محترم قارئینِ کرام! اگر ہم کسی سے محبت کریں تو یہ اتنا قابلِ تعریف نہیں ہوتا جتنا کہ کوئی ہم سے محبت کرے تو وہ قابلِ تعریف ہے پھر محبت کرنے والے کا رتبہ جس قدر بلند ہو اسی قدر اس کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسے دنیا کی ہی مثال لے لیجیے کہ اگر کسی حکمران یا افسر کی توجہ مل جائے یا کوئی ان کا منظورِ نظر ہو جائے تو اس کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے۔ یہ تو ہم گناہگاروں کی حالت ہے اگر ہم صحابہ کرام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ان کی محبت ہی حقیقی معنوں میں محبت تھی اور تمام صحابہ کرام تو آقا علیہ السلام سےبلاشہ بے پناہ محبت کرتے ہی تھے لیکن خود حضور علیہ السلام نے بھی اپنے پیارے صحابہ کرام کو اپنی محبت سے نوازا ان ہی میں سے ایک عظیم الشان صحابی، دامادِ رسول اللہ علیہ السلام، فاتحِ خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ آقا علیہ السلام کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ عقدِ مواخاۃ میں بھی آپ کے بھائی ہیں۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرتِ علی روتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو آقا علیہ السلام نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث مبارکہ میں آقا علیہ السلام کی حضرت علی سے محبت واضح ہوتی ہے۔ آقا علیہ السلام نے آپ کو ابو تراب کا لقب بھی عطا فرمایا تھا جو حضرت علی کو تمام القاب میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔

اللہ پاک ہمیں بھی محبتِ رسول حاصل کرنے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین