اس مضمون میں اس عظیم ہستی سے حضور ﷺ کی محبت کا
تذکرہ کیا جائے گا جو شیر خدا بھی ہیں، داماد مصطفیٰ ﷺ بھی ہیں، حیدر کرار بھی ہیں،
صاحب ذوالفقار بھی ہیں، حضرت فاطمۃ الزہراء کے شوہر نامدار بھی ہیں، صاحب سخاوت
بھی، صاحب شجاعت بھی، صاحب عبادت بھی، صاحب ریاضت بھی، صاحب فصاحت بھی، صاحب بلاغت
بھی، ان پاک ہستی کا مبارک نام ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم۔
یوں تو تمام صحابہ کرام ہی مقتدی بہ ہیں، ستاروں کی
طرح اور شمع رسالت کے پروانے ہیں اور پیارے آقا ﷺ تمام صحابہ کرام کو محبوب رکھتے
تھے مگر اس محبوبیت سے جو خاص حصہ حضرت علی کو ملا ان کا اندازہ ان احادیث کریمہ
سے لگائیے:
1۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو
صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں
حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک
صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی
رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا (مفہوما) تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی
ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
2۔ پیارے آقا ﷺ نے خیبر کے موقع پر فرمایا (مفہوماً)
میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھ پر خدائے رحمن فتح عطا فرمائے
گا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں،
پھر آپ ﷺ نے حضرت علی کو جھنڈا عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)
3۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنا سے مروی ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا کہا۔ (مسند
احمد،10/228،حديث:26810)
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور ﷺ سے
اتنا قرب و نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ
اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا
حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے (والعیاذ باللہ تعالیٰ)
4۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور
علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)
5۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبّت کی اس نے
مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ (خلفائے راشدین،
ص 279)
یعنی جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی
اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔
6۔ جب کوئی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ابو
تراب کہہ کر پکارتا تو آپ نہایت خوش ہوا کرتے تھے اور رحمت عالم ﷺ کے لطف و کرم کے
مزے لیتے تھے اس لیے کہ یہ کنیت آپ کو حضور ﷺ ہی سے عنایت ہوئی تھی اس کا واقعہ یہ
ہے کہ ایک روز آپ مسجد میں آکر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم پر کچھ مٹی لگ گئی تھی
کہ اتنے میں حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کی مٹی
جھاڑتے ہوئے فرمایا: اے مٹی والے اٹھو! اس روز سے آپ کی کنیت ابو تراب ہو گئی۔ (خلفائے
راشدین، ص 281)
7۔ حضور ﷺ نے فرمایا: علی المرتضیٰ (کرم اللہ وجہہ
الکریم) کو دیکھنا عبادت ہے۔ (کرامات شیر خدا، ص 28)
8۔ حضور ﷺ نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا: تم مجھ
سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)
10۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولی ہوں علی بھی
اس کے مولی ہیں۔(ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)
نیز ان کے علاوہ پیارے آقا ﷺ نے حضرت علی کو خصوصی
طور پر جنتی ہونے کی بشارت دی، اس سے بھی آپ ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا ظہور ہوتا
ہے۔ اللہ و رسول نے آپ کو اپنا محبوب قرار دے کر ایسا ممتاز مقام عطا فرمایا کہ جس
تک کوئی بڑے سے بڑا ولی، قطب، غوث، ابدال، بھی نہیں پہنچ سکتا۔
اللہ ہمیں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی
سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین
Dawateislami