حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت اسلم، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر
بھیجا۔آپ نے اپنی امت کو ایمان محبت اور اخوت کا درس دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
میں بعض کو آپ سے خصوصی نسبتیں اور قربتیں حاصل تھی ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
مقام سب سے منفرد اور بلند ہے رسول اللہ ﷺ کی ان سے بے پناہ محبت اور شفقت قرآن و
حدیث سے واضح ہے۔
احادیث مبارکہ سے دلیل:
1۔ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401،
حدیث: 3740)
2۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر والے دن فرمایا: میں
کل ضرور اس آدمی کو یہ جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس
کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی یعنی محمد ﷺ بھی محبت کرتے
ہیں جب صبح ہوئی تو سب لوگ سویرے سویرے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے ہر آدمی یہ
چاہتا تھا کہ جھنڈا اسے ملے آپ ﷺ نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ لوگوں نے
جواب دیا: یا رسول اللہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں آپ نے فرمایا انہیں بلاؤ
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعب مبارک ڈالا
تو وہ فورا اس طرح ٹھیک ہو گئے جیسے کبھی بیمار ہی نہیں تھی آپ نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم اگر تیری وجہ سے ایک آدمی بھی
ہدایت پر آجائے تو تیرے لیے یہ مال غنیمت اور سرخ کے اونٹوں سے بہتر ہے۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3009)
اللہ تعالی نے غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت سیدنا علی
رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا
کتنا بلند مقام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان سے محبت کرتے ہیں۔
3۔ مشہور جلیل القدر صحابی اور فاتح قدسیہ حضرت
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے
فرمایا: تیری میرے ساتھ وہی منزلت ہے جو ہارون کی موسی علیہ السلام سے ہے سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
اس حدیث سے حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عظیم
الشان ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں اس حدیث
سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا لیکن
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں حضرت ہارون سے نسبت اس لیے کی کہ جیسے حضرت موسی کو
حضرت ہارون علیہ السلام سے محبت تھی نبی کریم ﷺ کو ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے محبت ہے۔
حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کی علامت ہے مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے اور اس کے
راوی یعنی حدیث بیان کرنے والے خود حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے ہیں
مجھے اس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑتی یعنی درخت سے نکالتی ہے اس ذات کی قسم جس نے
روح کو پیدا کیا بے شک نبی امی ہاشمی محمد عربی ﷺ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ مجھ سے
محبت نہیں رکھے گا مگر مومن اور مجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔(مسلم، ص 57،
حدیث: 240)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
کی محبت ایمان کی علامت ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بغض منافقت کی علامت ہے
علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں سابق کرام رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ طریقہ
تھا کہ کسی پہ ایمان یا منافقت کو جاننا ہوتا تو بغض علی سے جانتے تھے جس کو
دیکھتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے جان لیتے کہ یہ منافق ہے۔ (مسلم،
ص 50، حدیث:78)
4۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں صحابہ کرام کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو سیدنا علی
المرتضی رضی اللہ عنہ بھی ساختہ رو دیے اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے صحابہ کے
درمیان مواخات کروائی لیکن میری کسی کے ساتھ مواحات نہیں کرائی تو اس پر رسول اللہ
ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کے بارے میں ارشاد فرمایا
جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے رب
العزت سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ
سے بغض رکھا اس نے اللہ رب العزت سے بغض رکھا۔
اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب میں سے علی بن ابی طالب کے
بے شمار فضائل و مناقب ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ سابق الاسلام ہونے کے علاوہ
نبی کریم ﷺ کے قرابت دار ہیں اور آپ کو تربیت کے لیے نبی کریم ﷺ کی پاک گود میں
ڈالا گیا تو ان کا مرتبہ قرابت مزید دوبالا ہو گیا اور آپ کی شان میں اضافہ ہو گیا
سیدنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دے دیا تو مزید فضیلت حضرت
سیدنا علی المرتضی کے شامل حال ہو گئی۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami