حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پیارے آقا ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں پس آپ بھی اہلِ بیت اطہار میں داخل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے وہ نوجوان ہیں جو اسلام کی دولت سے فیضیاب ہوئے اور آغوشِ نبوت میں پرورش پاتے رہے یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی شفقت و محبت نصیب ہوئی۔ (کراماتِ شیر خدا، ص 31)

اہلِ سنت والجماعت کی بہت سی کتبِ حدیث میں ایسی روایات موجود ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کی دلیل ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

حضرت علی سے محبت ایمان کی علامت: رسول پاک ﷺ اپنے چچا زاد بھائی، داماد، علم و شجاعت کے پیکر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ اس قدر محبت فرماتے کہ آپ سے محبت کرنے کو ایمان کی علامت قرار دے دیا چنانچہ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی ﷺ نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

حضرت علی سے محبت کا حکم: جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ سب اُس سے محبت کریں اور اس کی عزت کریں۔پیارے آقا ﷺ چونکہ مولا علی شیر خدا سے محبت کرتے تھے لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ علی ہیں تم میری محبت کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت رکھو اور میری عزت کے ساتھ ان کی بھی عزت کرو۔ (مولا علی شیر خدا، ص 9)

حضور کی حضرت علی سے محبت کا عملی اظہار: غزوہ خیبر کے موقع پر حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا عملی اظہار یوں ہوا کہ جب قلعہ قموس کو فتح کرنے کے لیے شیخین کریمین نے يكے بعد دیگرے مختلف دنوں میں حملے کیے مگر قلعہ قموس فتح نہ ہو سکا اور اس قلعہ کو فتح کرنے میں مشکل و دشواری پیش آئی تو ایک دن رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کل میں اُس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ و رسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی ۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس نعمت عظمیٰ کے لیے ترس رہے تھے مگر اللہ و رسول کا محب و محبوب ہونے کا یہ اعزاز و شرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا۔ (سیرت مصطفی، ص 387)

پیارے آقا ﷺ نے خود بھی حضرت علی المرتضی سے بے پناہ محبت فرمائی اور اپنی امت کو بھی آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہمیں چاہئے کہ ہم حکمِ رسول ﷺ پر عمل کریں۔

ہمارے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت وہ محبت ہے جو نجات دلانے والی ہے اگر ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں شریعت کی مقرر کردہ حدود کو توڑیں تو یہ محبت ہلاک کرنے والی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: لوگو سن لو! میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، میری محبت میں افراط کرنے والے (یعنی حد سے بڑھنے والے)، مجھے اُن صفات میں بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں۔ مجھ سے بغض رکھنے والوں کا بغض اُنہیں اُبھارے گا کہ مجھ پر بہتان لگائیں۔ (شانِ علی بزبان نبی، ص 14)

پس لازم ہے کہ ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں نہ افراط کے مرتکب ہوں اور نہ بغض و عداوت کی تفریط میں پڑیں، بلکہ اعتدال کے ساتھ وہی محبت رکھیں جو ایمان کی علامت اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔


پہلی مبارک غذا: جب آپ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام علی رکھا اور اپنا لعاب آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈالا اور اپنی مبارک زبان انہیں چوسنے کے لیے دی۔ (سيرة حلبیہ، 1/382)

شانِ علی بزبانِ نبی: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (معجم كبير، 32/380، حديث: 901)

حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا؟ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی،5/401، حدیث: 3741)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/199، حدیث: 3736)

بابرکت نکاح: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بچپن ہی سے حضور نبی کریم ﷺ کی تربیت ملی، فیضان نبوت کا فیض بلا واسطہ ملا پھر آپ رضی اللہ عنہ کے نصیب کی یاوری کہ آپ رضی اللہ عنہ کو دامادِ رسول بننے کی بھی سعادت ملی، جب آپ رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا تو رسول الله ﷺ نے قبول فرمایا اور خوشی کا اظہار فرمایا۔

محبت بھرا جواب: ایک مرتبہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی، یا رسول الله ﷺ! آپ کو وہ (حضرت بی بی فاطمہ) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟ تو نبی کریم ﷺ نے بڑا ہی پیارا جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔ (مسند حمیدی، 1/22، حدیث: 38)

فاتح خیبر: غزوۂ خیبر میں نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پرچمِ اسلام عطا فرمایا، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے نیز اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد میں بلکہ امام احمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جتنی حدیث شریف آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اس قدر تعداد میں حدیث پاک نہیں ہیں۔ ایک روایت ہے: علی المرتضیٰ کو دیکھنا عبادت ہے۔ (مستدرك، 4/118، حدیث: 4737)


یوں تو نبی کریم ﷺ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہی محبت تھی جس کا ذکر ہمیں کثیر احادیث کریمہ میں ملتا ہے حضور ﷺ کے تمام صحابہ گویا ان میں سے جن کی اقتداء کی جائے ستاروں کی طرح اور شمع رسالت کے پروانے ہیں اور تمام صحابہ میں سے اسلام کے چوتھے خلیفہ حیدر کرار ابو الحسن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی ہے جن سے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ بے حد محبت فرماتے تھے آپ رضی اللہ عنہ حضور کے چچا زاد بھائی ہیں آپ داماد رسول اللہ ﷺ ہے حضور ﷺ نے آپ سے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا۔ اور یہی نہیں حضور ﷺ کی نسل کی اصل کہ حضور کی اولاد آپ ہی سے چلی، حسنین کریمین کے والد، ولادت کے مرکز شریعت کے دریا ناپیدا کنار، آپ پنجتن پاک میں بھی داخل ہے اور یہی نہیں آپ چار یاروں میں بھی ہے،آپ کے گھر میں حضور کی پرورش ہوئی اور حضور اقدس ﷺ نے آپ کو پرورش کیا، غسل ولادت سرکار ﷺ نے جنابِ علی کو دیا اور غسل وفات حضرت علی نے حضور ﷺ کو دیا، حضور کی امت میں قاسمِ ولایت آپ ہی ہے ہر ولی کو آپ سے فیضِ ولایت ملتا ہے غرض یہ کہ آپ کے فضائل ریت کے ذروں آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہیں، آپ کے فضائل اور حضور کو آپ سے کتنی محبت تھی اس کا اندازہ احادیث کریمہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں: چنانچہ

1۔ اے علی تم مجھ سے ہو: حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہو۔ (بخاری، 2/212، حدیث:2699) حضرت علی کا بیان ہے کہ یہ فرمان عالیشان سن کر میں خوشی سے اچھل پڑا۔ (مسند امام احمد، 2/213، حدیث :857) اس کی شرح میں ہے یعنی تم علم، قرابت داری اور نسب کے اعتبار سے مجھ سے متصل (ملے ہوئے ہو) اور میں بھی نسب اور علم کے اعتبار سے تم سے متصل ہو۔ (عمدۃ القاری،11/441)

2۔ نبی کریم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت تھی لہذا فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ کے لیے ہارون تھے لیکن میرے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوگا۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416) یہ فرمان عالی شان سن کر حضرت علی عرض گزار ہوئے میں راضی ہوں میں راضی ہوں۔ (ارشاد الساری، 8/232، تحت الحدیث:3706)

سبحان اللہ کیا شان و مرتبہ ہے مولی کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کہ حضور فرمارہیں ہے کہ تم مجھ سے راضی ہو تم میرے لیے مثال ہارون علیہ السلام ہو۔ سبحان اللہ بس یہی نہیں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔ اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741) سبحان اللہ قربان جائیے شان علی رضی اللہ عنہ پر کہ حضور ﷺ کو آپ رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت ہے کہ سرکار ﷺ نے حضرت علی کو 2 مرتبہ اپنا بھائی بنانے کا اعزاز بخشا۔ (التوضیح شرح الجامع الصحیح، 3/538)

3۔ جس کا میں مددگار و کارساز ہوں تو علی بھی اس کے مددگار و کارساز ہیں۔ (ترمذی، 5/ 398، حدیث: 3733) مزید فرمایا کہ علی المرتضی کے چہرے کی زیارت کرنا عبادت ہے۔ (معجم کبیر، 10/76، حدیث: 10006)

نبی کریم ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے اس کا اندازہ اس فرمان عالی سے لگائے لہذا

4۔ ارشاد فرمایا: اے علی میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لئے وہی ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں۔ (ترمذی،1/309، حدیث: 282) یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور اس حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی انتہائی عظمت کا اظہار ہے ورنہ نبی ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 2/87)

5۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ کو میں زیادہ محبوب ہوں یا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: فاطمہ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے لیکن تم میرے نزدیک اُس سے زیادہ معزز ہو۔ (سنن کبری للنسائی،5/150، حدیث: 8531)

6۔ اللہ پاک نے مجھے 4 افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت فرماتا ہے۔ حاضرین نے عرض کی یارسول اللہ ہمیں انکے نام بتا دیجئے حضور ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: علی ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ابو ذر غفاری و مقداد اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حضرت علامہ مولانا علی بن سلیمان قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ان حضرات کا نام اس لیئے پوچھا کہ اللہ و رسول کی محبت کی اتباع میں ہم بھی اِن چاروں حضرات سے محبت کریں نام بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام تین مرتبہ لیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ آپ بقیہ تینوں حضرات سے افضل ہیں یا پھر حضور کو بقیہ تینوں حضرات سے جتنی محبت ہے اتنی محبت اکیلے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/622)

اللہ پاک ہمیں بھی اپنے محبوب ﷺ کے صدقے مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے لوث محبت نصیب فرمائے آمین اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین


علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم رسول کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی بھی ہیں اور آپ کے اہل بیت اظہار کے ایک مقدس فرد بھی آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو دنیا و آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا آپکو یہ سعادت ملی کہ خدائی منصوبے کے تحت آپکی تربیت کاشانہ نبوت میں ہوئی یہ اسی تربیت کا فیضان تھا کہ آپ کی ذات گرامی فیضان نبوت کا مظہر اتم بن گئی آپکو یہ سعادت ملی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں اپنی دامادی کا شرف بخشا اپنی سب سے لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں دی۔

رسولِ کریم ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: علی سے محبت ایمان کی علامت ہے اور آپ سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) اس حدیث پاک سے حضور کی حضرت علی سے محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ پاک نے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ پاک نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان چاروں سے محبت کرتا ہے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ وہ چار افراد کون کون سے ہیں؟فرمایا: ان میں سے ایک علی بن ابی طالب ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا عالم دیکھئے کی آپ فرماتے ہیں کہ جنت آپ پر عاشق ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت تین بندوں پر عاشق ہے: حضرت علی،حضرت عمار اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ۔

حضرت علی کو اذیت دینا رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے: رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے بارہا فرمایا کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں یہ انتہائی قرب اور محبت کو بیان کرنے کا ایک اسلوب ہے حضرت عمران بن حصین فرمائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا اور اس شکر کا سپہ سالار حضرت علی کو متعین فرمایا تو دوران سفر کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جو صحابہ کرام میں سے چار لوگوں کو نامناسب لگا انہوں نے آپس میں طے کیا کہ وہ واپس جاکر اسکا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کریں گے حضرت عمران فرماتے ہیں جب ہم اس سفر سے واپس آئے تو ہم سب سے پہلے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے ہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ حضرت علی نے اس اس طرح کیا تو آپ نے یہ سن کر روئے زیبا دوسری طرف پھیر لیا پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا آپ نے اس سے بھی اعراض کیا پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے اسکی بات سے بھی اعراض کیا جب چوتھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ بے شک علی نے اس اس طرح کیا تو اس کی بات سن کر آپکا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: علی کو کچھ نہ کہا کرو! علی کو کچھ نہ کہا کرو! بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی ہر مومن کا محبوب ہے بعض روایات کے مطابق آپ نے آخری جملے تین بار دہرائے اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے واضح فرمایا کہ علی کو اذیت دینا مجھے اذیت دینا ہے علی کو اذیت دینا رسول اللہ کو اذیت دینے کے قائم مقام ہے۔ (مسند امام احمد ، 33/154، حدیث: 19928)

حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں: احادیث مبارکہ میں حضرت علی کی یہ فضیلت اور یہ منقبت بھی بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں جو بھی رسول اللہ ﷺ کو مولی مانتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی کو بھی اپنا مولی مانے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم غدیر خم پر اترے اور اعلان کیا الصلوۃ جامعۃ رسول اللہ ﷺ کے لیے دو درختوں کے سائے میں جگہ صاف کردی گئی آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں سے بڑھ کر انہیں محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن کو اسکی جان سے بڑھ کر محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا جس کا میں مولی اس کا علی مولا ہے اے اللہ! اس سے محبت فرما جو علی سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے۔ (سیدنا علی بن ابی طالب، ص 353)

رسول اللہ ﷺ نے اتنے پہلوؤں سے حضرت علی کی قرب و منزلت اور آپ کے فضائل و مناقب کو بیان فرمایا ہے کہ جن کا شمار ممکن نہیں جنکا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416) یہ حدیث مبارکہ حضرت علی کی عظمت و شان پر اور رسول اللہ ﷺ کے اظہار محبت پر واضح دلیل ہے۔

اللہ پاک اور رسول کی بے پناہ محبتوں کا شرف: حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے ساتھ اللہ پاک اور اپنی محبت کا ذکر منفرد طور پر فرمایا حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں رسول اللہ کو سب سے بڑھ کر محبوب کون تھا انہوں نے فرمایا حضرت فاطمۃ الزہرا تھیں ان سے عرض کی مردوں میں سے کون تھا تو انہوں نے فرمایا ان کے شوہر جہاں تک میں جانتی ہوں۔ (مستدرک، 3/171، حدیث: 4744)

ایک اور موقع پر حضرت عائشہ نے فرمایا میں نے حضرت علی سے بڑھ کر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو محبوب نہیں دیکھا اور نہ ہی انکی زوجہ سے بڑھ کر کسی عورت کو رسول اللہ کے نزدیک محبوب دیکھا۔

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ لایا گیا تو آپ نے دعا کی اے اللہ! میرے پاس اس شخص کو بھیج جو تیری پوری مخلوق میں تجھے سب سے بڑھ کر محبوب ہو اور وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے تو حضرت علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ وہ پرندہ کھایا۔(ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

رسولِ خدا ﷺ کی حضرت علی سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں جن سے سرکار دوعالم کی محبت چھلکتی ہے آپ کے فضائل و مناقب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سرکار ﷺ نے آپ کے لئے خصوصی طور پر دعائیں فرمائیں حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے میرے لئے یہ دعا بھی فرمائی: اے اللہ! انہیں گرمی اور سردی سے محفوظ فرما آپ فرماتے ہیں کہ اسکے بعد نہ کبھی مجھے گرمی کی تکلیف محسوس ہوئی نہ سردی کی۔ (سنن کبری للنسائی، 7/411، حدیث:8343)

ان تمام احادیث مبارکہ اور واقعات سے حضرت علی کے فضائل و مناقب کے ساتھ ساتھ ان کی بلند شانوں کے متعدد پہلو واضح ہوتے ہیں اور جن سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک کے نزدیک اور رسول اللہ کی نگاہ نبوت میں حضرت علی کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اللہ پاک ہمیں بھی خلیفہ چہارم حضرت علی سے محبت کرنے اور آپکافیض پانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

دیدِ علی عبادت،ذکرِ علی عبادت کیا شان ہے علی کی،کیا مرتضیٰ علی ہے