اس مضمون میں اس عظیم ہستی سے حضور ﷺ کی محبت کا تذکرہ کیا جائے گا جو شیر خدا بھی ہیں، داماد مصطفیٰ ﷺ بھی ہیں، حیدر کرار بھی ہیں، صاحب ذوالفقار بھی ہیں، حضرت فاطمۃ الزہراء کے شوہر نامدار بھی ہیں، صاحب سخاوت بھی، صاحب شجاعت بھی، صاحب عبادت بھی، صاحب ریاضت بھی، صاحب فصاحت بھی، صاحب بلاغت بھی، ان پاک ہستی کا مبارک نام ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم۔

یوں تو تمام صحابہ کرام ہی مقتدی بہ ہیں، ستاروں کی طرح اور شمع رسالت کے پروانے ہیں اور پیارے آقا ﷺ تمام صحابہ کرام کو محبوب رکھتے تھے مگر اس محبوبیت سے جو خاص حصہ حضرت علی کو ملا ان کا اندازہ ان احادیث کریمہ سے لگائیے:

1۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا (مفہوما) تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

2۔ پیارے آقا ﷺ نے خیبر کے موقع پر فرمایا (مفہوماً) میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھ پر خدائے رحمن فتح عطا فرمائے گا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں، پھر آپ ﷺ نے حضرت علی کو جھنڈا عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

3۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور ﷺ سے اتنا قرب و نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے (والعیاذ باللہ تعالیٰ)

4۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

5۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ (خلفائے راشدین، ص 279)

یعنی جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔

6۔ جب کوئی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ابو تراب کہہ کر پکارتا تو آپ نہایت خوش ہوا کرتے تھے اور رحمت عالم ﷺ کے لطف و کرم کے مزے لیتے تھے اس لیے کہ یہ کنیت آپ کو حضور ﷺ ہی سے عنایت ہوئی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک روز آپ مسجد میں آکر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم پر کچھ مٹی لگ گئی تھی کہ اتنے میں حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کی مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا: اے مٹی والے اٹھو! اس روز سے آپ کی کنیت ابو تراب ہو گئی۔ (خلفائے راشدین، ص 281)

7۔ حضور ﷺ نے فرمایا: علی المرتضیٰ (کرم اللہ وجہہ الکریم) کو دیکھنا عبادت ہے۔ (کرامات شیر خدا، ص 28)

8۔ حضور ﷺ نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

10۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں۔(ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

نیز ان کے علاوہ پیارے آقا ﷺ نے حضرت علی کو خصوصی طور پر جنتی ہونے کی بشارت دی، اس سے بھی آپ ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا ظہور ہوتا ہے۔ اللہ و رسول نے آپ کو اپنا محبوب قرار دے کر ایسا ممتاز مقام عطا فرمایا کہ جس تک کوئی بڑے سے بڑا ولی، قطب، غوث، ابدال، بھی نہیں پہنچ سکتا۔

اللہ ہمیں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین


دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے جن میں سے اکثر ایسے ہوئے جن میں کوئی کمال و خوبی نہیں اور بعض ایسے ہوئے جو صرف چند خوبیوں کے مالک تھے مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذاتِ گرامی بہت سے کمال و خوبیوں کی جامع ہے۔آپ شیر خدا بھی ہیں اور دامادِ مصطفٰی ﷺ بھی، حضرت فاطمۃ الزہرا کے شوہرِ نامدار بھی ہیں اور حسنینِ کریمین کے والدِ بزرگوار بھی۔غرض یہ کہ آپ بہت سے کمالات و خوبیوں کے مالک ہیں۔

چونکہ آپ بچپن ہی سے نبی کریم ﷺ کے دامنِ کرم سے وابستہ رہے لہذا حضور ﷺ کو آپ سے خصوصی انسیت تھی۔آپ کی بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اہم خوبی یہ ہے کہ آپ محبوبِ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کے محبوب بھی ہیں۔

متعدد احادیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے الفت و محبت کا جو اظہار فرمایا ان میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں:

دنیا و آخرت میں بھائی: ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت علی روتے ہوئے آئےاور کہا:اللہ کے رسول ﷺ آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سی نہیں فرمائی۔تو سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا:تم دنیا و آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

علی سے بغض نبی سے بغض: نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جس نے علی کو برا بھلا کہا اس نے مجھے برا بھلا کہا اور جس نے مجھے برا بھلا کہا (نعوذ باللہ )اس نے اللہ پاک کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

نبی کریم ﷺ کی حضرت علی سے بے پناہ محبت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی لاڈلی شہزادی، شہزادی کونین بی بی فاطمتہ الزہرا کا نکاح حضرت علی سے فرمایا۔

چنانچہ حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا پیغام بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:وہ تو چھوٹی (کم سن)ہیں۔ پھرحضرت علی نے شادی کا پیغام بھیجا تو آپ ﷺ نے فاطمہ کی شادی علی سے فرما دی۔

سب سے بڑھ کر محبوب:ایک دفعہ آپ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا:خاموش رہو کیونکہ میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کیا جو مجھے اپنے خاندان میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔

ایک اور مقام پہ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا آپ ﷺ نے دعا فرمائی: کہ اے اللہ میرے پاس ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

بیان کی گئی احادیث نبی کریم ﷺ کی مولا علی سے بے پناہ محبت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی صحابہ کرام اور اہلِ بیت سے سچی محبت کرنےاور ان کے صدقے سے ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


نبی کریم ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے محبت ایک ایسی حقیقت ہے جو سیرت نبی اور تاریخ اسلام کے ہر باب میں روشن طور پر نظر آتی ہے یہ محبت محض خاندانی رشتہ یا نسبی تعلق پر مبنی نہیں تھی بلکہ روحانی ایمانی اور اخلاقی کی بنیادوں پر تھی۔

غزوہ خبیر میں محبت کا اعلان: حضور ﷺ نے غزوہ خبیر میں فرمایا: کل میں علم اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009) اگلے دن وہ علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کو نہ صرف اللہ اور اس کے رسول سے محبت تھی بلکہ خود اللہ اور رسول ﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے۔

غدیر خم کے مقام پر رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں اے اللہ جو علی سے محبت کرے تو بھی اسے محبت کر اور جو علی سے دشمنی کرے تو بھی اسے دشمنی کر۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی حضرت علی سے محبت اور ان کی ولایت کی گواہی دیتی ہے۔

اہل بیت سے محبت کا حکم: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میرے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔

حضرت علی اہل بیت کے اہم رکن ہیں اور حضور ﷺ نے اہل بیت سے محبت کو امت کے لیے لازمی قرار دیا۔

حضرت علی کو علم اور عدالت میں مقام دینا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

یہ جملہ حضرت علی کے علم اور نبی ﷺ کے ان پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے حضور ﷺ کی محبت ایک عظیم مثال ہے جس میں روحانی قربت دینی اعتماد اور خاندانی رشتہ بھی شامل ہے یہ محبت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی سیاسی اور دینی طور پر بھی نمایاں رہی آور حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خود پرورش کی۔


رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو میں اپنے اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تعلقات میں محبت، شفقت اور خیر خواہی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہی میں سے ایک درخشاں مثال حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں، جو نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے بلکہ آپ کے زیرِ سایہ پرورش پانے والے اور دینِ اسلام کے عظیم سپاہی بھی تھے۔ حضور ﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی اور اس کا اظہار مختلف مواقع پر آپ ﷺ نے خود فرمایا۔

محبت کی گواہی احادیث میں:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)

اسی طرح ایک اور موقع پر اعلان فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)یہ دونوں احادیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربت، اہمیت اور آپ ﷺ کی ان سے محبت کا کھلا ثبوت ہیں۔

واقعاتی شواہد

غزوۂ خیبر: غزوہ خیبر کے موقع پر جب مسلمانوں کو مشکلات پیش آئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009) اگلے دن یہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔

یمن کا سفر: حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے بھیج رہے ہیں میں تو کم عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کے بارے میں کچھ کریم ﷺ نے اپنا دست شفقت فرماتے ہوئے فرمایا: اے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے اور زبان کو ثابت رکھ۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے میں پریشانی نہیں ہوئی۔ ماہنامہ فیضان مدینہ، سیرت ایڈیشن ستمبر 2025 ربیع الاول 1447)

آپ کو پیارے آقا ﷺ کی محبت اور شفقت سے بہت فیضان ملا۔

تبوک کا سفر: جب غزوۂ تبوک کے لیے رسول اللہ ﷺ تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا۔ اس پر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ویسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے؟ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

یہ کلمات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بلند مقام اور آپ ﷺ کی محبت کو نمایاں کرتے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان محبت کا رشتہ محض خاندانی نسبت پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ ایمان، ایثار اور روحانی قربت کا آئینہ دار تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو ان کی محبت کی طرف متوجہ کیا اور ان کے مقام و مرتبے کو واضح فرمایا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی آج بھی عشقِ رسول ﷺ اور دینِ اسلام کے لیے قربانی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہ محبت ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ حضور ﷺ کے محبوبین سے محبت دراصل خود حضور ﷺ کی محبت ہے، اور یہی محبت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔


نبی اکرم ﷺ کے قول و فعل سے جھلکتی ہوئی شفقت نے پوری کائنات کو ایمان اور محبت کا درس دیا۔ اس محبت کا ایک حسین جلوہ آپ کے چچا زاد بھائی، شیرِ خدا، فاتحِ خیبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ حضور ﷺ کی یہ محبت خاندانی نسبت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ دین کی خدمت میں حضرت علی کی جان نثاری، قربانی اور وفاداری کا صلہ تھی۔

حضرت علی اور قربتِ نبوی: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت پر حضور ﷺ نے خود انہیں غسلِ ولادت دیا۔ آپ آغاز ہی سے قربِ نبوی کے مقام پر فائز ہوئے۔ ولایت کے دروازے آپ سے ہی کھلے اور ہر ولی کو آپ ہی سے فیضِ ولایت ملا۔ آپ کے فضائل بے شمار ہیں۔ علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت علی کے فضائل صحیح روایات میں دیگر صحابہ کرام کے فضائل سے زیادہ بیان ہوئے، کیونکہ آپ کے زمانے میں خوارج نے آپ کے خلاف شور و شر کیا تو اہلِ سنت نے آپ کے فضائل کو خاص اہتمام کے ساتھ جمع کیا۔ (مراۃ المناجیح، 8/344)

حضور کی محبتِ مولا علی پر چند احادیث:

1۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مجھ سے اس درجے میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھا، بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

2۔ حضور ﷺ نے فرمایا: علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

3۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

4۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: منافق علی سے محبت نہیں کرے گا اور مسلمان علی سے بغض نہیں رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

5۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے مجھے چار مردوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور خبر دی ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے: علی، ابوذر، مقداد اور سلمان۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حبِ علی ایمان کی علامت ہے اور بغضِ علی نفاق کی نشانی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ہمارے لیے سبق رکھتی ہے کہ ہم بھی ان سے محبت کریں جن سے اللہ اور اس کے رسول محبت فرماتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت دراصل محبتِ رسول ﷺ کی نشانی ہے۔ آج کے مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے دل کو اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرام کی محبت سے منور کرے، کیونکہ یہی محبت ایمان کی پختگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔


حضور ﷺ ویسے تو اپنے تمام صحابہ کرام سے بہت محبت کرتے تھے لیکن حضرت علی سے آپ کی محبت کا انداز بہت ہی نرالا تھا۔ حضور ﷺ نے اسی محبت کی وجہ سے اپنی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح آپ سے کر کے آپ کو داماد مصطفیٰ ہونے کا شرف بخشا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ایک یہ بھی شرف حاصل ہے کہ آپ حضور ﷺ کی پرورش میں آئے اور آپ ہی کی گود میں ہوش سنبھالا۔

آئیے اس کے بارے میں کچھ سنتے ہیں:

اخوتِ رسول: حضرت علی کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ حضور ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ عقد مواخاة میں بھی آپ کے بھائی ہیں۔

جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی، ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

حضرت علی اور احادیث مبارکہ: حضرت علی کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں بلکہ امام احمد فرماتے ہیں جتنی حدیثیں آپ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

مؤمن بغض نہیں رکھ سکتا: روایت ہے حضرت زربن حبیش سے فرماتے ہیں فرمایا علی رضی الله عنہ نے اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی ﷺ نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق۔ (مراۃ المناجیح، 8/330)

سبحان اللہ! حضرت علی کی کیا ہی بلند و بالا شان ہے کہ سرکار ِاقدس ﷺ نے آپ سے محبت نہ کرنے کو منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ سے بغض و عداوت رکھنے والوں کو مومن نہ ہونے کا معیار قرار دیا۔

جس نے علی کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو بُرا بھلا کہا تو (گویا) اس نے مجھے بُرا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

یعنی حضرت علی کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی۔العیاذ باللہ

علی بھی اس کے مولیٰ: حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)


ترمذی اور حاکم حضرت بریدہ سے روایت کرتے ہیں۔رسول پاکﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ پاک نے حکم دیا ہے چار شخصوں کو دوست رکھوں اور یہ بھی بتلایا ہے کہ میں انہیں دوست رکھتا ہوں۔صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ ﷺ ان کے نام بیان فرمائیے۔ آپ نے فرمایا علی انہیں میں سے ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

رسول پاکﷺ نے فرمایا:علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)اس میں کمال قرابت کی طرف اشارہ ہے۔

احمد،ابوطفیل سے روایت کرتے ہیں ایک دن حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کشادہ(کھلی)جگہ میں جمع کیا اور کہا کہ میں ہر اس مسلمان کو قسم دےکر پوچھتا ہوں جو غدیرِخم کے روز وہاں تھاجب رسول اکرمﷺکھڑے تھے تو آپ نے کیا فرمایا تھا۔اس پر تیس شخصوں نے کھڑے ہو کر کہا آپﷺنے اس دن فرمایا تھا جس کا میں دوست ہوں اس کا علی بھی دوست ہے۔اے اللہ !جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس دشمن سمجھ۔ (تاریخ الخلفاء،ص 231)

ترمذی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان عقد مواخات کر دیاتھا۔یعنی ایک کو دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بچشمِ تر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے اپنے سب صحابہ میں عقد مواخات کر دیا ہے، مگر مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو اس پر آقاﷺ یہ فرمایا تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

طبرانی اور حاکم ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ (اس حدیث کی اسناد حسن ہیں)

احمد اور حاکم بسند صحیح عمار بن یاسر سے روایت کرتے ہیں رسول پاکﷺ نے حضرت علی سے فرمایا: دو شخص بہت ہی بدبخت ہیں ایک تو احمر جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ شخص جو اے علی تیرے سر پر تلوار مار کر ڈاڑھی کو خون سے رنگ دے یہ حدیث حضرت علی،صہیب اور جابر بن سمرہ وغیرہم سے بھی مروی ہے۔

ترمذی،ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں:ہم منافقین کو حضرت علی کے بغض سے پہچانا کرتے تھے۔ (مسند امام احمد، 1/128، حدیث: 972)


حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم ﷺ بہت محبت کرتے تھے اور تبھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی لخت جگر نور، نظر حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہما کو حضرت علی کے نکاح میں دے دیا اور خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ زہرا جب تک حیات رہیں آپ  نے نکاح ثانی نہ کیا۔

حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کے متعلق کچھ احادیث کریمہ پیش خدمت ہیں:

جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مومن بعض نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے عرض کیا کہ آپ نے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرادیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

حضور اکرم ﷺ کی حضرت علی سے محبت ایسی تھی کہ آپ کو اپنا بھائی بنا لیا اور ان کو اپنا بھائی بنانا ان کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔

اے کاش! ہمیں بھی حضرت مولا علی کی محبت اور اسلاف جیسا وہ عظیم جذبہ عطا ہو جو ہمارے دلوں کو تمام صحابہ کرام کی محبت سے سر شار کر دے۔اور ہمیں بھی ان کے صدقے بروز قیامت حضور اکرم شاہ بنی آدم نور مجسم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوجائے۔ حضرت علی اور پیارے آقا ﷺ کی محبت مثالی نمونہ ہے۔ ان ہستیوں کا مقام انبیائے کرام کے بعد آتا ہے۔ اور ان کی محبت کا باب بہت بڑا ہے اور تحریر میں یہ نہیں سما سکتی۔ ان کی مکمل سیرت کو پڑھنے کے لیے فیضان مولا علی کتاب کا مطالعہ کیجئے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں محبان اہل بیت میں زندہ رکھے انہی میں موت دے اور کل قیامت کے دن اہل بیت اطہار کا ساتھ اور شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین

علی سے میں ہوں اور مجھ سے ہیں جناب علی محبتوں کا بیاں یوں نصاب ہوتا ہے


حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۔ عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال ظاہری فرمائی آپ حضرت علی سے راضی تھے۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

حضرت علی کی شان و شوکت: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا حضرت علی کو تین ایسی فضیلتیں ملی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی مل جاتی تو میرے نزدیک وہ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہوتی لوگوں نے پوچھا وہ فضائل کیا ہیں تو آپ نے فرمایا: اول حضور ﷺ نے ان سے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کا نکاح کیا دوم آپ نے ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور ان کے لیے وہ حلال کیا جو مجھے حلال نہیں تیسرے جنگ خیبر میں علم (جھنڈا)علی کو عطا فرمایا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 369)

نبی رحمت ﷺ کو علی سے محبت کا حکم: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمیں ان کے نام بتا دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا ان میں سے ایک علی ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

پیاری پیاری اسلای بہنو! ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کی حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف پیارے آقا ﷺ بلکہ اللہ پاک بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے اور حضرت علی سے محبت کا حکم بھی دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ حضرت علی سے محبت کریں اور آپ کی سیرت پاک عمل بھی کریں۔

محبت کا نرالا پہلو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں خیال رہے کہ حضرت علی میں رب نے دو بزرگیاں/فضیلتیں جمع فرمائی ہیں صحابیت اور حضور کا اہل بیت میں سے ہونا آپ کے گھر میں حضور نے اور حضور کی گود میں آپ نے پرورش پائی غسل ولادت حضور نے جناب علی کو دیا اور غسل وفات جناب علی نے حضور کو دیا ادھر چار یار میں داخل ادھر پنجتن پاک میں شامل۔ (مراۃ المناجیح، 8/295)

دعائے مصطفی: حضرت علی سے روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک علی پر کرم فرما اے اللہ وہ جدھر رخ کریں حق بھی ادھر ہی ہو جائے۔ (عقائد اہل سنت صحاح ستہ کی روشنی میں، ص 574)


ا خوت رسول اللہ: حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ، عقد مواخاۃ، میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

علی کا مقام خاص: روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجے میں ہو جو ہارون کو موسی سے تھا بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

محبتِ رسول اللہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں یا اللہ جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اسے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (مسند امام احمد، 1/250، حدیث: 950)

عطائے رسول اللہ: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتدا فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)

علی علم کا دروازہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

قرب بے مثال: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی۔

جس نے آپ کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

علی کا دشمن، اللہ کا دشمن ہے: حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 135)


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے زیر سایہ پرورش پائی، بچوں میں سے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ برس تھی، آپ رضی اللہ عنہ بہادری اور علم میں ہے مثال تھے۔

حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ درج ذیل واقعات اور احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:

سرکار اقدس ﷺ نے جب اللہ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایاتو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلاکرفرمایاکہ مجھےخدائے رحمن کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہوجاؤں گا تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سورہو تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں ان کے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینے چلے آنا۔ (خلفائے راشدین، ص 255)

اُخوتِ رسول ﷺ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچازاد بھائی ہونے کے ساتھ عقد مواخاۃ میں بھی آپ ﷺ کے بھائی ہیں۔چنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنادیا حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3741)

انتہائی قریبی رشتہ: حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور مدد کی تعریف کی تو حضور ﷺ نے فرمایا: بےشک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں مطلب یہ ہے کہ علی کو مجھ سے کمال قرب حاصل ہے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: میں تم دونوں سے ہوں۔ (الکامل فی التاریخ، 2/28)

جس نے آپ کو براکہا: حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھے برا بھلا کہا۔ (سنن کبری للنسائی،5/133، حدیث:8476)

یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویاکہ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بےادبی کی۔ خلاصہ یہ ہےکہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے۔

اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت عطافرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں بلکہ امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جتنی حدیثیں آپ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں۔

1۔ مومن بعض نہیں رکھ سکتا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بعض وعداوت نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

سبحان اللہ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی کیا ہی بلند وبالا شان ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ سے محبت نہ کرنے کو منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے بعض وعداوت رکھنے کو مومن نہ ہونے کا معیار قرار دیا۔

یعنی جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت نہ کرے وہ منافق ہے اور جو ان سے بعض وعداوت رکھے وہ مومن نہیں ہے۔

2۔ جس نے آپ کو برا کہا:حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور ﷺ سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی وبے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی وبے ادبی کی۔

الغرض ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

3۔علی بھی اس کے مولیٰ: حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کھلے ہوئے میدان میں بہت سے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم غدیر میں میرے متلعق کیا ارشاد فرمایا؟ تو اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ حضور ﷺ نے اس روز فرمایا تھا: یعنی میں جس کا مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں۔ یااللہ! جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (مسند حمید، 1/250، حدیث: 950)

4۔ شہر علم کا دروازہ: طبرانی وبزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی وحاکم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی میں اس علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

5۔علی کا دشمن، اللہ کا دشمن: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (معجم کبیر، 23/ 380، حدیث: 901)

6۔ محبت بھرا منظر اور محبتوں بھرا جواب: مسلمانوں کے چوتھےخلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک مرتبہ بار گاہ رسالت ﷺ میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ کو وہ (حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟ تو میرے لجپال مدنی آقا ﷺ نے بڑا ہی خوبصورت جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔ (فیضان فاطمہ زہرا، ص 13)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے پاس سردار عرب کو بلاؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ فرمایا میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں۔ (اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے)

دعا ہے اللہ پاک ہمیں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔