محمد
امیر عمر (درجہ ثالثہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ رضویہ ،سرگودھا،پاکستان)
قرآن مجید
ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانوں کو امن عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے اس تناظر
میں فساد فی الارض کو نہایت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے کے امن و
سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور انسانی زندگی میں بے چینی اور ظلم کو فروغ دیتا ہے
قرآنی آیات میں مختلف انداز سے فساد فی الارض کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے انجام
سے خبردار کیا گیا ہے ان آیات کا مطالعہ انسان کو نہ صرف برائی سے بچنے کا شعور دیتا
ہے بلکہ اسے ایک پر امن معاشرے کی تشکیل کی طرف بھی راغب کرتا ہے ۔
(1)اصلاح کے بعد زمین میں فساد
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا
وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ
الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی
رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (الاعراف:56)
یعنی اے
لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم
و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ (صراط الجنان)
(2)فساد پھیلانے والے اصلاح نہیں کرتے: الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا
یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں
اور اصلاح نہیں کرتے۔(الشعرا:152)
یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے
ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے
فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے
بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ
ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔ (صراط
الجنان)
(3) اصلاح کے نام پر فساد:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا
اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (البقرۃ:11)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب ایمان والوں کی طرف
سے باطن میں کفر رکھنے والوں اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کرنے والو اور زمین
میں فساد برپا کرنے والو اور حق کی شمع کو بجھانے والوں کو مصلحت اور اصلاح کی تلقین
کی جائے تو کہتے ہیں ہمارا مقصد تو اصلاح ہے ان میں شعور کی حس باقی نہیں رہی جس
سے وہ اپنی خرابی جان سکیں آزادی کے نام پر بے حیائی فن کے نام پر حرام افعال
انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تمدن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض
کرنا توحید کا نام لے کر شان رسالت کا انکار کرنا قرآن کے نام پر حدیث کا انکار ان
کے فساد میں شامل ہے اس بحث سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک نے ہمیں بار بار نیکی اصلاح
امن اور عدل قائم کرنے کی تلقین کی تاکہ معاشرہ فتنہ فساد سے پاک صاف رہے اللہ
تعالی ہمیں ان نادان یا دانا دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ فرمائے آمین۔
Dawateislami