سختی کے تو نقصان ہی ہیں کوئی فائدہ تو نہیں مگر بعض اوقات دین کے احکام پر عمل کروانے کے لیے شریعت کے مطابق سختی جائز ہے مگر بغیر ضروری تو خسارہ ہی خسارہ ہے جیسے حضرت سیدنا سفیان ثوری نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو نرمی کیا ہے؟ انہوں نے کہا اے ابو محمد آپ ہی بتا دیں فرمایا: کاموں کو ان کے موقع محل پر رکھنا نرمی ہے سختی کی جگہ سختی جبکہ نرمی کی جگہ نرمی ہونی چاہیے جیسے کہا جاتا ہے:

فوضع الندى في موضع السيف بالعلا

مضر کوضع السيف في موضع الندى

ترجمہ: جہاں تلوار اٹھانا ہو وہاں سخاوت سے کام لینا اس طرح نقصان دہ ہے جیسے سخاوت کے موقع پر تلوار اٹھانا۔

اسی طرح ایک بچہ وہی سیکھتا ہے جس کا اسے تجربہ ہوتا ہے ہمیں اپنی نسل تک سختی کے برعکس نرمی اور باہمی محبت کو منتقل کرنا چاہیے۔

نرمی کی فضیلت پر فرمان مصطفیٰ: اللہ جب کسی گھر والوں کو پسند فرماتا ہے تو ان میں نرمی پیدا کر دیتا ہے۔ (مسند امام احمد،9/385، حدیث: 24481)

کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن کون اگ پر حرام ہوگا؟ نرم طبیعت نرم زبان درگزر کرنے والا اور لوگوں سے قریب۔ (شعب الایمان، 4/272، حدیث: 8125)

سختی کی مذمت پر فرمان مصطفی: نرمی برکت اور سختی نحوست ہے۔ (شعب الایمان، 6/138، حدیث: 7722)

بے شک اللہ نرمی پر جس قدر اجر عطا فرماتا ہے سختی پر اس قدر اجر نہیں دیتا اور جب اللہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو اسے نرمی عطا فرماتا ہے اور جس گھر والے نرمی سے محروم ہوں وہ اللہ کی محبت سے محروم ہوتے ہیں۔ (معجم کبیر، 2/306، حدیث: 2274)

بچوں پر شفقت کے متعلق سیرت مبارکہ: حضور ﷺ سواری پر آگے پیچھے بچوں کو بٹھاتے، حضور کی خدمت میں کوئی سوغات پیش کی جاتی تو سب سے پہلے آپ چھوٹے بچوں کو دیتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

ان فرامین سے پتا چلا کہ نرمی کے تو فائدے اور بچوں پر نرمی کا تو کیا ہی کہنا مگر سختی کے تو نقصانات ہی ہیں ہر کام کے لیے سختی ضروری نہیں کیونکہ اکثر اوقات سختی سے کام بگڑتے ہیں اور نرمی سے کام سنورتے ہیں۔

سائنس کے نزدیک سختی کے مزید نقصانات ملاحظہ فرمائیں: ڈپریشن، احساس کمتری، بداخلاقی، والدین سے دوری۔

ڈپریشن: فی زمانہ ڈپریشن ایک عام بیماری ہے جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اس بیماری میں مبتلا اکثر اوقات بچے ہیں ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ڈپریشن کا علاج اور جنم کیسے ممکن ہے جنم ڈپریشن کسی جراثیم سے نہیں ہوتا بلکہ یہ بغیر جراثیم کے لاحق ہوتی ہے یہ بچے پر بےجا سختی اور اس کے جذبات کو دبا لینے سے پیدا ہوتی ہے کسی معاملے میں بچوں کو بولنے کا اختیار نہیں جو والدین نے کہا بس مشین کی طرح وہی ہوگا اس طرح ڈپریشن بچے کو ہو جاتا ہے۔

علاج: ڈپریشن کا علاج نرمی محبت شفقت اور دل جوئی یہ ایسا نسخہ ہے کہ ڈپریشن کے مریض پر اپنا کر دیکھو بغیر دوائی علاج جلد ممکن ہو جائے گا۔

احساس کمتری: بچے معاشرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں جب وہ اپنے سے دوسرے بچوں کو محبت نرم مزاجی سے بڑھتا نشوونما کرتا دیکھی گا اور خود کو ایک مشین کی طرح کام کرتا پائے گا تو وہ خود کو دوسرے بچوں سے کمپیئر کرے گا جس کی بدولت آہستہ آہستہ خود کو دوسروں سے کمتر محسوس کرے گا۔

بد اخلاقی: جب نوجوان یا جوان بچوں پر بےجا سختی کی جانے لگے گی ان کو پیار سے سمجھانے کے بجائے بےعزت کیا جائے گا تو وہ بد زبان ہو جائیں گے بدزبانی ہی بد اخلاقی کی پہلی سیڑھی ہے پھر اس سے چل کر آہستہ آہستہ مزید گناہوں کی طرف آنے لگے گا اور اگر نرمی سے کام لیا جائے تو یقینا بچہ آپ کو سمجھے گا آئندہ وہ کام بھی نہ کرے گا اور آپ کی عزت بھی برقرار رہے گی جیسے محاورہ ہے: تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی! یعنی اگر آپ سختی کریں گے تو اپنی عزت بھی نہ پائیں گے اور اولاد بھی گناہوں میں مبتلا پائیں گے اس کے برعکس نرمی سے عزت بھی پائیں گے اور اولاد آئندہ سے اس برے عمل سے باز رہے گی۔

والدین سے دوری: اگر والدین ہر وقت لوہے کی طرح سخت رہیں گے غصے کو اپنا وقار سمجھیں گے تو آہستہ آہستہ بچے والدین سے دور ہوتے جائیں گے کیوں کہ سختی بے بنیاد چیز ہوتی ہے کسی بھی چیز کو ساتھ لگانے یعنی اٹیچ کرنے کے لیے نرمی اور محبت لازمی ہوتی کیونکہ مشہور ہے کہ سختی سے تو جانور بھی ڈر کر بھاگ جاتے ہیں تو بھلا انسان کسی سے اٹیچ ہو سکتا ہے مگر محبت سے تو جانور دوست بن سکتے ہیں تو انسان کیا چیز ہے تو پھر والدین کی محبت تو پتھر دل کو بدل سکتی ہے۔

اللہ کریم ہمیں اپنے مبارک نام رحیم کے صدقے سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا کر بچوں کے ساتھ نرمی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین