امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ
وجہہ الکریم اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ شیر خدا ہیں، آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں
رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا عطا فرمایا۔ آپ ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم
سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ میرے آقا ﷺ نے کئی مقامات پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ
الکریم سے محبت کا اظہار فرمایا: ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی کو
مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسیٰ کو ہارون سے تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
ایک اور مقام پر میرے آقا ﷺ نے حضرت علی سے محبت کا
اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔(ترمذی، 5/401، حدیث:
3740)
سبحان اللہ! قربان جائیے محبت رسول اللہ ﷺ پر کہ آپ
ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔
میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے
ہم چاہتے ہیں کہ سب اس سے محبت کرے۔ کوئی اس سے بعض و عداوت نہ رکھے پیارے نبی ﷺ نے
حضرت علی کے متعلق فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے
علی سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔ (کنز العمال، 11/622، حدیث: 33024)
حضور ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت
کے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے: غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا
ایک درخت کے سائے میں آپ ﷺ کے لیے جگہ صاف کی گئی یہاں آپ ﷺ نے نماز ظہر ادا کی۔
نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا: (اے میرے صحابہ) کیا تم
نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض
کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم میں سے ہر ایک کی جان سے زیادہ مالک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے
دوبارہ ارشاد فرمایا: اے میرے صحابہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان
کی جان سے زیادہ مالک ہوں ۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ
ﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور فرمایا: جس کا میں مولا ہوں،
علی بھی اس کے مولا ہیں۔ پھر آپ نے دعا فرمائی! اے اللہ پاک! جو علی سے محبت کرے
تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔ (فضائل صحابہ لاحمد
بن حنبل، ص 596، حدیث: 1016)
سبحان اللہ! میرے نبی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ
الکریم سے محبت کرنے والوں کو دعاؤں سے بھی نوازا میرے نبی بذات خود حضرت علی سے
محبت فرماتے تھے اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین کی کہ تم بھی حضرت علی سے محبت
رکھو۔
غزوہِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: میں کل پرچم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے
اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)
اگلے دن یہ پرچم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو
دیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ ﷺ کے نزدیک
نہایت محبوب اور مقام و مرتبہ رکھنے والے صحابی تھے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)
یہ حدیث حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی علمی
عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں امت کی علمی میراث کا محافظ قرار
دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی سے وہی محبت کرے
گا جو مومن ہوگا اور علی سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
یہ حدیث ایمان اور نفاق کے درمیان ایک معیار ہے جو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت یا بغض سے ظاہر ہوتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ حضرت علی کرم
اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ حضور ﷺ نے ان کی محبت کو ایمان کی
علامت قرار دیا، ان کے لیے دعا کی، اور امت کو بھی ان کی ولایت اور محبت کا حکم
دیا اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی سے محبت رکھے اور ان کے مقام کو
پہچانے۔
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حضرت
علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے اور آپ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
Dawateislami