واٹس ایپ نمبر: 03083334211

اسلام میں اخلاق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ایفائے عہد اور وعدے کی پابندی بھی درست اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری شاخ ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ ایفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے کسی جگہ اسے پرہیزگاروں اور سچوں کی نشانی قرار دیا گیا اور کسی جگہ کفار سے بھی وعدہ پورا کرنے کی تلقین کی گئی۔اس کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کا بھی ذکر کیا گیا۔ ذیل میں وعدہ وفائی کے متعلق چار آیات اور انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کے بارے میں دو آیات ملاحظہ کیجئے:

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (سورۃ المائدۃ،آیت 1)

(2) وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 177)

اس آیت مبارکہ میں وعدہ وفائی کو نیکی کی ایک قسم اور پرہیزگار لوگوں کی نشانی قرار دیا گیا۔

(3) اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ

ترجمہ کنزالعرفان: مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے معاہدے میں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد نہیں کی تو ان کا معاہدہ ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔(سورۃ التوبہ ، آیت 4)

اس آیت مبارکہ میں کفار کے ساتھ بھی ایفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے تو پھر مسلمانوں کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی کس قدر تاکید ہوگی۔

(4) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ( سورۃ الاسراء ، آیت 34)

آیت میں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا گیا خواہ وہ اللہ تعالی کا ہو یا مسلمانوں کا اور اس آیت میں لوگوں کو ڈرایا بھی گیا کہ وعدے کے متعلق(قیامت کے دن)سوال کیا جائے گا تاکہ لوگ وعدہ پورا کرنے میں سستی نہ کریں۔

(2) وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴)

ترجمہ کنزالعرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والا رسول تھا۔(سورۃ المریم، آیت 54)

اس آیت مبارکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک صفت وعدہ وفائی کو ذکر کیا گیا آپ اس وصف میں بہت ممتاز تھے حتی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کو ذبح کرنے کے لیے گئے تو آپ نے ذبح کے وقت صبر کا وعدہ کیا تھا اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی۔

رسول اللہ ﷺ کی وعدہ وفائی کا واقعہ:حضور علیہ الصلوۃ والسلام خلق عظیم والے تھے اور وعدہ وفائی میں بھی رسول اللہ ﷺ کا خلق عظیم بے مثال ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ ﷺ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔( ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴ / ۴۸۸، الحدیث: ۴۹۹۶)

ان آیات مبارکہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ وعدے کی پابندی کرنا ایمان والوں کی ذمہ داری ہے اور وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ عزوجل کے اور آپس کے وعدوں کو مکمل ثابت قدمی سے پورا کریں اللہ عزوجل ہمیں ایفائے عہد کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علَیہ وآلِہٖ وسلَّم ۔