عمر
فاروق گھانچی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
"فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ پھیلانا، قرآن مجید
میں سخت ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے مراد اللہ کے احکام کی خلاف ورزی،
قتل و غارت، چوری ڈکیتی، ظلم، شرک، بدعات اور ہر وہ عمل ہے جو معاشرے کے امن و
سکون کی بربادی کا سبب بنے۔
قرآن کریم
فساد فی الارض کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اسطرح ناطق ہے فرمایا:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ
فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد
برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں
سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا
(ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں
رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 33
)
فساد وہ
شریر عمل ہے کہ اسکی مذمت تو بداہتا جا بجا مذکور ہیں لیکن اسکے فاعل کی بھی محرومیاں
قرآن واضح کر رہا ہے سب سے بڑی محرومی یہ کہ اللہ کی رضا اُسے نہیں حاصل ہوتی فساد
پھیلانے والوں سے اللہ محبت نہیں کرتا الفاظ قرآن یوں مذکور ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ ( سورۃ
القصص 28: آیت 77)
وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)
ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ فساد پھیلانے
والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ المائدۃ، 5: آیت 64)
چونکہ یہ
مہلک وصف منافقین کی خاصیت ہے اس حوالہ سے ارشادِ ربانی ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا
اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ
کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف
اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس
کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 2: آیات 11،12)
اگر ہم
قصص اقوامِ سابقین پر نظر کریں تو ان میں سے ظالم قوموں کی ہلاکت کا سبب فساد
تھا۔آیت قرآنی مذکور ہے فرمائے:
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ
قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا
قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ
اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶)
ترجمۂ کنز العرفان:توتم سے پہلی گزری ہوئی
قوموں میں سے کچھ ایسے فضیلت والے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد کرنے سے منع
کرتے۔(سورۃ ہود 11،: آیت 116)
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کرتے
ہوئے مفتی قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے
گزشتہ امتوں پر جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذابات نازل ہونے کا بیان فرمایا اور ا س آیت
میں یہ بیان فرمایا کہ ان عذابات کے نازل ہونے کا سبب دو چیزیں تھیں۔ (1) ان میں
کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں فساد سے منع کرتا۔ (2) اپنے برے اعمال یعنی شرک اور
کفر وغیرہ سے رجوع نہ کرنا۔ (صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۳ / ۹۳۷)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے حبیب صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت! تم سے پہلی امتوں میں سے جنہیں
ہم نے ہلاک کر دیا تھا وہ کچھ ایسے فضیلت والے نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں
فساد کرنے سے روکتے اور انہیں گناہوں سے منع کرتے ، اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کردیا
البتہ ان سابقہ امتوں میں تھوڑے سے ایسے تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور وہ لوگ انبیاءِ
کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے اوران کے اَحکام پر عمل
کرتے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے جبکہ ظالم لوگ اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے
رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ نعمتوں ،لذتوں ، خواہشات اور شَہوات کے عادی ہوگئے ،
کفر اورگناہوں میں ڈوبے رہے اور وہ مجرم تھے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۲
/ ۳۷۵، ملخصاً)
ایک اور مقام پر صراحتا قومِ عاد، ثمود اور
فرعون جیسے کفار و منکرِ نبوت کی تباہی کا بڑا سبب فساد فی الارض کوقراردیتےہوئےفرمایا:
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ
سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (سورۃ
النحل، 16: آیت 88)
اس آیت کے
تحت بھی مفتی صاحب تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں:کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ
تعالیٰ نے ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جنہوں نے صرف خود کفر کیا جبکہ ا س آیت
میں ان کافروں کی وعید بیان فرمائی جو خود بھی کافر تھے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ
کے راستے سے روک کر(اور گمراہ کر کے) انہیں کافر بناتے تھے۔( تفسیرکبیر، النحل،
تحت الآیۃ: ۸۸، ۷
/ ۲۵۷)
آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن
لوگوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور جو آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے
لائے، اسے جھٹلایا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے روکا تو ہم قیامت کے دن جہنم میں
انہیں اس عذاب سے زیادہ عذاب دیں گے جس کے وہ صرف اپنے کفر کی وجہ سے حقدار ہوئے
تھے۔ انہیں دگنا عذاب اس لئے ہو گا کہ دنیا میں یہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی
کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیتے تھے ۔ ( تفسیرطبری،
النحل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷
/ ۶۳۲۶۳۳)
حدیث شریف میں سخت وعید بیان کرتے ہوئے حضور
اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لیا قیامت کے دن سات
زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔(صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 2452،
صحیح مسلم، حدیث: 1610)
امام ابن
کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الفساد في الأرض هو
العمل بمعصية الله۔
زمین میں فساد اللہ کی نافرمانی کے ذریعے عمل
کرنا ہے۔( تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرۃ آیت 11 کی تفسیر)
امام قرطبی
رحمۃ اللہ علیہ: "كل معصية فهي فساد في الأرض" ہر
گناہ زمین میں فساد ہے۔( الجامع لاحکام القرآن، ج1 ص215)
قرآن مجید
نے فساد فی الارض کو اللہ کی ناراضگی، سخت سزا اور منافقین کی علامت قرار دیا ہے۔
احادیث میں قتل، ظلم، لڑائی اور معاشرے کا امن خراب کرنے سے روکا گیا ہے۔ سلف صالحین
کے نزدیک ہر گناہ اور نافرمانی فساد فی الارض میں داخل ہے۔ اس لیے مسلمان پر لازم
ہے کہ خود فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی روکےاور فرمان خداوندی وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰىکا مصداق بنے۔اللہ تعالیٰ
ہمیں زمین میں اصلاح کرنے والا بنائے اور فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین
Dawateislami