حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پیارے آقا ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں پس آپ بھی اہلِ بیت اطہار میں داخل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے وہ نوجوان ہیں جو اسلام کی دولت سے فیضیاب ہوئے اور آغوشِ نبوت میں پرورش پاتے رہے یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی شفقت و محبت نصیب ہوئی۔ (کراماتِ شیر خدا، ص 31)

اہلِ سنت والجماعت کی بہت سی کتبِ حدیث میں ایسی روایات موجود ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کی دلیل ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

حضرت علی سے محبت ایمان کی علامت: رسول پاک ﷺ اپنے چچا زاد بھائی، داماد، علم و شجاعت کے پیکر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ اس قدر محبت فرماتے کہ آپ سے محبت کرنے کو ایمان کی علامت قرار دے دیا چنانچہ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی ﷺ نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

حضرت علی سے محبت کا حکم: جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ سب اُس سے محبت کریں اور اس کی عزت کریں۔پیارے آقا ﷺ چونکہ مولا علی شیر خدا سے محبت کرتے تھے لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ علی ہیں تم میری محبت کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت رکھو اور میری عزت کے ساتھ ان کی بھی عزت کرو۔ (مولا علی شیر خدا، ص 9)

حضور کی حضرت علی سے محبت کا عملی اظہار: غزوہ خیبر کے موقع پر حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا عملی اظہار یوں ہوا کہ جب قلعہ قموس کو فتح کرنے کے لیے شیخین کریمین نے يكے بعد دیگرے مختلف دنوں میں حملے کیے مگر قلعہ قموس فتح نہ ہو سکا اور اس قلعہ کو فتح کرنے میں مشکل و دشواری پیش آئی تو ایک دن رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کل میں اُس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ و رسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی ۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس نعمت عظمیٰ کے لیے ترس رہے تھے مگر اللہ و رسول کا محب و محبوب ہونے کا یہ اعزاز و شرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا۔ (سیرت مصطفی، ص 387)

پیارے آقا ﷺ نے خود بھی حضرت علی المرتضی سے بے پناہ محبت فرمائی اور اپنی امت کو بھی آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہمیں چاہئے کہ ہم حکمِ رسول ﷺ پر عمل کریں۔

ہمارے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت وہ محبت ہے جو نجات دلانے والی ہے اگر ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں شریعت کی مقرر کردہ حدود کو توڑیں تو یہ محبت ہلاک کرنے والی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: لوگو سن لو! میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، میری محبت میں افراط کرنے والے (یعنی حد سے بڑھنے والے)، مجھے اُن صفات میں بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں۔ مجھ سے بغض رکھنے والوں کا بغض اُنہیں اُبھارے گا کہ مجھ پر بہتان لگائیں۔ (شانِ علی بزبان نبی، ص 14)

پس لازم ہے کہ ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں نہ افراط کے مرتکب ہوں اور نہ بغض و عداوت کی تفریط میں پڑیں، بلکہ اعتدال کے ساتھ وہی محبت رکھیں جو ایمان کی علامت اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔