حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت طاہر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے
صاحبزادے ہیں اور آپ نے بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ جب حضور ﷺ نے
اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے
پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ
بہادری شجاعت اور علم میں بے مثال ہیں ۔
حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ
درج زیل احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:
1۔ قربِ مصطفیٰ: حضرت علی سے
روایت ہے, فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی
کو نہ تھی۔ میں آپ کی خدمت میں سویرے تڑکے آتا تھا عرض کرتا تھا:آپ پر سلام اے
الله کی نبی تو اگر آپ کھنکار دیتے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتا ورنہ آپ کی خدمت
میں حاضر ہوتا۔
شرح حدیث:واقعی حضرت
علی کو حضور سے وہ قرب حاصل ہے جو کسی بشر بلکہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں،آپ حضور
کے چچا کے بیٹے ہیں،حضور ﷺ نے آپ کے گھر میں اور آپ نے حضور کی آغوش میں پرورش
پائی ہے،آپ جناب فاطمہ کے خاوند ہیں،آپ حضور ﷺ کی نسل کی اصل ہیں آپ ساری مخلوق
میں منفرد ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 8/349)
2۔ دین و دنیا میں بھائی ہونے کا مرتبہ:
روایت
ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ
کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ
میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول الله ﷺ نے فرمایا تم
دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
3۔ انتہائی قریبی رشتہ: اسی
طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو(گویا)اس نے مجھے برا بھلا
کہا۔(مسند احمد،10/228،حديث:26810)
اس كی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو
برا بھلا کہنا اور آپ کے نَسَب میں طَعْن کرنا حضور ﷺ کو برا بھلا کہنے اور آپ کے
نسب میں طَعْن کرنے کو لازم ہے کیونکہ ان دونوں مقدس ہستیوں کے درمیان انتہائی
قریبی رشتہ ہے۔ (لمعات التنقیح، 9/663)
اس حدیثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے مصطفیٰ
کریم ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایسا اِتّحاد ہے کہ ایک ہستی
کی محبت دوسرے کی محبت جبکہ ایک سے نفرت دوسرے سے نفرت کو لازم ہے،لیکن اس فرمانِ
عالیشان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہما سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا، عقائد کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود
ہے۔ (فیض القدیر،6/190)
4۔ خصوصی دعا کا شرف: سرکارِ
دوعالَم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر ارشاد فرمایا: اے الله! جو
علی سے محبت کرے اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ، جو
علی کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو علی کی مدد نہ کرے اس کی مدد نہ فرما۔ (مسند
امام احمد،1/253،حدیث:964)
5۔ کلام کی ابتدا فرمانا: حضرت
علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول الله ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا
فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)
اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے
اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
نبی کریم ﷺ کو حضرت علی سے بے پناہ محبت تھی کئی
مواقع پر آپ ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار فرمایا۔ احادیث کی روشنی میں
آپ کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں۔
1۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ
آیت ”نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ
اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ- (پ 3،
آل عمران:61) ترجمہ: ہم تم بلائیں
اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور
تمہاری جانیں۔“ نازل
ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور
حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا پھر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل (اہل بیت)
ہیں۔
2۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور علی ہر مومن کے ولی
ہیں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)
یعنی رسول اللہ ﷺ علی سے محبت کرتے ہیں اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ہر مومن حضرت علی سے محبت کرتا ہے۔
3۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حضور
نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی
مومن ان سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ (ترمذی، 5/635، حدیث:1121)
4۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:جس کا میں مولی ہوں علی اسکے مولی ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث:
3733)
5۔ مشہور جلیل القدر صحابی اور فاتح قادسیہ سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
فرمایا:تیری میرے ساتھ وہی منزلت ہے جو ہارون کی موسی علیہ السلام سے ہے مگر یہ کہ
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
اللہ پاک ہمیں آقا دو جہاں ﷺ کے تمام صحابہ کرام سے
سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔ آمین
امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ
وجہہ الکریم اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ شیر خدا ہیں، آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں
رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا عطا فرمایا۔ آپ ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم
سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ میرے آقا ﷺ نے کئی مقامات پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ
الکریم سے محبت کا اظہار فرمایا: ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی کو
مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسیٰ کو ہارون سے تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
ایک اور مقام پر میرے آقا ﷺ نے حضرت علی سے محبت کا
اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔(ترمذی، 5/401، حدیث:
3740)
سبحان اللہ! قربان جائیے محبت رسول اللہ ﷺ پر کہ آپ
ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔
میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے
ہم چاہتے ہیں کہ سب اس سے محبت کرے۔ کوئی اس سے بعض و عداوت نہ رکھے پیارے نبی ﷺ نے
حضرت علی کے متعلق فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے
علی سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔ (کنز العمال، 11/622، حدیث: 33024)
حضور ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت
کے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے: غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا
ایک درخت کے سائے میں آپ ﷺ کے لیے جگہ صاف کی گئی یہاں آپ ﷺ نے نماز ظہر ادا کی۔
نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا: (اے میرے صحابہ) کیا تم
نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض
کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم میں سے ہر ایک کی جان سے زیادہ مالک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے
دوبارہ ارشاد فرمایا: اے میرے صحابہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان
کی جان سے زیادہ مالک ہوں ۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ
ﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور فرمایا: جس کا میں مولا ہوں،
علی بھی اس کے مولا ہیں۔ پھر آپ نے دعا فرمائی! اے اللہ پاک! جو علی سے محبت کرے
تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔ (فضائل صحابہ لاحمد
بن حنبل، ص 596، حدیث: 1016)
سبحان اللہ! میرے نبی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ
الکریم سے محبت کرنے والوں کو دعاؤں سے بھی نوازا میرے نبی بذات خود حضرت علی سے
محبت فرماتے تھے اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین کی کہ تم بھی حضرت علی سے محبت
رکھو۔
غزوہِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: میں کل پرچم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے
اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)
اگلے دن یہ پرچم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو
دیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ ﷺ کے نزدیک
نہایت محبوب اور مقام و مرتبہ رکھنے والے صحابی تھے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)
یہ حدیث حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی علمی
عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں امت کی علمی میراث کا محافظ قرار
دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی سے وہی محبت کرے
گا جو مومن ہوگا اور علی سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
یہ حدیث ایمان اور نفاق کے درمیان ایک معیار ہے جو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت یا بغض سے ظاہر ہوتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ حضرت علی کرم
اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ حضور ﷺ نے ان کی محبت کو ایمان کی
علامت قرار دیا، ان کے لیے دعا کی، اور امت کو بھی ان کی ولایت اور محبت کا حکم
دیا اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی سے محبت رکھے اور ان کے مقام کو
پہچانے۔
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حضرت
علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے اور آپ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ ایک افضل صحابی، نبی کے
چچا زاد بھائی اور پیارے نبی ﷺ کی چھوٹی صاحبزادی کے خاوند تھے۔ نبی کریم ﷺ کو آپ کرم
اللہ وجہہ الکریم سے بہت محبت تھی میرے نبی نے کئی مقامات پر حضرت علی کرم اللہ
وجہہ الکریم سے محبت کا اظہار فرمایا، ایک موقع پر حضرت علی سے محبت کا اظہار کرتے
ہوئے فرمایا! علی کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسی کو ہارون سے تھی۔ (بخاری، 3/144،
حدیث: 4416)
ایک اور مقام پر فرمایا! علی مجھ سے ہے میں علی سے
ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)
سبحان اللہ میرے نبی حضرت علی سے محبت کا اظہار کس
قدر حسین انداز میں فرما رہے ہیں
ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سب اس سے
محبت کرئے کوئی اس سے بغض و عداوت نہ رکھے پیارے نبی ﷺ نے حضرت علی کے متعلق
فرمایا!جو کوئی علی سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو کوئی علی سے
دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے دشمنی کرتا ہے۔ (کنز العمال، 11/622، حدیث: 33024)
سلیمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: تجھ سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے
والا مجھ بغض رکھنے والا ہے۔ (مستدرک، 3/130،
حدیث: 4652)
ان احادیث مبارکہ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پیارے
آقا ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کے متعلق
ایک واقعہ ہے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ غدیر خم کے مقام پر حضور ﷺ نے قیام
فرمایا ایک درخت کے سائے میں آپ ﷺ کے لیے جگہ صاف کی گئی یہاں آپ ﷺ نے نماز ظہر
ادا فرمائی نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا! (اے میرے
صحابہ) کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں؟ صحابہ
نے عرض کیا:کیوں نہیں یا رسول اللہ (یعنی یارسول اللہ آپ ہم میں سے ہر ایک کی جان
سے زیادہ مالک ہے) نبی کریم ﷺ نے دوبار ہ فرمایا:(اے میرے صحابہ) کیا تم نہیں
جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں۔ صحابہ کرام نے پھر عرض
کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے پیارے صحابی حسنین کریمین کے والد محترم
حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے
علی مولا ہیں پھر آپ نے دعا فرمائی اے اللہ پاک! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت
فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔ (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل،
ص 596، حدیث: 1016)
سبحان اللہ میرے نبی نے سیدنا علی سے محبت کرنے
والوں کو دعاؤں سے بھی نواز دیا میرے نبی بذات خود بھی حضرت علی سے محبت فرماتے
تھے اور اپنی امت کو بھی تلقین کی کہ حضرت علی سے محبت رکھے۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں مولا کائنات مولا علی
سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت محمد یوسف،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام کی عظیم ہستیوں میں حضرت علی المرتضیٰ شیرِ
خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ کے چچا زاد
بھائی، داماد اور عشرہ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کی فضیلت پر بے
شمار احادیث وارد ہیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی آپ سے محبت ایک کھلی حقیقت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! تو مجھ سے ہے اور
میں تجھ سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740) اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ مولا علی رضی
اللہ عنہ کا تعلق حضور ﷺ سے نہایت گہرا اور قلبی تھا۔
ایک اور حدیث مبارک میں فرمایا: جس کا میں مولا ہوں
اس کا علی بھی مولا ہے۔(ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مولا
علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور مقام خود حضور ﷺ نے امت کو بتایا۔
نبی پاک ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اے علی! تجھ سے محبت
صرف مومن کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ
ارشاد حضور ﷺ کی مولا علی سے بے مثال محبت کا مظہر ہے اور ساتھ ہی مومن و منافق کی
پہچان بھی بیان فرما دی گئی۔
حضور ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری بھی بہت
محبوب تھی۔ جنگ خیبر کے موقع پر جب صحابہ کرام کو بار بار لشکر کی قیادت دی گئی
لیکن کامیابی نہ ملی، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں
گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے
محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)پھر یہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
عطا کیا گیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے نہ صرف اپنا
داماد بنایا بلکہ اپنے قریب ترین رازداروں میں بھی شامل رکھا۔ آپ کی شجاعت، علم،
عبادت اور قربانی سب حضور ﷺ کو محبوب تھیں۔ اسی لیے آپ کو باب مدینۃ العلم یعنی
علم کا دروازہ فرمایا گیا۔
مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ اپنے اہلِ بیت میں
خاص محبت و عزت سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ ان سے محبت دراصل رسولِ اکرم ﷺ کی محبت ہے
اور یہ ایمان کا حصہ ہے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت محمد نواز،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پیارے آقا ﷺ کو مولا علی سے بہت محبت تھی، مولا علی
بچوں میں سب سے پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا مولا علی ہاشمی قرشی
صحابی ہیں، اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں، عشرہ مبشرہ میں شامل ہونے کے ساتھ کاتب رسول
ﷺ ہونے کا اعزاز حاصل ہے
حضور کی مولا حضرت علی سے محبت مظاہر:
روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں رسول
اللہ ﷺ نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے
تھا اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
روایت ہے حضرت عمران بن حصین سے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں اور ہر مومن کے ولی ہیں۔ (ترمذی، 5/397،
حدیث: 3732) ایک اور روایت میں ہے: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ (ترمذی،
5/398، حدیث: 3733)
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول
اللہ ﷺ سے مانگتا تو آپ ﷺ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ ﷺ مجھ سے
کلام کی ابتداء فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)
روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے علی سے منافق محبت
نہیں کرتا اور ان سے مومن بغض نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
جس نے علی کو برا کہا اس نے مجھ ﷺ برا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ آقا ﷺ کو حضرت علی کرم
اللہ وجہہ الکریم سے کتنی محبت تھی۔ آپ کو آقا ﷺ کو غسل دینے کی سعادت ملی اور
حضرت علی نے آقا ﷺ جسم اقدس کو قبر منور میں اتارا اور حضرت فضل بن عباس اور حضرت
قثم بن عباس اور حضرت عباس بھی شامل تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو علم کا
دروازہ کہا جاتا ہے اور اللہ پاک نے آپ کو بہت زیادہ طاقت سے نوازا۔
حضور کی مولا علی
سے محبت از بنت محمد احسن،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام کی تاریخ میں اگر ہم محبتِ رسول ﷺ کو دیکھیں
تو اس کی سب سے بڑی جھلک رسولِ اکرم ﷺ کی اپنی اہلِ بیت اور خاص طور پر حضرت علی
کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ محبت و الفت میں نظر آتی ہے۔ قرآن کریم کی آیات،
احادیثِ نبویہ اور اقوالِ صحابہ اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو نہ صرف اپنا قریبی عزیز بلکہ ایمان، وفاداری اور قربانی میں بے مثال
ساتھی پایا۔
حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
محبت پر احادیث:
1۔ محبتِ رسول،محبتِ علی: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)
2۔ علی اور رسول ﷺ کا تعلق: رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400،
حدیث: 3736)
3۔ خیبر کا دن: جب خیبر کا
قلعہ فتح نہ ہو رہا تھا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا
جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے
ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)
یہ جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور اللہ نے ان کے
ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔
4۔ حدیثِ منزلت: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: اے علی! تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر میرے بعد
کوئی نبی نہیں۔(بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
5۔ اہلِ محبت کی پہچان: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: اے علی! تم سے محبت صرف مومن کرے گا، اور تم سے بغض صرف
منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
رسول اکرم ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے
محبت محض رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ایمان، اخلاص، بہادری، وفاداری اور
دین کے لیے بے مثال قربانیوں کی بنا پر تھی۔ قرآن و حدیث سے یہ بات روزِ روشن کی
طرح عیاں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا خاص محبوب قرار دیا۔
لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے محبت کرے، کیونکہ یہ محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے، اور رسول ﷺ سے
محبت ایمان کا سب سے بڑا درجہ ہے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت یاسین، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
آقاﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بےحد محبت فرماتے
تھے جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول الله ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو صحابہ
کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر
ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک
صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی
رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اور حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ رسول
الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو بُرا بھلا
کہا۔ (سنن کبری للنسائی، 5/133، حدیث: 8476)
یعنی حضرت علی کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل
ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور کی شان میں
گستاخی و بے ادبی کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور کی توہین کرناہے۔
العیاذ بالله تعالیٰ
اور طبرانی
و بزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی و حاکم حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96،
حدیث: 4693)
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سچے دل سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور کی مولا علی
سے محبت از بنت جنید عطاری، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے
محبت ایک روشن حقیقت ہے۔یہ محبت صرف رشتہ داری یا قریبی ہونے کی وجہ سے نہیں تھی
بلکہ حضرت علی کے ایمان، تقوی، علم،شجاعت اور دین کے لیے قربانیوں کی بنیاد پر تھی۔نبی
کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو واضح فرمایا اور امت کو انکی محبت کا درس دیا۔
(1)دنیا و آخرت کے بھائی:جب
رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا،تو
حضرت علی نے عرض کیا:یا رسول اللہ! آپ نے سب کو بھائی بنا دیا مگر مجھے کسی کے
ساتھ نہیں جوڑا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب کے مقابلے میں اپنا قریب ترین کہا۔
(2) علی رضی اللہ عنہ سے محبت کو اپنی
محبت قراردیا:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی محبت
دراصل حضور ﷺ سے ہی محبت ہے اور ان سے بغض رکھنا گویا نبی کریم ﷺ سے بغض رکھنا ہے۔
(3) علی کرم اللہ وجہہ الکریم علم کا
دروازہ ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث:
4693)
اس سے واضح ہوا کہ علم نبوی تک رسائی کے لیے حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا وسیلہ ضروری ہے۔وہ علم و حکمت کے امین تھے اور نبی کریم ﷺ نے
انہیں اپنی علمی میراث کا دروازہ فرمایا۔
(4)غزوہ تبوک اور حضرت ہارون کا مقام:غزوہ
تبوک کے موقع پر حضور علیہ السلام نے حضرت علی کو مدینہ میں چھوڑا۔حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔اس
پر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا مقام میرے نزدیک وہی ہے جو
ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟ (بخاری، 3/144،
حدیث: 4416)
اس حدیث کو حدیث منزلت کہا جاتا ہے،جو حضرت علی کے
اعلیٰ مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
ان احادیث و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ:
حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت اللہ کی رضا اور دین کی
سربلندی کے لئے تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے اپنا بھائی،علم
کا دروازہ اور امت کا ولی قراردیا۔
ان سے محبت دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت اور ان سے
دشمنی نبی کریم ﷺ سے دشمنی کے مترادف ہے۔
اللہ ہمیں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ہمیں انکا صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت اسلم، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر
بھیجا۔آپ نے اپنی امت کو ایمان محبت اور اخوت کا درس دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
میں بعض کو آپ سے خصوصی نسبتیں اور قربتیں حاصل تھی ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
مقام سب سے منفرد اور بلند ہے رسول اللہ ﷺ کی ان سے بے پناہ محبت اور شفقت قرآن و
حدیث سے واضح ہے۔
احادیث مبارکہ سے دلیل:
1۔ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401،
حدیث: 3740)
2۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر والے دن فرمایا: میں
کل ضرور اس آدمی کو یہ جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس
کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی یعنی محمد ﷺ بھی محبت کرتے
ہیں جب صبح ہوئی تو سب لوگ سویرے سویرے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے ہر آدمی یہ
چاہتا تھا کہ جھنڈا اسے ملے آپ ﷺ نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ لوگوں نے
جواب دیا: یا رسول اللہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں آپ نے فرمایا انہیں بلاؤ
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعب مبارک ڈالا
تو وہ فورا اس طرح ٹھیک ہو گئے جیسے کبھی بیمار ہی نہیں تھی آپ نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم اگر تیری وجہ سے ایک آدمی بھی
ہدایت پر آجائے تو تیرے لیے یہ مال غنیمت اور سرخ کے اونٹوں سے بہتر ہے۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3009)
اللہ تعالی نے غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت سیدنا علی
رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا
کتنا بلند مقام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان سے محبت کرتے ہیں۔
3۔ مشہور جلیل القدر صحابی اور فاتح قدسیہ حضرت
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے
فرمایا: تیری میرے ساتھ وہی منزلت ہے جو ہارون کی موسی علیہ السلام سے ہے سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
اس حدیث سے حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عظیم
الشان ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں اس حدیث
سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا لیکن
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں حضرت ہارون سے نسبت اس لیے کی کہ جیسے حضرت موسی کو
حضرت ہارون علیہ السلام سے محبت تھی نبی کریم ﷺ کو ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے محبت ہے۔
حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کی علامت ہے مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے اور اس کے
راوی یعنی حدیث بیان کرنے والے خود حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے ہیں
مجھے اس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑتی یعنی درخت سے نکالتی ہے اس ذات کی قسم جس نے
روح کو پیدا کیا بے شک نبی امی ہاشمی محمد عربی ﷺ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ مجھ سے
محبت نہیں رکھے گا مگر مومن اور مجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔(مسلم، ص 57،
حدیث: 240)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
کی محبت ایمان کی علامت ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بغض منافقت کی علامت ہے
علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں سابق کرام رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ طریقہ
تھا کہ کسی پہ ایمان یا منافقت کو جاننا ہوتا تو بغض علی سے جانتے تھے جس کو
دیکھتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے جان لیتے کہ یہ منافق ہے۔ (مسلم،
ص 50، حدیث:78)
4۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں صحابہ کرام کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو سیدنا علی
المرتضی رضی اللہ عنہ بھی ساختہ رو دیے اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے صحابہ کے
درمیان مواخات کروائی لیکن میری کسی کے ساتھ مواحات نہیں کرائی تو اس پر رسول اللہ
ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کے بارے میں ارشاد فرمایا
جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے رب
العزت سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ
سے بغض رکھا اس نے اللہ رب العزت سے بغض رکھا۔
اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب میں سے علی بن ابی طالب کے
بے شمار فضائل و مناقب ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ سابق الاسلام ہونے کے علاوہ
نبی کریم ﷺ کے قرابت دار ہیں اور آپ کو تربیت کے لیے نبی کریم ﷺ کی پاک گود میں
ڈالا گیا تو ان کا مرتبہ قرابت مزید دوبالا ہو گیا اور آپ کی شان میں اضافہ ہو گیا
سیدنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دے دیا تو مزید فضیلت حضرت
سیدنا علی المرتضی کے شامل حال ہو گئی۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محترم قارئینِ کرام! اگر ہم کسی سے محبت کریں تو یہ
اتنا قابلِ تعریف نہیں ہوتا جتنا کہ کوئی ہم سے محبت کرے تو وہ قابلِ تعریف ہے پھر
محبت کرنے والے کا رتبہ جس قدر بلند ہو اسی قدر اس کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسے
دنیا کی ہی مثال لے لیجیے کہ اگر کسی حکمران یا افسر کی توجہ مل جائے یا کوئی ان
کا منظورِ نظر ہو جائے تو اس کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے۔ یہ تو ہم
گناہگاروں کی حالت ہے اگر ہم صحابہ کرام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ان کی محبت ہی
حقیقی معنوں میں محبت تھی اور تمام صحابہ کرام تو آقا علیہ السلام سےبلاشہ بے پناہ
محبت کرتے ہی تھے لیکن خود حضور علیہ السلام نے بھی اپنے پیارے صحابہ کرام کو اپنی
محبت سے نوازا ان ہی میں سے ایک عظیم الشان صحابی، دامادِ رسول اللہ علیہ السلام،
فاتحِ خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہت سی خصوصیات
میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ آقا علیہ السلام کے داماد اور چچا زاد بھائی
ہونے کے ساتھ عقدِ مواخاۃ میں بھی آپ کے بھائی ہیں۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے جب مدینہ طیبہ
میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرتِ
علی روتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے
صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھے
کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو آقا علیہ السلام نے فرمایا: تم دنیا
اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سرکارِ اقدس
ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔
(مسلم، ص 57، حدیث: 240)
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث مبارکہ میں آقا علیہ
السلام کی حضرت علی سے محبت واضح ہوتی ہے۔ آقا علیہ السلام نے آپ کو ابو تراب کا
لقب بھی عطا فرمایا تھا جو حضرت علی کو تمام القاب میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔
اللہ پاک ہمیں بھی محبتِ رسول حاصل کرنے والے کام
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت ارشد محمود، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اسلام میں اہل بیت اطہار کا مقام نہایت بلند ہے ان
میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات مبارکہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، رسول کریم
ﷺ نے ان سے بے حد محبت فرمائی اور اس محبت کو ایمان و نفاق کی کسوٹی قرار دیا۔
مومن کی پہچان، علی سے محبت: حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجھ سے صرف مومن ہی محبت
کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق ہی رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ واضح
اعلان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا نشان ہے جبکہ ان سے دشمنی
نفاق کی علامت۔
علی سے محبت، نبی سے محبت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652) گویا حضرت علی سے محبّت،دراصل رسول کریم ﷺ سے محبت ہے۔
چار افراد سے محبت کا حکم: حضرت
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد
سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے، ان میں
سے ایک علی ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
منافق کی پہچان بغض علی سے: صحابہ
کرام فرماتے ہیں کہ ہم منافقین کو علی سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچانتے تھے۔ (مسند امام
احمد، 1/128، حدیث: 972) اس سے حضرت علی کی عظمت اور محبت کی اہمیت واضح ہے۔
غزوہِ خیبر اور محبت رسول اللہ: غزوہِ
خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ
اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے
ہیں، اگلے دن حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کی آنکھ پر لعاب دہن
لگایا، وہ فوراً شفا یاب ہو گئے اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/312، حدیث:
3009)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی
سے۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
سرکار دو عالم ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی: اے اللہ! علی کے سینے کو
علم، عقل ودانائی، حکمت اور نور سے بھر دے۔ (روشن ستارے ماہنامہ مئی 2021)
Dawateislami