فون نمبر : 03297869212

وعدہ سے مراد ایک شخص کا کسی دوسرے شخص کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا یقین دلانا۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اخلاقی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ انہی اعلی اخلاقی صفات میں سے ایک وعدہ وفائی ہے۔ دین اسلام میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ وعدے کو پورا کرنے سے معاشرے میں امن، اتحاد ،محبت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وعدہ خلافی سے معاشرے میں انتشار اور عدم اعتماد پھیلتا ہے اور لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور یقین بحال نہیں رہتا۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا ہے۔

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل: 34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (المائدۃ: 1)

(3) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو۔ (النحل: 91)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۱۴۰)

حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔ ( تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۷ / ۲۶۳)

اسی طرح ایک مقام پر فرمایا : وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اورصرف مجھ سے ڈر و۔ (البقرۃ:40)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ( المومنون:8 )

تفسیر صراط الجنان:اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کی وعدہ وفائی ایک عظیم اخلاقی صفت ہے اور کامیاب مومن کی نشانی ہے۔ان آیات کریمہ کے ذریعے وعدہ کو پورا کرنے کا بیان واضح ہو گیا ہے وہ وعدہ چاہے بندے نے اللہ پاک سے کیا ہو یا کسی اور بندے سے کیا ہو۔