حضور کی مولا علی
سے محبت از بنت جنید عطاری، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے
محبت ایک روشن حقیقت ہے۔یہ محبت صرف رشتہ داری یا قریبی ہونے کی وجہ سے نہیں تھی
بلکہ حضرت علی کے ایمان، تقوی، علم،شجاعت اور دین کے لیے قربانیوں کی بنیاد پر تھی۔نبی
کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو واضح فرمایا اور امت کو انکی محبت کا درس دیا۔
(1)دنیا و آخرت کے بھائی:جب
رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا،تو
حضرت علی نے عرض کیا:یا رسول اللہ! آپ نے سب کو بھائی بنا دیا مگر مجھے کسی کے
ساتھ نہیں جوڑا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب کے مقابلے میں اپنا قریب ترین کہا۔
(2) علی رضی اللہ عنہ سے محبت کو اپنی
محبت قراردیا:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی محبت
دراصل حضور ﷺ سے ہی محبت ہے اور ان سے بغض رکھنا گویا نبی کریم ﷺ سے بغض رکھنا ہے۔
(3) علی کرم اللہ وجہہ الکریم علم کا
دروازہ ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث:
4693)
اس سے واضح ہوا کہ علم نبوی تک رسائی کے لیے حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا وسیلہ ضروری ہے۔وہ علم و حکمت کے امین تھے اور نبی کریم ﷺ نے
انہیں اپنی علمی میراث کا دروازہ فرمایا۔
(4)غزوہ تبوک اور حضرت ہارون کا مقام:غزوہ
تبوک کے موقع پر حضور علیہ السلام نے حضرت علی کو مدینہ میں چھوڑا۔حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔اس
پر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا مقام میرے نزدیک وہی ہے جو
ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟ (بخاری، 3/144،
حدیث: 4416)
اس حدیث کو حدیث منزلت کہا جاتا ہے،جو حضرت علی کے
اعلیٰ مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
ان احادیث و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ:
حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت اللہ کی رضا اور دین کی
سربلندی کے لئے تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے اپنا بھائی،علم
کا دروازہ اور امت کا ولی قراردیا۔
ان سے محبت دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت اور ان سے
دشمنی نبی کریم ﷺ سے دشمنی کے مترادف ہے۔
اللہ ہمیں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ہمیں انکا صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین
Dawateislami