اسلام کی عظیم ہستیوں میں حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد اور عشرہ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کی فضیلت پر بے شمار احادیث وارد ہیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی آپ سے محبت ایک کھلی حقیقت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740) اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کا تعلق حضور ﷺ سے نہایت گہرا اور قلبی تھا۔

ایک اور حدیث مبارک میں فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کا علی بھی مولا ہے۔(ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور مقام خود حضور ﷺ نے امت کو بتایا۔

نبی پاک ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اے علی! تجھ سے محبت صرف مومن کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ ارشاد حضور ﷺ کی مولا علی سے بے مثال محبت کا مظہر ہے اور ساتھ ہی مومن و منافق کی پہچان بھی بیان فرما دی گئی۔

حضور ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری بھی بہت محبوب تھی۔ جنگ خیبر کے موقع پر جب صحابہ کرام کو بار بار لشکر کی قیادت دی گئی لیکن کامیابی نہ ملی، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)پھر یہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیا گیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے نہ صرف اپنا داماد بنایا بلکہ اپنے قریب ترین رازداروں میں بھی شامل رکھا۔ آپ کی شجاعت، علم، عبادت اور قربانی سب حضور ﷺ کو محبوب تھیں۔ اسی لیے آپ کو باب مدینۃ العلم یعنی علم کا دروازہ فرمایا گیا۔

مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ اپنے اہلِ بیت میں خاص محبت و عزت سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ ان سے محبت دراصل رسولِ اکرم ﷺ کی محبت ہے اور یہ ایمان کا حصہ ہے۔

اے اللہ! ہمیں اپنے نبی ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت عطا فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت میں ان دونوں کے سچے محبوں میں شامل فرما۔ آمین