حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں اور آپ نے بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ بہادری شجاعت اور علم میں بے مثال ہیں ۔

حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ درج زیل احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ قربِ مصطفیٰ: حضرت علی سے روایت ہے, فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی۔ میں آپ کی خدمت میں سویرے تڑکے آتا تھا عرض کرتا تھا:آپ پر سلام اے الله کی نبی تو اگر آپ کھنکار دیتے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتا ورنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔

شرح حدیث:واقعی حضرت علی کو حضور سے وہ قرب حاصل ہے جو کسی بشر بلکہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں،آپ حضور کے چچا کے بیٹے ہیں،حضور ﷺ نے آپ کے گھر میں اور آپ نے حضور کی آغوش میں پرورش پائی ہے،آپ جناب فاطمہ کے خاوند ہیں،آپ حضور ﷺ کی نسل کی اصل ہیں آپ ساری مخلوق میں منفرد ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 8/349)

2۔ دین و دنیا میں بھائی ہونے کا مرتبہ: روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول الله ﷺ نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

3۔ انتہائی قریبی رشتہ: اسی طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو(گویا)اس نے مجھے برا بھلا کہا۔(مسند احمد،10/228،حديث:26810)

اس كی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا اور آپ کے نَسَب میں طَعْن کرنا حضور ﷺ کو برا بھلا کہنے اور آپ کے نسب میں طَعْن کرنے کو لازم ہے کیونکہ ان دونوں مقدس ہستیوں کے درمیان انتہائی قریبی رشتہ ہے۔ (لمعات التنقیح، 9/663)

اس حدیثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے مصطفیٰ کریم ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایسا اِتّحاد ہے کہ ایک ہستی کی محبت دوسرے کی محبت جبکہ ایک سے نفرت دوسرے سے نفرت کو لازم ہے،لیکن اس فرمانِ عالیشان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا، عقائد کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ (فیض القدیر،6/190)

4۔ خصوصی دعا کا شرف: سرکارِ دوعالَم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر ارشاد فرمایا: اے الله! جو علی سے محبت کرے اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ، جو علی کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو علی کی مدد نہ کرے اس کی مدد نہ فرما۔ (مسند امام احمد،1/253،حدیث:964)

5۔ کلام کی ابتدا فرمانا: حضرت علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول الله ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)

اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ