شریعت اسلامیہ اور قرآن کی روشنی میں فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی معاشرے کے امن و امان اخلاقیات اور نظام زندگی کو درہم برہم کر دیں کچھ اصول و ضوابط اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے رسولوں کے ذریعے اہل زمین تک پہنچائے یقینا ایک کامل زندگی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنے والا ہمارا دین اسلام ہی ہے ۔اور اللہ تبارک و تعالی جس نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور ساتھ ساتھ اس کو بہت سی وصیتیں بھی کیں جس کے اندر سر فہرست زمین پر فساد پھیلانے کی ممانعت بھی ہے افسوس کہ آج کل فسادات خوف ،قتل، ظلم اور غارت گری بہت عام ہو چکی ہے فساد فی الارض نے امن و سلامتی کو ختم کر دیا ہے جبکہ قرآن کریم نے امن و سلامتی پیدا کرنے اور متحد ہو کر رہنے اور فساد فی الارض کو ختم کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور اس پر و عیدات فرمائی آئیے آیات قرآنیہ کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت کو ملاحظہ فرمائیں ۔

(1)فساد فی الارض کی اقسام:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-

ترجمہ کنزالعرفان : اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ (الاعراف:56)

(2)فساد پھیلانے والے اپنی اصلاح نہیں کرتے:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (سورة الشعراء: 152)

یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔(صراط الجنان جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 140)

(3)خشکی اور تری میں فساد :اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا۔(سورۃالروم،آیت 41)

یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ الله تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔ ( تفسیر صراط الجنان جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 453)

قرآن کریم نے فساد فی الارض کو انسانی معاشرے کی بنیادوں کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے اور معاشرے سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا حکم دیا ہے اس لیے کہ فساد فی الارض خوف قتل اور ظلم امن و سلامتی کو ختم کر دیتاہے اللہ تعالیٰ ہمیں قتل ،ظلم اور فساد فی الارض کو ختم کرنے اور امن و سلامتی پیدا کرنے اور متحد ہو کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔