قرآن حکیم انسانی زندگی کو مکمل طور پر اپنے نور سے منور کیے ہوئے ہے، اب چاہے وہ انسان کی معاشی زندگی ہو یا معاشرتی، وہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو کامل طور پر گھیرے ہوئے ہے تاکہ معاشرہ ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہو کر امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے ہمارے معاشرے کی مثال کپرے کی مانند ہیں کہ کپرے کو پاک کرنے کے لیے جس طرح اس کو دھونا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت اسے نجاست سے دور رکھنے کی بھی ہے تاکہ وہ اندرونی نجاست کے ساتھ ساتھ بیرونی نجاست سے کامل طور پر پاک ہوسکے ورنہ صرف دھوتے رہنے کی صورت میں وقت ضائع ہونے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئےگا ۔

انہی ممنوعات میں سے ایک فساد فی الارض بھی ہے جو معاشرے کی جملہ برائیوں کی بنیاد ہے ہم پہلے فساد کو سمجھتے ہیں ۔

فساد کا معنی:فساد کا معنی ہے شے کا اعتدال سے باہر ہو جانا، خواہ تھوڑا سا باہر ہو یا زیادہ۔ اس کی ضد صلاح ہے، اس کا استعمال جان، دل، بدن، اور ان تمام چیزوں کے لیے ہوتا ہے جو درستگی سے نکل گئی ہو۔ ( المفردات فی غریب القرآن ص 379، مکتبہ نزار مصطفی )

معنی کو سمجھنے کے بعد اسے قرآن کریم فرقان حمید سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح کلام باری تعالیٰ صلاح کی دعوت دیتا ہے اسی طرح فساد سے منع بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ کہ کثرت سے قرآن کریم میں اس کی مذمت کی گئی اور لوگوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ (سورۃ الروم: 41)

مفسرین فرماتے ہیں کہ شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔( مدارک، الروم، تحت الآیۃ: 41، ص910، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: 41، ص344، ملتقطاً)

ہمارے لیے اس آیت میں بڑا درس ہے کہ کہیں ہم بھی زمین پر فساد کا باعث تو نہیں بن رہے کہ اس خالق کائنات نے ہمیں بےشمار نعمتوں سے نوازا اور ہم ہیں کہ ان کی قدر کرنے کے بجائے اس کریم رب کی زمین میں فساد کرتے پھریں ۔

الله کریم ہمیں عافیت اور زمین پر اصلاح کرنا نصیب فرمائے اور فساد فی الارض جیسی مذموم برائی سے محفوظ فرمائےآمین یارب العالمین۔