وعدہ کا لغوی معنی: کسی سے کوئی بات طے
کرنا، قول و اقرار یا اچھی بری بات کا یقین دلانا ہے۔اصطلاحی طور پر وعدے سے مراد
کسی دوسرے شخص سے آنے والے وقت میں کسی کام کے کرنے، کچھ دینے یا ملنے کا پختہ
ارادہ ظاہر کرنا ہے۔
اسلام میں ایفائے عہد کی اہمیت:اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہےان اعلیٰ صفات میں سے ایک عظیم
صفت ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا ہے۔ اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زور دیا ہے۔ ایفائے
عہد سے معاشرے میں اعتماد، محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور
بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ عہد کرنا اور توڑنا آج معاشرے کا وطیرہ بن گیا ہے۔ ہمیں ہر
حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو
سکیں۔
عہد کے متعلق پوچھا جائے گا:اللہ
تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا(۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ ( سورۃبنی اسرائیل: 34
)
افسوس ہے کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال
کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد
کر کے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ (تفسیر صراط
الجنان ،جلد نمبر 5 ،صفحہ نمبر 460)
اللہ کے عہد کو پورا کرو :اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ (سورۃ
الانعام:152)
مذکورہ بالا آیت
میں زندگی بسر کرنے کا جو لازوال اصول بیان ہوا ہے وہ اللہ کا وعدہ پورا کرنا ہے یعنی
صرف اللہ عزوجل کے عہد پورے کرو۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کے عہد پورے نہ
کرو۔ اگر تم نے غلطی سے کسی سے ناجائز عہد کر لیا تو فوراً توڑ دو مثلاً اگر کسی سے
وعدہ کیا قسم کھائی کہ اس کے ساتھ شراب پئیں گے یا چوری کریں گے تو یہ وعدہ توڑ دو
اور قسم کا کفارہ دے دو۔ آیت میں عہد اللہ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ عزوجل نے
اپنے بندوں پر لازم فرمایا یعنی وہ احکام جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ذریعے ان کو پورا کرنے کا حکم ہے۔(تفسیر صراط الجنان ،جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 243)
اپنے عہد پورے کیا کرو:اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ:1)
مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ خواہ عہد اللہ کا ہو یا
بندوں کا اس کو ہر حال میں پورا کرنا چاہیے۔ اگر ہم وعدہ پورا کریں گے تو لوگ ہم
سے خوش ہوں گے، ہمیں اچھا سمجھیں گے، اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ہم سے خوش ہوگا اور
اگر ہم وعدہ توڑیں گے تو لوگ ہم پر اعتماد نہیں کریں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر
حال میں عہد کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔
Dawateislami