اولاد اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت ہے، اور انکی اچھی تربیت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ بے جا سختی نہ صرف بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان کے دل میں خوف، ضد اور دوری بھی پیدا کر سکتی ہے۔

بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔ بچوں سے پیار كرنا رسول اللہﷺ کی سیرت کا حصہ ہے مگر آج بچے تھوڑا سا شور کرتے ہیں تو انہیں خود سے دور کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی پیار دینا ہوگا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ خاتم المرسلینﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے ’الفرح “ کہا جاتا ہے اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ (1)

کچھ والدین اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت جذباتی ہوتے ہیں کہ جونہی بچے نے کوئی غلطی کی وہ اس کے احساسات کا خیال کئے بغیر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور والدین کو اپنا مخالف سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسانہ کیا جائے بلکہ بچوں کی غلطی مثبت اور نرم انداز میں ان پر آشکار کی جائے تا کہ وہ اپنے آپ کو قیدی تصور نہ کریں اور سمجھانے والے کو اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ!، اللہ رفیق ہے اور رفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ (2)

اسی طرح بعض ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں مثلاً اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آؤں گی وغیرہ۔ ایسا نہ کیجئے بچے کا نا پختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور نتیجتاً وہ بھی جوابی دھمکیوں پر اتر آتا ہے اور سنبھلنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے۔ بچے کو کبھی بھی آناً فاناً سزا مت دیجئے بلکہ اسکی غلطی سامنے آنے پر سوچئے کہ مجھے اسے کس طرح سمجھانا چاہے،پھر اس حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھائیے۔ سب کے سامنے نہ جھاڑیئے بچہ بہت سبکی محسوس کرتا ہے اور اس کے نازک دماغ پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض مائیں اپنی اولاد کی بار بار کی غلطی پر بددعا تک دے ڈالتی ہیں (العیاذ باللہ)پھر جب یہ بددعا ئیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی مائیں مصلے بچھا کر بیٹھ جاتی ہیں۔

اسی طرح ایک بار کی غلطی پر بچے کو مختلف القابات مثلاً مکار، چور، جھوٹا وغیرہ سے نوازنے والے والدین بھی سخت غلطی پر ہیں۔ ان القابات کی تکرار سے بچہ یہ سوچتا ہے جب مجھے یہ لقب مل ہی گیا ہے تو میں کیوں نہ اس کام کو کامل طریقے سے کروں۔ پھر وہ اسی لقب کا حقیقی مستحق بن کر دکھاتا ہے۔

اگر نرمی کے باوجود بچہ کسی غلطی کو بار بار کرتا ہے تو مقتضائے حکمت یہ ہے کہ اسے ذرا سختی سے سمجھایا جائے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سزا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے گھر میں کوڑا لٹکائے جس سے اس کے اہل ادب سیکھیں۔ (3)

لیکن یاد رہے اگر سزا دینی پڑے تو ہاتھ سے اتنی ضرب لگائے کہ بچہ اسے برداشت کر سکے اور چہرے پر مارنے سے بچے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چاہیے کہ چہرے پر مارنے سے بچے۔ (4)

لہٰذا اولاد کی تربیت کے لیے قدر ضرورت سختی ضرور کیجئے مگر ایسی سختی بھی نہ کیجئے کہ پھر وہ آپ سے ہی بد ظن ہوکر سکون کی تلاش میں گناہوں کی طرف چل پڑے۔

اللہ کریم ہمیں ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین

حوالہ جات:

(1) جامع صغیر، ص 140، حدیث: 2321

(2) مسلم، ص 1398، حدیث: 2593

(3) کنز العمال، 16/159، حدیث: 44990

(4) ابو داود، 4/222، حدیث: 4493


بےجا سختی اور مار پیٹ وقت بے وقت بچوں کو ڈانٹتے رہنے سے بچوں کی خود اعتمادی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور زیادہ سختی کرنے سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ والدین کی عادت ہوتی ہے کہ معمولی سی بات پر بچے کو جھڑک دیتے ہیں اور اچھی خاصی پٹائی بھی کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں ضد پیدا ہوتی ہے اور وہ باغی ہوجاتے ہیں پھر کسی کی بھی نہیں سنتے۔

فرمان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ: برتن میں سوراخ کرنےکے بعد جتنا بھر لو خالی رہے گا یعنی مار کر ہم بچے کو سمجھا نہیں رہے بلکہ اسے خود سے دور کر رہے ہیں۔ بچے کی غلطی پر اسے مکار،جھوٹا، چور وغیرہ کے القاب سے نوازنے والے والدین سخت غلطی پر ہیں بچہ سوچتا ہے جب مجھے لقب مل گیا تو میں کامل طور پر بن کر دکھا دوں۔

ہےفلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

بچے پیار کا احساس ہیں۔اگر اس احساس کو آپ سختی سے پروان چڑھائیں گے تو یہ احساس بچہ میں سے ختم ہو جائے گا۔بچوں کے ساتھ پیار بھرا رویہ اپنانا چاہئے۔زیادہ سختی بچے کی ذہنی،جسمانی اور معاشرتی نشوونما کے لئے درست ثابت نہیں ہوتی۔بچوں پربے جا سختی سے یا تو بچہ بگڑ جاتاہے یا سہم جاتاہے اور کبھی بھی ویسا نہیں بن پاتا جیسا آپ اسے بنانا چاہتے ہیں۔

بچے کی شخصیت میں ڈر یاشر کا غالب آنا دونوں ہی صورتیں بچہ کی شخصیت کوتباہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔بچوں پر بےجا سختی کے درج ذیل نقصانات سامنے آتے ہیں:

نفسیاتی مسائل: بات بات پر روک ٹوک بچے میں نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کاسبب بنتی ہے۔اگر آپ کو بچے کوکسی غلط بات سے روکنا ہے تو اسے اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس کام سے منع کریں۔

ڈپریشن: صرف بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی بڑوں کے غلط رویے کی وجہ سے ڈپریشن میں جاسکتے ہیں۔والدین کی طرف سے پڑھائی پر کی جانے والی سختی بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماں باپ سے دوری: آپ کی بچے پربے جاسختی اسے آپ سے دور کرسکتی ہے۔سخت رویہ سے تنگ آکر وہ آپ سے دور رہنے میں زیادہ آرام دہ محسوس کرے گا۔

اعتماد کی کمی: اعتماد میں کمی کی بڑی وجہ بڑوں کا بچوں کے ساتھ غلط رویہ ہوتا ہے۔ایسے بچے جو بہت گھٹے ہوئے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔والدین کے سخت رویہ سے وہ ہر کام کرنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔بچوں کو اگر ہر کام سے روکا ٹوکا جائے تو وہ کسی بھی کام کو کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔

احساس کمتری: اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین ان پر زیادہ سختی کرتے ہیں وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔تنہائی اور اکیلاپن انہیں زیادہ بہتر لگنے لگتا ہے۔ دوسروں کا سامنا کرنا ان سے بات کرنا ان کیلئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔اور بچپن میں ہونے والی احساس کمتری بڑے ہونے کے بعد بھی آسانی سے ختم نہیں ہوپاتی۔ان چند بیان ہوئے نقصانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت میں بےجا سختی کی بجائے نرمی اور شفقت اختیار کرنی چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا رہنمائی فرمائی اور آپ ﷺ خود اس کا کس درجہ خیال رکھتے تھے؟اس کی بیشمار مثالیں کتب حدیث وسیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔حضرت عمروبن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر ادھر چلا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔ (بخاری، 3/521، حدیث: 5376)

قربان جائیے! آپ کی شان پر کہ آپ کتنے پیارے اور میٹھے انداز میں تربیت فرماتے تھے ہمیں آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے احسن طریقے سے اسلام کی روشنی میں بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


بچے گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ بچوں سے ہی گھر چہچہاتے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کو بچوں سے بہت پیار ہوتا ہے

پیارے آقا ﷺ کی بچوں پر شفقت: پیارے آقا ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ اور ان کے ساتھ بے حد شفقت سے پیش آتے جب بھی آپ کی بارگاہ میں کوئی نیا میوہ آتا سب سے پہلے بچوں کو دیا کرتے آپ بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے اگرچہ کفار کا ہوتا یا مسلمان کا اس سے معلوم کہ ہمیں بھی بچوں پر شفقت کرنی چاہیے اور اس طرح بچوں سے محبت کرنے کی سنت پر بھی عمل ہو جائے گا۔

بچے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔بچے کے گناہ شمار نہیں ہوتے۔بچوں کی نیکیاں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمیں بچوں کو شفقت کے ساتھ نیکیوں کی طرف رغبت دلانی چاہیے اور ان سے پیار و محبت کرکے ان سے ڈھیروں دعائیں لینی چاہیے۔

بچوں پر بے جا سختی نہ کریں: آج کل لوگ بچے کو پیار و محبت کرنے کی بجائے اس پر بے جا سختی کرتے ہیں اور انہیں بے جا مارتے ہیں اگر بچہ معمولی سا کچھ کر دے تو بچے پر سختی کی جاتی ہے اور اس کو مارا بھی جاتا ہے یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ بے جا سختی سے بچہ عموما باغی ہو جاتا ہے اللہ پاک نے اگر آپ کو اولاد سے نواز دیا ہے تواس پر اس کا شکر ادا کریں اور اپنے بچوں کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اولاد کی قدر بے اولادوں سے پوچھئے کہ وہ کس طرح اولاد کے لیے منتیں مانتے،دعائیں کرتے اور دن رات روتے ہیں کہ اے کاش ہمیں بھی اولاد نصیب ہو جائے مگر بد بخت ہےوہ شخص جسے اللہ نے اولاد سے نوازا لیکن وہ اس پر سختی کرتا اور اسے بے جا مارتا ہے۔

ایک حدیث مبارک ہے: جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزّت نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/ 369، حدیث:1927)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں بچوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ انہیں مارنے یا ان پر سختی کرنے سے گریز کرنا چاہیے انہیں شفقت سے سمجھانا چاہیے۔

بےجا سختی کے نقصانات: جب بچے پر بےجا سختی کی جائے تووہ بعض اوقات اس چیز کا عادی ہو جاتا ہے اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر میں کچھ کروں گا تو بعض اوقات مار پڑے گی یا پھر مجھ پر سختی کی جائے گی تو بچہ اس چیز کا عادی تو ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ماں باپ سے بھی باغی بھی ہو جاتا ہے اور اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہےاور ان سے منہ پھیر لیتا ہے اس لیے ہمیں بچوں پر بے جا سختی نہیں کرنی چاہیے۔

نرمی سے سمجھانے پر پکڑ: ہمیں ان سے محبت اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اب بچے پر محبت اور لاڈ پیار کا یہ ہرگز مطلب نہ ہوگا کہ ہم بچوں کو ان کی بری باتوں سے بھی نہ روکیں نہ ان پر گناہ کےمعاملے میں سختی کریں اگرچہ بچہ گناہ کا کام کرے اور والدین کو معلوم ہو اور وہ بچے کو کچھ نہ کہیں تو اس پر والدین سے پوچھا جائے گا اس بارے میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے: بنی اسرائیل کے ایک عالم صاحب وعظ فرما رہے تھے ان کا بیٹا بھی اس مخفل میں موجود تھا اس نے ایک لڑکی کو گھورا تو عالم صاحب نے کہا کہ اے بیٹےصبر رکھ! یہ کہنا تھا کہ عالم اچانک منبر سے گرا اور اس کی ہڈیاں بعض جگہوں سے ٹوٹ گئیں اور غیب سے آواز آئی کہ اپنے لڑکے کے گناہ پر کیا اتنی تنبیہ کافی تھی؟ تم نے اسے سختی سے کیوں نہ روکا؟ یاد رکھو! تمہاری نسل سے قیامت تک کوئی صدیق پیدا نہیں ہوگا۔ (احیاء العلوم، 2/383)

آخر میں خلاصہ یہ نکلا کہ ہمیں نہ تو بچوں پر بے جا سختی کرنی ہے نہ ہی زیادہ نرمی کیونکہ ان دونوں صورتوں میں بچے بگڑ جاتے ہیں بلکہ اعتدال کرنا ہے جس معاملے میں سختی کرنا صحیح ہو اس میں سختی کریں اور جس میں نرمی کرنا درست ہو اس میں نرمی سے پیش آئیں۔

اللہ ہمیں صحیح معنوں میں اولاد کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


بچے اللہ کی رحمت اور امانت ہیں۔ یہ معاشرے کی رونق ہوتے ہیں ان پر بے جا سختی کرکے ان میں احساس کمتری پیدا کرنے کی بجائے ان کے دوست بن کر انکی راہنمائی کیجیے۔محبت،صبر اور مثبت تربیت کے ذریعے ہی آپ انہیں ایک بہترین پراعتماد انسان بنا سکتے ہیں۔

بے جا سختی کے نقصانات: بچوں پر بے جا سختی ان کی شخصیت، اعتماد اور تعلق تینوں کو خراب کر دیتا ہے بچہ بچپن میں سیکھ ہی رہا ہوتا ہے وہ غلطی کرنے کے بعد ہی سیکھتا ہے تو بجائے ڈانٹ ڈپٹ کے بچوں کو پیار سے سمجھایا جائے۔

اعتماد کا ٹوٹنا: بار بار ڈانٹ مار،سختی کی وجہ سے بچے کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے وہ خود کو نکما سمجھنے لگ جاتا ہے۔

ضد بڑھتی ہے: بہت ذیادہ ڈانٹ بچے کو ضدی بنادیتی ہے

بچہ ماحول سے سیکھتا ہے: بچہ وہی کام کرتا ہے جو وہ اپنے ماحول میں دیکھتا ہے اگر ہم غصے میں بچے کو سخت الفاظ بولیں گے تو وہ بھی ایسا ہی رویہ اپنائے گا۔

بچے کے سامنے غصے پر کنٹرول کریں:اگر ہم بچے کو غصہ کیے بغیر پیار سے سمجھانے کی کوشش کریں گے تو اس سے اس میں بھی غصے کو کنٹرول کر نے کی حس پیدا ہوگی اس طرح بچے میں مثبت عادات پیدا ہونگی جس کی وجہ سے اس میں اچھائی کا جذبہ بڑھے گا۔

ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ ہمیشہ بچوں سے نرمی اور بہت محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔

نبی کریم ﷺ کی محبت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے،یہاں تک کے میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر نامی سے (مزاحا) فرماتے: ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟

بچوں پر رحم نہ کرنے کی مذمت میں حدیث پاک: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرےاور ہمارےبڑوں کا مقام نہ پہچانے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

صحیح بخاری میں ہے: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (بخاری، 4/100، حدیث: 5997)

حضور ﷺ کی سیرت سب سے بڑی نمونہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کس قدر بچوں پر محبت فرماتے تھے اس دور میں بچوں کی کامل تربیت بہت مشکل امر ہے اس وجہ سے بھی والدین اکثر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اس فکر میں وہ بے جا سختی کرتے ہیں ان کی معمولی سی بات پر بھی مارا جاتا ہے ایسا نہ کیا جائے بلکہ پیار سے ان کی غلطیوں پر ان کو سمجھایا جائے۔ گھر میں بے جا سختی کی وجہ سے یہ بچے سماجی میل جول سے کتراتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بچے دباؤ اور خوف والے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی صلاحیتیں ابھرنے کی بجائے دب جاتی ہیں جس سے تعلیم کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔

بچے کے سامنے جیسا رویہ اپنایا جائے وہ بھی ویسا ہی اپناتا ہے اس لیے ان کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آیا جائے اور سختی سے بچا جائے۔

اللہ پاک حضور اکرم ﷺ کی بچوں سے محبت کے صدقے ہمیں بھی بچوں سے پیار کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔


بچوں کی تربیت ایک انتہائی نازک، اہم اور مقدس ذمہ داری کا کام ہے۔ والدین کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہمیشہ بہتری کی خواہش ہوتی ہے اور وہ انہیں کامیاب اور مثالی انسان دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی اس خواہش کو پورا کرنے کی جلدی اور فکر میں والدین انجانے میں بے جا سختی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نظم و ضبط اور بےجا سختی کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے اور جب یہ لکیر پار ہو جاتی ہے تو تربیت کے نتائج مثبت کے بجائے منفی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جب ہم بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں تو ہم ان کی شخصیت کی نشوونما کے فطری عمل کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ سختی سے پیدا ہونے والا ڈر کبھی بھی بچوں میں حقیقی اطاعت یا عزت و احترام پیدا نہیں کرتا، بلکہ یہ انہیں جھوٹ بولنے، اپنی غلطیاں چھپانے اور اپنے جذبات کو دبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب گھر کا ماحول خوف زدہ کر دینے والا ہوتا ہے، تو بچہ والدین سے اپنے دل کی بات کہنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتا ہے، جس سے والدین اور بچے کے درمیان خلش بڑھتی جاتی ہے اور اعتماد کا وہ رشتہ کمزور ہو جاتا ہے جس پر ایک صحت مند خاندانی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایسے بچے یا تو شدید باغی ہو جاتے ہیں یا پھر احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

حقیقی نرمی دل کا نرم ہونا ہے۔ جب بندۂ مؤمن کا قلب نرم ہوتا ہے تو اسے اللہ کا قرب ملتا ہے جس کی برکت سے وہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں پاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ کریم نے نبی پاک ﷺ کے دل کی نرمی کو اپنی رحمت قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-(پ4،اٰل عمران: 159) ترجمۂ کنز الایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے۔

فرمان مصطفے ﷺ: بیشک اللہ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جوسختی پر عطانہیں فرماتا بلکہ نرمی کے سوا کسی بھی شے پر عطا نہیں فرماتا۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6601)

تربیت کا بہترین اور پائیدار طریقہ سختی نہیں بلکہ مثبت نظم و ضبط ہے۔ بچوں کو سمجھانا، ان کی بات کو صبر سے سننا، اور غلطی پر انہیں سزا دینے کے بجائے اس کی اصلاح کا صحیح طریقہ سکھانا ہی ایک کامیاب والدین کی پہچان ہے۔ اگر ہم بچوں کو اپنی شفقت اور توجہ کا یقین دلائیں اور انہیں مناسب حدود کے اندر رہ کر اظہار رائے کا موقع دیں، تو وہ خود اپنی غلطیوں کو سمجھنا اور ذمہ دار بننا شروع کر دیں گے۔ یاد رکھیے، بچے آپ کے الفاظ سے زیادہ آپ کے رویوں سے سیکھتے ہیں، اس لیے سختی کے بجائے صبر، محبت اور حکمت عملی سے کام لینا ہی وہ واحد راستہ ہے جو انہیں ایک پر اعتماد، متوازن اور کامیاب انسان بنا سکتا ہے۔ آئیے اپنے گھروں کو خوف کے بجائے محبت اور باہمی احترام کا گہوارہ بنائیں تاکہ ہماری اولاد ایک خوشگوار ماحول میں پنپ سکے۔

بے جا سختی کے نقصانات: غیر ضروری روک ٹوک اور بندشیں بچوں کی برداشت کرنے کی صلاحیت کو کم کرتی جاتی ہے اور وہ آگے چل کر غصیلے مزاج کے انسان بن جاتے ہیں۔

آپ یہ کبھی نہ بھولیں کہ بچے آپ کو دیکھ ہی زیادہ سیکھتے ہیں، بجائے آپ کی نصیحتوں کے۔ آپ ان کے پہلے رول ماڈل ہو۔ اگر آپ خود اپنا رویہ کنٹرول میں نہیں رکھ پائیں گے تو بچے سے امید مت رکھئے گا کہ وہ آپ کی بات مانے گا۔

آپ کے بچے آپ سے کھل کر بات نہیں کر پائیں گے۔ نہ آپ سے گھل مل پائیں گے نہ ہی آپ کے ساتھ دوستانہ رشتہ استوار کر پائیں گے جس سے آپ لوگوں کے درمیان ہمیشہ ایک دوری قائم رہے گی اور اس دوری کے درمیان میں ہوگا تو صرف ڈر۔ نہ تو آپ اور نہ ہی آپ کے بچے ایک عام والدین اور بچے کے درمیان رشتے کو محسوس کرسکیں گے۔ سہما ہوا سا رشتہ ہوگا وہ اور یہ بچوں کو غلط راستے پر بھٹکا بھی سکتا ہے کیونکہ آپ اپنے بچوں کا بھروسہ جیتا نہیں جب والدین ہر بات پر سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، تو بچہ اپنی بات کہنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنا ذہن اور خیالات چھپانے لگتا ہے، جس سے والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد کی دیوار گر جاتی ہے۔

اے اللہ! ہماری اور ہم سے وابستہ تمام لوگوں کی مغفرت فرما اور ہم سب پر اپنی خاص رحمت نازل فرما۔


سختی کے تو نقصان ہی ہیں کوئی فائدہ تو نہیں مگر بعض اوقات دین کے احکام پر عمل کروانے کے لیے شریعت کے مطابق سختی جائز ہے مگر بغیر ضروری تو خسارہ ہی خسارہ ہے جیسے حضرت سیدنا سفیان ثوری نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو نرمی کیا ہے؟ انہوں نے کہا اے ابو محمد آپ ہی بتا دیں فرمایا: کاموں کو ان کے موقع محل پر رکھنا نرمی ہے سختی کی جگہ سختی جبکہ نرمی کی جگہ نرمی ہونی چاہیے جیسے کہا جاتا ہے:

فوضع الندى في موضع السيف بالعلا

مضر کوضع السيف في موضع الندى

ترجمہ: جہاں تلوار اٹھانا ہو وہاں سخاوت سے کام لینا اس طرح نقصان دہ ہے جیسے سخاوت کے موقع پر تلوار اٹھانا۔

اسی طرح ایک بچہ وہی سیکھتا ہے جس کا اسے تجربہ ہوتا ہے ہمیں اپنی نسل تک سختی کے برعکس نرمی اور باہمی محبت کو منتقل کرنا چاہیے۔

نرمی کی فضیلت پر فرمان مصطفیٰ: اللہ جب کسی گھر والوں کو پسند فرماتا ہے تو ان میں نرمی پیدا کر دیتا ہے۔ (مسند امام احمد،9/385، حدیث: 24481)

کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن کون اگ پر حرام ہوگا؟ نرم طبیعت نرم زبان درگزر کرنے والا اور لوگوں سے قریب۔ (شعب الایمان، 4/272، حدیث: 8125)

سختی کی مذمت پر فرمان مصطفی: نرمی برکت اور سختی نحوست ہے۔ (شعب الایمان، 6/138، حدیث: 7722)

بے شک اللہ نرمی پر جس قدر اجر عطا فرماتا ہے سختی پر اس قدر اجر نہیں دیتا اور جب اللہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو اسے نرمی عطا فرماتا ہے اور جس گھر والے نرمی سے محروم ہوں وہ اللہ کی محبت سے محروم ہوتے ہیں۔ (معجم کبیر، 2/306، حدیث: 2274)

بچوں پر شفقت کے متعلق سیرت مبارکہ: حضور ﷺ سواری پر آگے پیچھے بچوں کو بٹھاتے، حضور کی خدمت میں کوئی سوغات پیش کی جاتی تو سب سے پہلے آپ چھوٹے بچوں کو دیتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

ان فرامین سے پتا چلا کہ نرمی کے تو فائدے اور بچوں پر نرمی کا تو کیا ہی کہنا مگر سختی کے تو نقصانات ہی ہیں ہر کام کے لیے سختی ضروری نہیں کیونکہ اکثر اوقات سختی سے کام بگڑتے ہیں اور نرمی سے کام سنورتے ہیں۔

سائنس کے نزدیک سختی کے مزید نقصانات ملاحظہ فرمائیں: ڈپریشن، احساس کمتری، بداخلاقی، والدین سے دوری۔

ڈپریشن: فی زمانہ ڈپریشن ایک عام بیماری ہے جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اس بیماری میں مبتلا اکثر اوقات بچے ہیں ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ڈپریشن کا علاج اور جنم کیسے ممکن ہے جنم ڈپریشن کسی جراثیم سے نہیں ہوتا بلکہ یہ بغیر جراثیم کے لاحق ہوتی ہے یہ بچے پر بےجا سختی اور اس کے جذبات کو دبا لینے سے پیدا ہوتی ہے کسی معاملے میں بچوں کو بولنے کا اختیار نہیں جو والدین نے کہا بس مشین کی طرح وہی ہوگا اس طرح ڈپریشن بچے کو ہو جاتا ہے۔

علاج: ڈپریشن کا علاج نرمی محبت شفقت اور دل جوئی یہ ایسا نسخہ ہے کہ ڈپریشن کے مریض پر اپنا کر دیکھو بغیر دوائی علاج جلد ممکن ہو جائے گا۔

احساس کمتری: بچے معاشرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں جب وہ اپنے سے دوسرے بچوں کو محبت نرم مزاجی سے بڑھتا نشوونما کرتا دیکھی گا اور خود کو ایک مشین کی طرح کام کرتا پائے گا تو وہ خود کو دوسرے بچوں سے کمپیئر کرے گا جس کی بدولت آہستہ آہستہ خود کو دوسروں سے کمتر محسوس کرے گا۔

بد اخلاقی: جب نوجوان یا جوان بچوں پر بےجا سختی کی جانے لگے گی ان کو پیار سے سمجھانے کے بجائے بےعزت کیا جائے گا تو وہ بد زبان ہو جائیں گے بدزبانی ہی بد اخلاقی کی پہلی سیڑھی ہے پھر اس سے چل کر آہستہ آہستہ مزید گناہوں کی طرف آنے لگے گا اور اگر نرمی سے کام لیا جائے تو یقینا بچہ آپ کو سمجھے گا آئندہ وہ کام بھی نہ کرے گا اور آپ کی عزت بھی برقرار رہے گی جیسے محاورہ ہے: تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی! یعنی اگر آپ سختی کریں گے تو اپنی عزت بھی نہ پائیں گے اور اولاد بھی گناہوں میں مبتلا پائیں گے اس کے برعکس نرمی سے عزت بھی پائیں گے اور اولاد آئندہ سے اس برے عمل سے باز رہے گی۔

والدین سے دوری: اگر والدین ہر وقت لوہے کی طرح سخت رہیں گے غصے کو اپنا وقار سمجھیں گے تو آہستہ آہستہ بچے والدین سے دور ہوتے جائیں گے کیوں کہ سختی بے بنیاد چیز ہوتی ہے کسی بھی چیز کو ساتھ لگانے یعنی اٹیچ کرنے کے لیے نرمی اور محبت لازمی ہوتی کیونکہ مشہور ہے کہ سختی سے تو جانور بھی ڈر کر بھاگ جاتے ہیں تو بھلا انسان کسی سے اٹیچ ہو سکتا ہے مگر محبت سے تو جانور دوست بن سکتے ہیں تو انسان کیا چیز ہے تو پھر والدین کی محبت تو پتھر دل کو بدل سکتی ہے۔

اللہ کریم ہمیں اپنے مبارک نام رحیم کے صدقے سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا کر بچوں کے ساتھ نرمی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بچوں پر بےجا سختی کرنا ان کی شخصیت کو متاثر کرتا اور ان میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ بچے نرمی، محبت اور پیار سے ہی سب سیکھتے ہیں، اگر والدین اور بڑے ہر بات میں بچوں پر بےجا سختی کرنے لگ جائیں گے بچے ذہنی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں اور وہ کھل کر بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ کچھ غلط کرنے پر سچ بولنے کی بجائے جھوٹ بولتے ہیں، اس ڈر سے کہ کہیں ان پر سختی نہ کی جائے اور ان کو مارا نہ جائے۔

ہمارا پیارا دین اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ نرمی اختیار کی جائے اور ہمارے پیارے آقا ﷺ بچوں سے ہمیشہ نرمی و محبّت سے پیش آتے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں سے نرمی سے پیش آئیں اور رحم کریں۔ اس کے ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

اگر بچے کچھ غلط کریں تو بجائے ڈانٹنے اور مار پیٹ کے ہمیں چاہیے کہ نرمی اور محبّت سے ان کو سمجھائیں اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ پیار اثر رکھتا ہے اور جو بات بچے نرمی اور پیار سے سمجھتے ہیں وہ بات بچے غصے سے کبھی بھی نہیں سمجھتے، الٹا وہ ضد پر اتر آتے ہیں لہٰذا بچوں کی تربیت میں نرمی اختیار کرنی چاہئے، اسی ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے نکال لی جائے وہ بدصورت ہو جاتی ہے۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2594)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ- (پ 28، التغابن:15) ترجمہ: بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد اللہ کی طرف سے دی گئی ایک امانت اور آزمائش ہے۔ اگر اولاد نیک ہو تو دنیا و آخرت میں فائدہ اور اگر نافرمان ہو تو والدین کے لئے دنیا میں پریشانی اور آخرت میں وبال ہو سکتی ہے۔ بچوں کی تربیت نرمی اور محبّت سے کرنی چاہئے اور دین اسلام کے مطابق کیونکہ دین اسلام نرمی ہی سکھاتا ہے۔

ہمارے آقا جان ﷺ بھی بچوں سے بہت محبّت فرماتے اور ان سے ہمیشہ نرمی و محبّت کا رویہ اختیار کرتے۔ اسی ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں؟ ہم تو نہیں چومتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں کیا کروں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہو؟ (مسلم، ص 1267، حدیث: 2317)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں سے محبت اور شفقت کرنا فطری اور ایمانی چیز ہے، اور اسے ترک کرنا دل کی سختی کی علامت ہے۔

آقا جان ﷺ کا طریقہ مبارک: نبی ﷺ بچوں کو گود میں بٹھاتے، پیار کرتے، کھیلتے اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے تھے۔ اپنے مدنی و مکی آقا ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ بچوں پر بےجا سختی نہ کریں۔ بچوں کی تربیت میں سختی صرف حد ضرورت اور حکمت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اصل طریقہ نرمی، محبت اور سمجھداری ہے، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمارے لئے عملی نمونہ پیش کیا۔

اللہ پاک ہمیں بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


دین اسلام جہاں زندگی کے ہر ہر پہلو پر ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے وہیں اسلامی تعلیمات میں بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کی ترغیب دلانے اور بچوں پر بے جا غصہ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے منع کیا گیا ہے۔

حضور سید عالم ﷺ کا ارشاد ہے: جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی،3/ 369، حدیث:1926)

تشریح حدیث: حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا۔(مراة المناجیح،6/ 560)

حضور ﷺ کا بچوں سے انداز محبت: نبی کریم ﷺ بچوں سے بے حد پیار کیا کرتے،ان کو چومتے،ان کو سونگھتے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ بچّوں پر مہربان تھے۔ (مسلم، ص 974، حدیث: 6026)

بچوں کی تربیت میں بے جا سختی کے نقصانات: بچوں پر بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ ان کی شخصیت، ذہنی صحت اور دماغی نشوونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جس سے احساس کمتری، شدید ڈپریشن، اور جارحانہ رویہ جنم لے سکتا ہے۔ مستقل سختی بچوں کو باغی یا انتہائی خوفزدہ بنا دیتی ہے، جس سے ان کی سیکھنے اور اعتماد کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

والدین کی سختی بچوں میں احساس کمتری اور تنہائی کا باعث بنتی ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق، سخت رویہ بچوں کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ زائد سختی سے بچے لڑکپن میں شدید ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جو بچے مار پیٹ یا سختی کا شکار ہوتے ہیں، ان میں دوسروں کے ساتھ بھی جارحانہ اور منفی رویہ اپنانے کی عادت پڑ سکتی ہے۔ بے جا تنقید اور ڈانٹ سے بچوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، جس سے ان کی شخصیت کمزور ہو جاتی۔

بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کے فوائد: محبت اور نرمی بچوں کی شخصیت سازی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے بچوں میں اعتماد، جذباتی استحکام، اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پیدا ہوتی ہیں، جبکہ وہ ذہنی تناؤ سے پاک رہتے ہیں۔ شفقت آمیز رویہ بچوں میں مثبت سوچ پروان چڑھاتا ہے اور ان کی معاشرتی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔

بچوں کی بہتر تربیت کے لیے کچھ رہنما اصول: بچوں سے اونچی آواز میں بات کرنے کے بجائے نرمی اور دھیمے لہجے میں بات کریں تاکہ وہ آپ کی بات دل سے مانیں۔ بچوں کے ساتھ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہنسی مذاق کریں اور انہیں سیر و تفریح پر لے جائیں تاکہ ان کے مزاج میں اعتدال رہے۔ ان کے احساسات کو جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ بچے کے اچھے کام پر اس کی تعریف کریں۔ جب بچہ محسوس کرے گا کہ اس کی مثبت سرگرمیوں کو سراہا جا رہا ہے، تو وہ غلط کاموں سے خود دور رہے گا۔

ہر بچے کی ذہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے اسے دوسرے بچوں کے ساتھ کم تر ظاہر نہ کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق اور اعمال کے ذریعے بچوں کے لیے مثال بنیں۔ بچوں کو گھریلو اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں تاکہ ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور وہ اپنے کام خود کرنے کے عادی بنیں۔

دور حاضر میں موبائل اور انٹرنیٹ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ان کی صحیح رہنمائی کریں اور ضرورت پڑنے پر نگرانی کے ساتھ استعمال کی اجازت دیں۔

الله پاک سے دعا ہے الله رب العزت ہمیں شریعت کے مطابق اپنی اولادوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین