اسلام میں فساد فی الارض کا مفہوم اخلاقی بگاڑ تک محدودنہیں بلکہ یہ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ماحولیاتی سطح پر برائی اور ظلم کے تمام ابواب کو شامل ہے۔ قرآن مجید میں فساد کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

قرآن میں فساد فی الارض کی مذمت کئی مقامات پر آئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ:11،12)

یہاں قرآن نے واضح کیا کہ بعض لوگ اپنی نیت کو درست ظاہر کرتے ہیں، مگر عمل میں فساد کرتے ہیں۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے بیشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(الاعراف:56)

فساد کا ارتکاب اللہ کی ناراضی کا سبب ہے، چاہے وہ معاشرتی یا ذاتی سطح پر ہو۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔(سورۃ الروم :41)

فساد انسانی کردار اور معاشرتی برائیوں کا نتیجہ ہے اور اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔

فساد کی اقسام اور مثالیں:معاشرتی فساد: جھوٹ، دھوکہ، زیادتی، ظلم،معاشی فساد: رشوت، جعلسازی، احتکار، سیاسی فساد: ناانصافی، حکومتی ظلم، بدانتظامی،ماحولیاتی فساد: درخت کا بے جا کاٹنا، آلودگی،قرآن اور حدیث میں ان سب کی مذمت کی گئی ہے اور اصلاح کی ہدایت دی گئی ہے۔اسلام میں زمین میں فساد کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے نہ صرف ایک اخلاقی جرم بلکہ سماجی برائی اور انسانی فلاح کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

قرآن و حدیث اور علماء کی آراء کے مطابق:فساد کو چھوٹا نہیں لینا چاہیے، چاہے وہ ذاتی یا اجتماعی ہو۔اصلاح کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔اللہ کی زمین میں فساد کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔


قرآنِ مجید انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں نیکی، عدل اور اصلاح کا حکم دیا گیا ہے، وہیں فساد فی الارض کی سخت مذمت بھی کی گئی ہے۔"فساد فی الارض" سے مراد زمین میں بگاڑ پیدا کرنا، ظلم، ناانصافی، بدامنی، قتل و غارت، اور معاشرتی نظام کو خراب کرنا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ وہ زمین میں فساد نہ پھیلائے، کیونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔

‎‎اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃ الاعراف، 56)

‎‎اس آیت میں واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ جب اللہ نے زمین کو ایک متوازن نظام کے تحت بنایا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اس نظام کو خراب نہ کرے۔ مگر افسوس کہ انسان اپنی خواہشات، لالچ اور خود غرضی کی وجہ سے فساد کا سبب بنتا ہے۔

قرآن میں فساد کرنے والوں کی ایک اور پہچان بیان کی گئی ہے: ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، 11،12)

‎‎یہ آیت منافقین کے کردار کو ظاہر کرتی ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھا ظاہر کرتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ظلم، دھوکہ دہی اور ناانصافی کو ترقی یا اصلاح کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ معاشرے کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

‎‎اللہ تعالیٰ نے فساد کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ کنزالایمان : جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا ۔(سورۃ المائدۃ،32)

‎‎یہ آیت انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ فساد فی الارض کتنا بڑا جرم ہے۔ ناحق قتل، دہشت گردی، اور ظلم سب اسی فساد کی شکلیں ہیں جن سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔

‎‎اسی طرح قرآن میں آیا ہے: ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 205)

‎‎یہاں فساد کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے، جیسے ماحول کو نقصان پہنچانا، معیشت کو تباہ کرنا، اور نسلوں کو خراب کرنا۔ آج کے دور میں ماحولیاتی آلودگی، کرپشن، اور اخلاقی بگاڑ بھی اسی فساد کی جدید شکلیں ہیں۔

‎‎قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فساد کرنے والوں کے انجام سے بھی آگاہ کیا ہے۔ ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص 77)

‎‎یہ ایک واضح تنبیہ ہے کہ فساد کرنے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں بھی وہ بدنامی اور بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔

‎‎اسلام ہمیں امن، عدل اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں سچائی، انصاف، اور محبت کو فروغ دیں تاکہ زمین پر امن قائم ہو سکے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ فساد فی الارض صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے اعمال کو درست کریں تو ہم ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


قرآنِ مجید انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو امن، عدل اور بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی تعلیمات میں ایک اہم پہلو"فساد فی الارض" کی سخت مذمت ہے، کیونکہ فساد معاشرتی تباہی، ناانصافی اور بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن نظام کے ساتھ پیدا کیا ہے اور انسان کو اس کا محافظ بنایا ہے۔

قرآنِ کریم میں فساد پھیلانے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی چنانچہ:

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالعرفان: سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ: 12)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اعمال کو درست سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سراسر بگاڑ ہوتے ہیں۔

مزید ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: 77)

قرآن میں فساد کی ایک سنگین شکل "قتل ناحق" کو قرار دیا گیا ہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنز العرفان: جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(سورۃ المائدۃ: 32)

اسی طرح معاشی بدعنوانی، ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا بھی فساد کی صورتیں ہیں۔ لہذا حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ اس کی واضح مثال ہےجوسورۃ ہود کی آیت نمبر 84،85 میں موجود ہے۔قرآنِ مجید نہ صرف فساد کی مذمت کرتا ہے بلکہ اصلاح کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں امن، انصاف اور بھلائی کو فروغ دے اور ہر اس عمل سے بچے جو بگاڑ اور فتنہ کا سبب بنے۔"فساد فی الارض" قرآن کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے جس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ کے احکامات پر عمل کرے اور ایک پرامن و صالح معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔


قرآنِ مجید نے انسانی معاشرے کی اصلاح اور امن کے قیام پر خاص زور دیا ہے، اور اس کے برعکس فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) کی سخت مذمت کی ہے۔ فساد فی الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو معاشرتی، اخلاقی، معاشی یا سیاسی بگاڑ کا سبب بنے، جیسے ظلم، ناانصافی، دھوکہ دہی، قتل و غارت، اور حقوق کی پامالی۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)

لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔(صراط الجنان)

(2) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(الاعراف:56)

(3) وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (القصص:77)


قرآن حکیم انسانی زندگی کو مکمل طور پر اپنے نور سے منور کیے ہوئے ہے، اب چاہے وہ انسان کی معاشی زندگی ہو یا معاشرتی، وہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو کامل طور پر گھیرے ہوئے ہے تاکہ معاشرہ ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہو کر امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے ہمارے معاشرے کی مثال کپرے کی مانند ہیں کہ کپرے کو پاک کرنے کے لیے جس طرح اس کو دھونا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت اسے نجاست سے دور رکھنے کی بھی ہے تاکہ وہ اندرونی نجاست کے ساتھ ساتھ بیرونی نجاست سے کامل طور پر پاک ہوسکے ورنہ صرف دھوتے رہنے کی صورت میں وقت ضائع ہونے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئےگا ۔

انہی ممنوعات میں سے ایک فساد فی الارض بھی ہے جو معاشرے کی جملہ برائیوں کی بنیاد ہے ہم پہلے فساد کو سمجھتے ہیں ۔

فساد کا معنی:فساد کا معنی ہے شے کا اعتدال سے باہر ہو جانا، خواہ تھوڑا سا باہر ہو یا زیادہ۔ اس کی ضد صلاح ہے، اس کا استعمال جان، دل، بدن، اور ان تمام چیزوں کے لیے ہوتا ہے جو درستگی سے نکل گئی ہو۔ ( المفردات فی غریب القرآن ص 379، مکتبہ نزار مصطفی )

معنی کو سمجھنے کے بعد اسے قرآن کریم فرقان حمید سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح کلام باری تعالیٰ صلاح کی دعوت دیتا ہے اسی طرح فساد سے منع بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ کہ کثرت سے قرآن کریم میں اس کی مذمت کی گئی اور لوگوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ (سورۃ الروم: 41)

مفسرین فرماتے ہیں کہ شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔( مدارک، الروم، تحت الآیۃ: 41، ص910، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: 41، ص344، ملتقطاً)

ہمارے لیے اس آیت میں بڑا درس ہے کہ کہیں ہم بھی زمین پر فساد کا باعث تو نہیں بن رہے کہ اس خالق کائنات نے ہمیں بےشمار نعمتوں سے نوازا اور ہم ہیں کہ ان کی قدر کرنے کے بجائے اس کریم رب کی زمین میں فساد کرتے پھریں ۔

الله کریم ہمیں عافیت اور زمین پر اصلاح کرنا نصیب فرمائے اور فساد فی الارض جیسی مذموم برائی سے محفوظ فرمائےآمین یارب العالمین۔


قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانوں کو امن عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے اس تناظر میں فساد فی الارض کو نہایت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے کے امن و سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور انسانی زندگی میں بے چینی اور ظلم کو فروغ دیتا ہے قرآنی آیات میں مختلف انداز سے فساد فی الارض کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے ان آیات کا مطالعہ انسان کو نہ صرف برائی سے بچنے کا شعور دیتا ہے بلکہ اسے ایک پر امن معاشرے کی تشکیل کی طرف بھی راغب کرتا ہے ۔

(1)اصلاح کے بعد زمین میں فساد

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (الاعراف:56)

یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (صراط الجنان)

(2)فساد پھیلانے والے اصلاح نہیں کرتے: الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔(الشعرا:152)

یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔ (صراط الجنان)

(3) اصلاح کے نام پر فساد:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (البقرۃ:11)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے باطن میں کفر رکھنے والوں اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کرنے والو اور زمین میں فساد برپا کرنے والو اور حق کی شمع کو بجھانے والوں کو مصلحت اور اصلاح کی تلقین کی جائے تو کہتے ہیں ہمارا مقصد تو اصلاح ہے ان میں شعور کی حس باقی نہیں رہی جس سے وہ اپنی خرابی جان سکیں آزادی کے نام پر بے حیائی فن کے نام پر حرام افعال انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تمدن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا توحید کا نام لے کر شان رسالت کا انکار کرنا قرآن کے نام پر حدیث کا انکار ان کے فساد میں شامل ہے اس بحث سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک نے ہمیں بار بار نیکی اصلاح امن اور عدل قائم کرنے کی تلقین کی تاکہ معاشرہ فتنہ فساد سے پاک صاف رہے اللہ تعالی ہمیں ان نادان یا دانا دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ فرمائے آمین۔


شریعت اسلامیہ اور قرآن کی روشنی میں فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی معاشرے کے امن و امان اخلاقیات اور نظام زندگی کو درہم برہم کر دیں کچھ اصول و ضوابط اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے رسولوں کے ذریعے اہل زمین تک پہنچائے یقینا ایک کامل زندگی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنے والا ہمارا دین اسلام ہی ہے ۔اور اللہ تبارک و تعالی جس نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور ساتھ ساتھ اس کو بہت سی وصیتیں بھی کیں جس کے اندر سر فہرست زمین پر فساد پھیلانے کی ممانعت بھی ہے افسوس کہ آج کل فسادات خوف ،قتل، ظلم اور غارت گری بہت عام ہو چکی ہے فساد فی الارض نے امن و سلامتی کو ختم کر دیا ہے جبکہ قرآن کریم نے امن و سلامتی پیدا کرنے اور متحد ہو کر رہنے اور فساد فی الارض کو ختم کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور اس پر و عیدات فرمائی آئیے آیات قرآنیہ کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت کو ملاحظہ فرمائیں ۔

(1)فساد فی الارض کی اقسام:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-

ترجمہ کنزالعرفان : اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ (الاعراف:56)

(2)فساد پھیلانے والے اپنی اصلاح نہیں کرتے:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (سورة الشعراء: 152)

یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔(صراط الجنان جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 140)

(3)خشکی اور تری میں فساد :اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا۔(سورۃالروم،آیت 41)

یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ الله تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔ ( تفسیر صراط الجنان جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 453)

قرآن کریم نے فساد فی الارض کو انسانی معاشرے کی بنیادوں کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے اور معاشرے سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا حکم دیا ہے اس لیے کہ فساد فی الارض خوف قتل اور ظلم امن و سلامتی کو ختم کر دیتاہے اللہ تعالیٰ ہمیں قتل ،ظلم اور فساد فی الارض کو ختم کرنے اور امن و سلامتی پیدا کرنے اور متحد ہو کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام امن، عدل اور بھلائی کا دین ہے۔ اس کے برعکس"فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا، لوگوں کو نقصان دینا، ظلم کرنا اور معاشرے میں خرابی پھیلانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔

قرآنِ مجید میں فساد کی مذمت:

(1) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بہتر بنایا ہے، انسان کا کام اس میں بگاڑ پیدا کرنا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص، آیت 77)

یہ سخت تنبیہ ہے کہ فساد کرنے والے اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

(3) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 11)

یہ آیت منافقین کی نشانی بیان کرتی ہے کہ وہ اپنے فساد کو بھی اصلاح کا نام دیتے ہیں۔

(4) وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فساد سے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 205)

یہ عمومی اصول ہے کہ ہر قسم کا فساد اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔

(5) اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 33)

یہ آیت بتاتی ہے کہ فساد فی الارض بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا بھی انتہائی سخت ہے۔

فساد فی الارض ایک عظیم گناہ ہے جس سے قرآنِ مجید نے سختی سے روکا ہے۔ یہ عمل انسان کو اللہ کی ناراضی میں مبتلا کرتا ہے اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ فساد سے بچے، عدل و انصاف کو اپنائے، اور زمین میں بھلائی اور اصلاح کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور نیکی و اصلاح کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


(1) اللہ کے عہد کو توڑنے والے: الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالعرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اوراس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کااللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ( پارہ 1 ، سورةالبقرۃ، آیت : 27)

(2) فسادیوں کی سزا : اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ( پارہ 6 ، سورة المائدۃ ، آیت : 33)

(3) فساد فی الارض کی ممانعت : وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ ( پارہ1،سورة البقرۃ، آیت 11،12)

(4) فساد پھیلانے کی کوشس کرنے والے : وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ ( پارہ 2 ، سورة البقرۃ، آیت : 205)

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔( صراط الجنان ، جلد 1 ، صفحہ : 367،368)


قرآن و حدیث میں زمین میں فساد کرنے والوں کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ۔ اور درج ذیل قرآنی آیات سے ہم بھی زمین میں فساد کرنے والوں کی مذمت کے بارے میں پڑھتے اور بچنے کی کوشش کرتے ہیں:

(1) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(پارہ 1 سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11، 12 )

(2) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(پارہ 2،سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 205)

(3) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(پارہ 8، سورۃ الاعراف ،آیت نمبر 56)

(4) وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ (پارہ 12 ،سورۃ ھود، آیت نمبر 85 )

(5)فسادی اللہ کے دوست نہیں :وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنز الایمان: اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اورزمین میں فساد نہ چاہ بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(پارہ 20 ،سورۃ القصص ،آیت نمبر 77 )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان آیات سے عبرت حاصل کرنے اورفسادسے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔


اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور عالمِ انسانیت کی فلاح کا درس دیتا ہے۔ اس کے برعکس "فساد فی الارض" یعنی زمین کے فطری، اخلاقی اور سماجی توازن کو بگاڑنا ایک ایسا قبیح عمل ہے جسے قرآنِ کریم نے بدترین جرائم میں شمار کیا ہے۔

زمین کی اصلاح اور انسانی منصب :اللہ رب العزت قرآنِ حکیم میں انسان کو متنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا

ہے :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔ (سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین اپنی اصل میں "صالح" پیدا کی گئی ہے۔ انسانیت کا منصب اس کی حفاظت کرنا تھا، لیکن جب انسان اپنے مفادات کے لیے اخلاقی حدود پامال کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ کے بنائے ہوئے نظام سے بغاوت کرتا ہے۔فساد پھیلانے والا شخص چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، وہ خالقِ کائنات کی نظر میں مردود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔(سورۃ المائدۃ: 64)

جسے اللہ اپنی محبت سے محروم کر دے، اس کے لیے دنیا و آخرت میں سوائے خسارے کے کچھ نہیں۔ یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ کہیں ہم اپنے کسی عمل سے "مفسدین" کی فہرست میں تو شامل نہیں ہو رہے؟ناحق قتل و غارت گری فساد فی الارض کی ہولناک ترین شکل ہے۔ اسلام ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔ (سورۃ المائدۃ: 32)

یہ اصول واضح کرتا ہے کہ انسانی خون کی حرمت سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور جو معاشرہ انسانی جان کی قدر کھو دیتا ہے، وہاں اللہ کا عذاب فساد کی صورت میں مسلط کر دیا جاتا ہے۔

قرآنِ مجید نے منافقین کی اس نفسیات کو بھی بے نقاب کیا ہے جو آج کے دور میں "جدت پسندی" کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11)

یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو خیر خواہی کا دعویٰ کرے، ضروری نہیں کہ وہ سچا ہو۔ ہمیں نعروں کے بجائے اعمال کی بنیاد پر اصلاح اور فساد میں تمیز کرنی ہوگی۔یاد رکھیے! فساد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے۔

معاشی فساد: ذخیرہ اندوزی، رشوت خوری اور ناپ تول میں کمی (جیسا کہ قومِ شعیب علیہ السلام کا شیوہ تھا)۔

اخلاقی فساد: فحاشی، جھوٹ اور غیبت کے ذریعے معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کرنا۔

فساد کی اس تاریکی کا واحد حل وہ نور ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔(سورۃ النحل: 90)

جہاں عدل کا خاتمہ اور احسان (معاملات میں خوبصورتی اور درگزر) ہوگا، وہاں فساد خود بخود دم توڑ دے گا۔

المختصر فساد فی الارض محض ایک گناہ نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔ ایک سچے مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور وہ معاشرے میں "خیرِ امت" بن کر ابھرے۔ آج وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اخلاقی زوال کا راستہ روکیں اور زمین کو دوبارہ اسی امن کا گہوارہ بنائیں جس کا حکم ہمارے رب نے دیا ہے۔

کیونکہ بقا صرف اصلاح میں ہے، فساد میں تو صرف بربادی ہے۔الله رب العزت زمین میں فساد کرنے اور اس کا سبب بننے سے محفوظ رکھے عدل و احسان کرنے کی توفیق و سعادت نصیب کرے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔ 


"فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ پھیلانا، قرآن مجید میں سخت ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے احکام کی خلاف ورزی، قتل و غارت، چوری ڈکیتی، ظلم، شرک، بدعات اور ہر وہ عمل ہے جو معاشرے کے امن و سکون کی بربادی کا سبب بنے۔

قرآن کریم فساد فی الارض کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اسطرح ناطق ہے فرمایا:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 33 )

فساد وہ شریر عمل ہے کہ اسکی مذمت تو بداہتا جا بجا مذکور ہیں لیکن اسکے فاعل کی بھی محرومیاں قرآن واضح کر رہا ہے سب سے بڑی محرومی یہ کہ اللہ کی رضا اُسے نہیں حاصل ہوتی فساد پھیلانے والوں سے اللہ محبت نہیں کرتا الفاظ قرآن یوں مذکور ہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ ( سورۃ القصص 28: آیت 77)

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 64)

چونکہ یہ مہلک وصف منافقین کی خاصیت ہے اس حوالہ سے ارشادِ ربانی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 2: آیات 11،12)

اگر ہم قصص اقوامِ سابقین پر نظر کریں تو ان میں سے ظالم قوموں کی ہلاکت کا سبب فساد تھا۔آیت قرآنی مذکور ہے فرمائے:

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶)

ترجمۂ کنز العرفان:توتم سے پہلی گزری ہوئی قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع کرتے۔(سورۃ ہود 11،: آیت 116)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں پر جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذابات نازل ہونے کا بیان فرمایا اور ا س آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان عذابات کے نازل ہونے کا سبب دو چیزیں تھیں۔ (1) ان میں کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں فساد سے منع کرتا۔ (2) اپنے برے اعمال یعنی شرک اور کفر وغیرہ سے رجوع نہ کرنا۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۳ / ۹۳۷)

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت! تم سے پہلی امتوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا تھا وہ کچھ ایسے فضیلت والے نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے اور انہیں گناہوں سے منع کرتے ، اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کردیا البتہ ان سابقہ امتوں میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور وہ لوگ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے اوران کے اَحکام پر عمل کرتے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے جبکہ ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ نعمتوں ،لذتوں ، خواہشات اور شَہوات کے عادی ہوگئے ، کفر اورگناہوں میں ڈوبے رہے اور وہ مجرم تھے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۲ / ۳۷۵، ملخصاً)

ایک اور مقام پر صراحتا قومِ عاد، ثمود اور فرعون جیسے کفار و منکرِ نبوت کی تباہی کا بڑا سبب فساد فی الارض کوقراردیتےہوئےفرمایا:

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (سورۃ النحل، 16: آیت 88)

اس آیت کے تحت بھی مفتی صاحب تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں:کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جنہوں نے صرف خود کفر کیا جبکہ ا س آیت میں ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جو خود بھی کافر تھے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر(اور گمراہ کر کے) انہیں کافر بناتے تھے۔( تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷ / ۲۵۷)

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن لوگوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور جو آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے لائے، اسے جھٹلایا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے روکا تو ہم قیامت کے دن جہنم میں انہیں اس عذاب سے زیادہ عذاب دیں گے جس کے وہ صرف اپنے کفر کی وجہ سے حقدار ہوئے تھے۔ انہیں دگنا عذاب اس لئے ہو گا کہ دنیا میں یہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیتے تھے ۔ ( تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷ / ۶۳۲۶۳۳)

حدیث شریف میں سخت وعید بیان کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لیا قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔(صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 2452، صحیح مسلم، حدیث: 1610)

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الفساد في الأرض هو العمل بمعصية الله۔

زمین میں فساد اللہ کی نافرمانی کے ذریعے عمل کرنا ہے۔( تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرۃ آیت 11 کی تفسیر)

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ: "كل معصية فهي فساد في الأرض" ہر گناہ زمین میں فساد ہے۔( الجامع لاحکام القرآن، ج1 ص215)

قرآن مجید نے فساد فی الارض کو اللہ کی ناراضگی، سخت سزا اور منافقین کی علامت قرار دیا ہے۔ احادیث میں قتل، ظلم، لڑائی اور معاشرے کا امن خراب کرنے سے روکا گیا ہے۔ سلف صالحین کے نزدیک ہر گناہ اور نافرمانی فساد فی الارض میں داخل ہے۔ اس لیے مسلمان پر لازم ہے کہ خود فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی روکےاور فرمان خداوندی وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰىکا مصداق بنے۔اللہ تعالیٰ ہمیں زمین میں اصلاح کرنے والا بنائے اور فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین