دلانا۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو
اخلاقی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ انہی اعلی اخلاقی صفات میں سے ایک وعدہ وفائی ہے۔ دین
اسلام میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ وعدے کو پورا کرنے سے معاشرے
میں امن، اتحاد ،محبت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وعدہ خلافی سے معاشرے میں
انتشار اور عدم اعتماد پھیلتا ہے اور لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور یقین بحال
نہیں رہتا۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا ہے۔
(1) وَ اَوْفُوْا
بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل: 34)
آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت
کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
(2)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔
(المائدۃ: 1)
(3)
وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم
ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی
عہد کرو۔ (النحل: 91)
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے
اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی
قسم ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱،
۳ / ۱۴۰)
حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ،
کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔ (
تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱،
۷ / ۲۶۳)
اسی طرح ایک مقام پر فرمایا : وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ
اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)
ترجمہ کنز العرفان: اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا
عہد پورا کروں گا اورصرف مجھ سے ڈر و۔ (البقرۃ:40)
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے
وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ( المومنون:8 )
تفسیر صراط
الجنان:اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے
کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور
جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کی وعدہ وفائی
ایک عظیم اخلاقی صفت ہے اور کامیاب مومن کی نشانی ہے۔ان آیات کریمہ کے ذریعے وعدہ
کو پورا کرنے کا بیان واضح ہو گیا ہے وہ وعدہ چاہے بندے نے اللہ پاک سے کیا ہو یا
کسی اور بندے سے کیا ہو۔
اسلام میں اخلاق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ایفائے
عہد اور وعدے کی پابندی بھی درست اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری
شاخ ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ ایفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے کسی
جگہ اسے پرہیزگاروں اور سچوں کی نشانی قرار دیا گیا اور کسی جگہ کفار سے بھی وعدہ
پورا کرنے کی تلقین کی گئی۔اس کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کا
بھی ذکر کیا گیا۔ ذیل میں وعدہ وفائی کے متعلق چار آیات اور انبیاء کرام علیہم
السلام کی وعدہ وفائی کے بارے میں دو آیات ملاحظہ کیجئے:
(1)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔
(سورۃ المائدۃ،آیت 1)
(2)
وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا
ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت 177)
اس آیت مبارکہ میں وعدہ وفائی کو نیکی کی ایک قسم اور
پرہیزگار لوگوں کی نشانی قرار دیا گیا۔
(3) اِلَّا الَّذِیْنَ
عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَمْ
یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى
مُدَّتِهِمْ
ترجمہ کنزالعرفان: مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ
تھا پھر انہوں نے تمہارے معاہدے میں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے مقابلے میں کسی کی
مدد نہیں کی تو ان کا معاہدہ ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔(سورۃ التوبہ ، آیت 4)
اس آیت مبارکہ میں کفار کے ساتھ بھی ایفائے عہد کی تلقین
کی گئی ہے تو پھر مسلمانوں کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی کس قدر تاکید ہوگی۔
(4)
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ ( سورۃ الاسراء ، آیت 34)
آیت میں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا گیا خواہ وہ اللہ
تعالی کا ہو یا مسلمانوں کا اور اس آیت میں لوگوں کو ڈرایا بھی گیا کہ وعدے کے
متعلق(قیامت کے دن)سوال کیا جائے گا تاکہ لوگ وعدہ پورا کرنے میں سستی نہ کریں۔
(2) وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ
اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴)
ترجمہ کنزالعرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک
وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والا رسول تھا۔(سورۃ المریم، آیت 54)
اس آیت مبارکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک صفت
وعدہ وفائی کو ذکر کیا گیا آپ اس وصف میں بہت ممتاز تھے حتی کہ جب حضرت ابراہیم
علیہ السلام آپ کو ذبح کرنے کے لیے گئے تو آپ نے ذبح کے وقت صبر کا وعدہ کیا تھا
اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
رسول اللہ ﷺ کی وعدہ وفائی کا واقعہ:حضور
علیہ الصلوۃ والسلام خلق عظیم والے تھے اور وعدہ وفائی میں بھی رسول اللہ ﷺ کا خلق
عظیم بے مثال ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ
قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں
بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ ﷺ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد
فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر
رہا ہوں ۔( ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴ / ۴۸۸، الحدیث: ۴۹۹۶)
ان آیات مبارکہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ وعدے کی
پابندی کرنا ایمان والوں کی ذمہ داری ہے اور وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت ہے ہمیں
بھی چاہیے کہ ہم اللہ عزوجل کے اور آپس کے وعدوں کو مکمل ثابت قدمی سے پورا کریں
اللہ عزوجل ہمیں ایفائے عہد کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین صَلَّی
اللہ تَعَالیٰ علَیہ وآلِہٖ وسلَّم ۔
دین اسلام کامل و اکمل اور مکمل ضابطہ حیات ہیں دین
اسلام نے جس طرح عبادات اور نیک اعمال کرنے کا حکم دیا اسی طرح معاشرے کو سدھارنے
کے لیے اعلی اور عمدہ صفات کو بھی بیان فرمایا انہی میں سے ایک وصف وعدہ وفائی بھی
ہے قرآن پاک نے متعدد مقامات پر وعدہ پورا کرنے کی فضیلت کو بیان کیا ہے آئیے ہم
بھی وعدہ وفائی کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
(1)عہد کے بارے میں سوال ہوگا؟وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (پ 15،سورۃ الاسراء، آیت نمبر 34)
(2) اللہ وعدہ پورا کرنے والوں کے ساتھ ہیں ؟مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ
اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (۷۶) ترجمہ
کنز الایمان: جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ
کو خوش آتے ہیں۔ (پ 3 ،سورۃ اٰل عمران، آیت نمبر 76)
(3) قرآن پاک میں وعدہ پورا کرنے والوں کی مثال ہیں ؟وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ
اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِترجمہ
کنز العرفان:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا ۔ (پ 16،سورۃ
المریم، آیت نمبر 54)
(4) وعدہ کی رعایت کرنے والے؟ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے
وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ (پ 18،سورۃ المومنون ،آیت نمبر 8)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپناوعدہ پورا کرنے اور
دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہ علیہ وسلم۔
محمد حنظلہ حنیف(درجہ خاصہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور بھروسہ پر قائم ہوتی
ہے، اور اعتماد کی اصل جڑ وعدہ وفائی ہے۔ جب افراد، خاندان اور قومیں اپنے وعدوں کی
پاسداری کرتی ہیں تو معاشرہ مضبوط اور پُرامن بنتا ہے، اور جب وعدہ خلافی عام ہو
جائے تو بداعتمادی، جھگڑے اور انتشار جنم لیتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے وعدہ پورا کرنے
کو ایمان کی علامت اور اعلیٰ اخلاقی قدر قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ
کا واضح حکم موجود ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل 17:34)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ محض دنیاوی معاملہ نہیں
بلکہ آخرت میں اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ یعنی جو شخص وعدہ کرتا ہے وہ دراصل
اللہ کو گواہ بنا کر ایک ذمہ داری قبول کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ المائدۃ میں ارشاد
ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے
کرو۔ (سورۃ المائدہ 5:1)
یہ آیت ہر قسم کے معاہدوں کو شامل ہے، چاہے وہ کاروباری
ہوں، خاندانی ہوں یا معاشرتی۔ ایک مسلمان کا قول و فعل سچا اور پکا ہونا چاہیے۔قرآنِ
مجید نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد
کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون 23:8)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وعدہ وفائی ایمان والوں کی نمایاں
صفت ہے۔ جو شخص اپنے وعدے کا خیال نہیں رکھتا وہ دراصل اپنے ایمان کو کمزور کرتا
ہے۔احادیثِ نبویہ میں بھی وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
انسان سوچ سمجھ کر وعدہ کرے، کیونکہ وعدہ زبان سے نکلنے
والا ایک عہد ہے جسے پورا کرنا لازم ہے۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وعدہ صرف
بڑے معاملات میں ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ امور میں بھی پورا کیا جائے۔
والدین اگر بچوں سے کوئی وعدہ کریں تو اسے بھی پورا کریں، کیونکہ بچوں کی تربیت میں
سچائی اور وعدہ وفائی کا عملی نمونہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح کاروباری معاملات میں
وقت کی پابندی اور طے شدہ شرائط پر قائم رہنا بھی وعدہ وفائی میں شامل ہے۔قرآن ہمیں
یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو معاہدہ توڑنے کے بجائے باہمی
مشورے سے مسئلہ حل کیا جائے۔ اسلام انصاف، دیانت اور وفاداری کا دین ہے۔ وعدہ پورا
کرنا دراصل اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی
جڑ وعدہ خلافی ہے۔ سیاست ہو یا تجارت، اگر لوگ اپنے وعدوں کے پابند ہو جائیں تو بے
شمار جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذاتی زندگی سے اس اصلاح کا
آغاز کریں۔ ہر وعدہ سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے ہر حال میں پورا کریں۔
وعدہ وفائی ایک
عظیم اسلامی صفت ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ کوپورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
محمد عمیر عرفان (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اسلام انسان کو اعلیٰ اخلاق سکھاتا ہے اور وعدہ وفائی
انہی صفات میں سب سے اہم صفت شمار ہوتی ہے۔ وعدہ وفائی کا مطلب یہ ہے کہ جو بات ہم
اپنے قول یا عمل سے قبول کرتے ہیں، اسے ہر حال میں پورا کریں۔ قرآنِ مجید میں اللہ
تعالیٰ نے وعدہ وفائی کی اہمیت پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ وعدہ پورا کرنا نہ
صرف انسانی تعلقات کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ایمان کی نشانی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل:
34)
آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت
کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)
یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ وعدہ وفائی ہر مسلمان کی پہچان
ہے۔ چاہے وہ کسی دوست، رشتہ دار، یا کسی کاروباری معاملے کا وعدہ ہو، اسے پورا
کرنا ضروری ہے۔ وعدہ خلافی نہ صرف تعلقات کو خراب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بے
اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
قرآنِ پاک میں اہلِ ایمان کی ایک اور صفت بھی بیان کی گئی
ہے:وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ
کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔(سورۃ
المؤمنون: 8)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی اور امانت داری ایمان
کی علامت ہیں۔ جو شخص اپنے وعدے کا پابند نہیں، اس کا ایمان نامکمل ہے۔ حضور نبی
کریم ﷺ کی پوری زندگی وعدہ وفائی کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی وعدے کی
خلاف ورزی نہیں کی، چاہے وہ دشمنوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ہو یا دوستوں کے ساتھ کیا
گیا ہو۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کو صادق و امین کہا گیا۔
آج کے دور میں اکثر لوگ وقتی فائدے کے لیے وعدہ توڑ دیتے
ہیں۔ یہ رویہ معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے وعدے کی
پاسداری کرے تو معاشرے میں سکون اور اعتماد قائم ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ وعدہ کرنے سے
پہلے سوچیں اور پھر ہر صورت اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے
وعدہ پورا نہ ہو سکے تو پہلے سے اطلاع دے دیں یا معذرت کریں۔وعدہ وفائی صرف دوسروں
کے ساتھ تعلقات کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی
ہے۔ جو انسان اپنے قول و عمل میں سچا اور دیانت دار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے
اعمال قبول فرماتا ہے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
وعدہ وفائی انسان کو عزت، احترام اور اعتماد عطا کرتی
ہے۔ یہ ایمان کی نشانی ہے اور اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے
عہد و پیمان کی حفاظت کرنے اور ہر وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ تعالیٰ نےہمیں عہد کو پورا کرنے کا حکم دیتے ہوئے
ارشاد فرمایا :وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ
کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔(بنی اسرائیل:34)
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ: اور عہد پورا کرو ۔ آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا
گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس
کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔( روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۱۵۵،
خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴،
۳ / ۱۷۴، ملتقطاً )
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر
ارشاد فرمایا :وَ الْمُوْفُوْنَ
بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا
قول پورا کرنے والے جب عہد کریں۔(البقرۃ:177)
اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ
اللہ تعالیٰ سے کئے ہوں یا رسول کریم ﷺ سے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا
کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں
کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔
ایک اور مقام پر
ارشاد فرمایا :وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ
اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول
باندھو۔(النحل:91)
حضرت علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں:عہد سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے پورا کرنا انسان پر لازم ہے خواہ اسے
پورا کرنا اللہ تعالیٰ نے بندے پر لازم کیا ہو یا بندے نے خود اسے پورا کرنا اپنے
اوپر لازم کر لیا ہو جیسے پیرانِ عظام کے اپنے مریدین سے لئے ہوئے عہد کیونکہ ان میں
مریدین اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہ کرنے
کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں لہٰذا مریدین پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔( صاوی،
النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۱۰۸۸-۱۰۸۹)
وعدہ پورا کرنے کی
فضیلت اور عہد شکنی کی مذمت:حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن عہد شکنی
کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں
کی عہد شکنی ہے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
اسد بلال (درجہ رابعہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ
رضویہ ،سرگودھا ،پاکستان)
وعدہ کا لغوی معنی: کسی سے کوئی بات طے
کرنا، قول و اقرار یا اچھی بری بات کا یقین دلانا ہے۔اصطلاحی طور پر وعدے سے مراد
کسی دوسرے شخص سے آنے والے وقت میں کسی کام کے کرنے، کچھ دینے یا ملنے کا پختہ
ارادہ ظاہر کرنا ہے۔
اسلام میں ایفائے عہد کی اہمیت:اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہےان اعلیٰ صفات میں سے ایک عظیم
صفت ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا ہے۔ اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زور دیا ہے۔ ایفائے
عہد سے معاشرے میں اعتماد، محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور
بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ عہد کرنا اور توڑنا آج معاشرے کا وطیرہ بن گیا ہے۔ ہمیں ہر
حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو
سکیں۔
عہد کے متعلق پوچھا جائے گا:اللہ
تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا(۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ ( سورۃبنی اسرائیل: 34
)
افسوس ہے کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال
کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد
کر کے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ (تفسیر صراط
الجنان ،جلد نمبر 5 ،صفحہ نمبر 460)
اللہ کے عہد کو پورا کرو :اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ (سورۃ
الانعام:152)
مذکورہ بالا آیت
میں زندگی بسر کرنے کا جو لازوال اصول بیان ہوا ہے وہ اللہ کا وعدہ پورا کرنا ہے یعنی
صرف اللہ عزوجل کے عہد پورے کرو۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کے عہد پورے نہ
کرو۔ اگر تم نے غلطی سے کسی سے ناجائز عہد کر لیا تو فوراً توڑ دو مثلاً اگر کسی سے
وعدہ کیا قسم کھائی کہ اس کے ساتھ شراب پئیں گے یا چوری کریں گے تو یہ وعدہ توڑ دو
اور قسم کا کفارہ دے دو۔ آیت میں عہد اللہ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ عزوجل نے
اپنے بندوں پر لازم فرمایا یعنی وہ احکام جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ذریعے ان کو پورا کرنے کا حکم ہے۔(تفسیر صراط الجنان ،جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 243)
اپنے عہد پورے کیا کرو:اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ:1)
مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ خواہ عہد اللہ کا ہو یا
بندوں کا اس کو ہر حال میں پورا کرنا چاہیے۔ اگر ہم وعدہ پورا کریں گے تو لوگ ہم
سے خوش ہوں گے، ہمیں اچھا سمجھیں گے، اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ہم سے خوش ہوگا اور
اگر ہم وعدہ توڑیں گے تو لوگ ہم پر اعتماد نہیں کریں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر
حال میں عہد کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔
Dawateislami