عبداللہ
عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
اسلام
امن، عدل اور بھلائی کا دین ہے۔ اس کے برعکس"فساد فی الارض" یعنی زمین میں
بگاڑ پیدا کرنا، لوگوں کو نقصان دینا، ظلم کرنا اور معاشرے میں خرابی پھیلانا سخت
ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور اس سے بچنے
کی تاکید کی گئی ہے۔
قرآنِ مجید میں فساد کی مذمت:
(1) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمہ
کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد
۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بہتر بنایا ہے، انسان کا کام اس میں بگاڑ
پیدا کرنا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے۔
(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ
القصص، آیت 77)
یہ سخت
تنبیہ ہے کہ فساد کرنے والے اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
(3) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 11)
یہ آیت
منافقین کی نشانی بیان کرتی ہے کہ وہ اپنے فساد کو بھی اصلاح کا نام دیتے ہیں۔
(4) وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فساد سے راضی نہیں۔ (سورۃ
البقرۃ، آیت 205)
یہ عمومی
اصول ہے کہ ہر قسم کا فساد اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
(5) اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ
اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں
یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور
کردئیے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 33)
یہ آیت
بتاتی ہے کہ فساد فی الارض بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا بھی انتہائی سخت ہے۔
فساد فی
الارض ایک عظیم گناہ ہے جس سے قرآنِ مجید نے سختی سے روکا ہے۔ یہ عمل انسان کو
اللہ کی ناراضی میں مبتلا کرتا ہے اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔لہٰذا ہر
مسلمان کو چاہیے کہ وہ فساد سے بچے، عدل و انصاف کو اپنائے، اور زمین میں بھلائی
اور اصلاح کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور نیکی و اصلاح کا راستہ
اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami