محمد عمیر عرفان (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03441364042
اسلام انسان کو اعلیٰ اخلاق سکھاتا ہے اور وعدہ وفائی
انہی صفات میں سب سے اہم صفت شمار ہوتی ہے۔ وعدہ وفائی کا مطلب یہ ہے کہ جو بات ہم
اپنے قول یا عمل سے قبول کرتے ہیں، اسے ہر حال میں پورا کریں۔ قرآنِ مجید میں اللہ
تعالیٰ نے وعدہ وفائی کی اہمیت پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ وعدہ پورا کرنا نہ
صرف انسانی تعلقات کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ایمان کی نشانی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل:
34)
آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت
کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)
یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ وعدہ وفائی ہر مسلمان کی پہچان
ہے۔ چاہے وہ کسی دوست، رشتہ دار، یا کسی کاروباری معاملے کا وعدہ ہو، اسے پورا
کرنا ضروری ہے۔ وعدہ خلافی نہ صرف تعلقات کو خراب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بے
اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
قرآنِ پاک میں اہلِ ایمان کی ایک اور صفت بھی بیان کی گئی
ہے:وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ
کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔(سورۃ
المؤمنون: 8)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی اور امانت داری ایمان
کی علامت ہیں۔ جو شخص اپنے وعدے کا پابند نہیں، اس کا ایمان نامکمل ہے۔ حضور نبی
کریم ﷺ کی پوری زندگی وعدہ وفائی کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی وعدے کی
خلاف ورزی نہیں کی، چاہے وہ دشمنوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ہو یا دوستوں کے ساتھ کیا
گیا ہو۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کو صادق و امین کہا گیا۔
آج کے دور میں اکثر لوگ وقتی فائدے کے لیے وعدہ توڑ دیتے
ہیں۔ یہ رویہ معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے وعدے کی
پاسداری کرے تو معاشرے میں سکون اور اعتماد قائم ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ وعدہ کرنے سے
پہلے سوچیں اور پھر ہر صورت اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے
وعدہ پورا نہ ہو سکے تو پہلے سے اطلاع دے دیں یا معذرت کریں۔وعدہ وفائی صرف دوسروں
کے ساتھ تعلقات کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ
بھی ہے۔ جو انسان اپنے قول و عمل میں سچا اور دیانت دار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس
کے اعمال قبول فرماتا ہے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
Dawateislami