واٹس ایپ نمبر: 03137964708

انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور بھروسہ پر قائم ہوتی ہے، اور اعتماد کی اصل جڑ وعدہ وفائی ہے۔ جب افراد، خاندان اور قومیں اپنے وعدوں کی پاسداری کرتی ہیں تو معاشرہ مضبوط اور پُرامن بنتا ہے، اور جب وعدہ خلافی عام ہو جائے تو بداعتمادی، جھگڑے اور انتشار جنم لیتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے وعدہ پورا کرنے کو ایمان کی علامت اور اعلیٰ اخلاقی قدر قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم موجود ہے:

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل 17:34)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ محض دنیاوی معاملہ نہیں بلکہ آخرت میں اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ یعنی جو شخص وعدہ کرتا ہے وہ دراصل اللہ کو گواہ بنا کر ایک ذمہ داری قبول کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدہ 5:1)

یہ آیت ہر قسم کے معاہدوں کو شامل ہے، چاہے وہ کاروباری ہوں، خاندانی ہوں یا معاشرتی۔ ایک مسلمان کا قول و فعل سچا اور پکا ہونا چاہیے۔قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون 23:8)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وعدہ وفائی ایمان والوں کی نمایاں صفت ہے۔ جو شخص اپنے وعدے کا خیال نہیں رکھتا وہ دراصل اپنے ایمان کو کمزور کرتا ہے۔احادیثِ نبویہ میں بھی وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔

انسان سوچ سمجھ کر وعدہ کرے، کیونکہ وعدہ زبان سے نکلنے والا ایک عہد ہے جسے پورا کرنا لازم ہے۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وعدہ صرف بڑے معاملات میں ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ امور میں بھی پورا کیا جائے۔ والدین اگر بچوں سے کوئی وعدہ کریں تو اسے بھی پورا کریں، کیونکہ بچوں کی تربیت میں سچائی اور وعدہ وفائی کا عملی نمونہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح کاروباری معاملات میں وقت کی پابندی اور طے شدہ شرائط پر قائم رہنا بھی وعدہ وفائی میں شامل ہے۔قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو معاہدہ توڑنے کے بجائے باہمی مشورے سے مسئلہ حل کیا جائے۔ اسلام انصاف، دیانت اور وفاداری کا دین ہے۔ وعدہ پورا کرنا دراصل اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی جڑ وعدہ خلافی ہے۔ سیاست ہو یا تجارت، اگر لوگ اپنے وعدوں کے پابند ہو جائیں تو بے شمار جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذاتی زندگی سے اس اصلاح کا آغاز کریں۔ ہر وعدہ سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے ہر حال میں پورا کریں۔

وعدہ وفائی ایک عظیم اسلامی صفت ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ کوپورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔