حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت ارشد محمود، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اسلام میں اہل بیت اطہار کا مقام نہایت بلند ہے ان
میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات مبارکہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، رسول کریم
ﷺ نے ان سے بے حد محبت فرمائی اور اس محبت کو ایمان و نفاق کی کسوٹی قرار دیا۔
مومن کی پہچان، علی سے محبت: حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجھ سے صرف مومن ہی محبت
کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق ہی رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ واضح
اعلان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا نشان ہے جبکہ ان سے دشمنی
نفاق کی علامت۔
علی سے محبت، نبی سے محبت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652) گویا حضرت علی سے محبّت،دراصل رسول کریم ﷺ سے محبت ہے۔
چار افراد سے محبت کا حکم: حضرت
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد
سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے، ان میں
سے ایک علی ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
منافق کی پہچان بغض علی سے: صحابہ
کرام فرماتے ہیں کہ ہم منافقین کو علی سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچانتے تھے۔ (مسند امام
احمد، 1/128، حدیث: 972) اس سے حضرت علی کی عظمت اور محبت کی اہمیت واضح ہے۔
غزوہِ خیبر اور محبت رسول اللہ: غزوہِ
خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ
اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے
ہیں، اگلے دن حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کی آنکھ پر لعاب دہن
لگایا، وہ فوراً شفا یاب ہو گئے اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/312، حدیث:
3009)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی
سے۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
سرکار دو عالم ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی: اے اللہ! علی کے سینے کو
علم، عقل ودانائی، حکمت اور نور سے بھر دے۔ (روشن ستارے ماہنامہ مئی 2021)
Dawateislami