اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور عالمِ انسانیت کی فلاح کا درس دیتا ہے۔ اس کے برعکس "فساد فی الارض" یعنی زمین کے فطری، اخلاقی اور سماجی توازن کو بگاڑنا ایک ایسا قبیح عمل ہے جسے قرآنِ کریم نے بدترین جرائم میں شمار کیا ہے۔

زمین کی اصلاح اور انسانی منصب :اللہ رب العزت قرآنِ حکیم میں انسان کو متنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا

ہے :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔ (سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین اپنی اصل میں "صالح" پیدا کی گئی ہے۔ انسانیت کا منصب اس کی حفاظت کرنا تھا، لیکن جب انسان اپنے مفادات کے لیے اخلاقی حدود پامال کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ کے بنائے ہوئے نظام سے بغاوت کرتا ہے۔فساد پھیلانے والا شخص چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، وہ خالقِ کائنات کی نظر میں مردود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔(سورۃ المائدۃ: 64)

جسے اللہ اپنی محبت سے محروم کر دے، اس کے لیے دنیا و آخرت میں سوائے خسارے کے کچھ نہیں۔ یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ کہیں ہم اپنے کسی عمل سے "مفسدین" کی فہرست میں تو شامل نہیں ہو رہے؟ناحق قتل و غارت گری فساد فی الارض کی ہولناک ترین شکل ہے۔ اسلام ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔ (سورۃ المائدۃ: 32)

یہ اصول واضح کرتا ہے کہ انسانی خون کی حرمت سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور جو معاشرہ انسانی جان کی قدر کھو دیتا ہے، وہاں اللہ کا عذاب فساد کی صورت میں مسلط کر دیا جاتا ہے۔

قرآنِ مجید نے منافقین کی اس نفسیات کو بھی بے نقاب کیا ہے جو آج کے دور میں "جدت پسندی" کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11)

یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو خیر خواہی کا دعویٰ کرے، ضروری نہیں کہ وہ سچا ہو۔ ہمیں نعروں کے بجائے اعمال کی بنیاد پر اصلاح اور فساد میں تمیز کرنی ہوگی۔یاد رکھیے! فساد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے۔

معاشی فساد: ذخیرہ اندوزی، رشوت خوری اور ناپ تول میں کمی (جیسا کہ قومِ شعیب علیہ السلام کا شیوہ تھا)۔

اخلاقی فساد: فحاشی، جھوٹ اور غیبت کے ذریعے معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کرنا۔

فساد کی اس تاریکی کا واحد حل وہ نور ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔(سورۃ النحل: 90)

جہاں عدل کا خاتمہ اور احسان (معاملات میں خوبصورتی اور درگزر) ہوگا، وہاں فساد خود بخود دم توڑ دے گا۔

المختصر فساد فی الارض محض ایک گناہ نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔ ایک سچے مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور وہ معاشرے میں "خیرِ امت" بن کر ابھرے۔ آج وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اخلاقی زوال کا راستہ روکیں اور زمین کو دوبارہ اسی امن کا گہوارہ بنائیں جس کا حکم ہمارے رب نے دیا ہے۔

کیونکہ بقا صرف اصلاح میں ہے، فساد میں تو صرف بربادی ہے۔الله رب العزت زمین میں فساد کرنے اور اس کا سبب بننے سے محفوظ رکھے عدل و احسان کرنے کی توفیق و سعادت نصیب کرے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔