حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت یاسین، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
آقاﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بےحد محبت فرماتے
تھے جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول الله ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو صحابہ
کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر
ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک
صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی
رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اور حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ رسول
الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو بُرا بھلا
کہا۔ (سنن کبری للنسائی، 5/133، حدیث: 8476)
یعنی حضرت علی کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل
ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور کی شان میں
گستاخی و بے ادبی کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور کی توہین کرناہے۔
العیاذ بالله تعالیٰ
اور طبرانی
و بزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی و حاکم حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96،
حدیث: 4693)
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سچے دل سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami