اسلام کی تاریخ میں اگر ہم محبتِ رسول ﷺ کو دیکھیں تو اس کی سب سے بڑی جھلک رسولِ اکرم ﷺ کی اپنی اہلِ بیت اور خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ محبت و الفت میں نظر آتی ہے۔ قرآن کریم کی آیات، احادیثِ نبویہ اور اقوالِ صحابہ اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہ صرف اپنا قریبی عزیز بلکہ ایمان، وفاداری اور قربانی میں بے مثال ساتھی پایا۔

حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت پر احادیث:

1۔ محبتِ رسول،محبتِ علی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)

2۔ علی اور رسول ﷺ کا تعلق: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

3۔ خیبر کا دن: جب خیبر کا قلعہ فتح نہ ہو رہا تھا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

یہ جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔

4۔ حدیثِ منزلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

5۔ اہلِ محبت کی پہچان: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: اے علی! تم سے محبت صرف مومن کرے گا، اور تم سے بغض صرف منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

رسول اکرم ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت محض رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ایمان، اخلاص، بہادری، وفاداری اور دین کے لیے بے مثال قربانیوں کی بنا پر تھی۔ قرآن و حدیث سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا خاص محبوب قرار دیا۔

لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرے، کیونکہ یہ محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے، اور رسول ﷺ سے محبت ایمان کا سب سے بڑا درجہ ہے۔