بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از ام ہانی،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
بےجا سختی اور
مار پیٹ وقت بے وقت بچوں کو ڈانٹتے رہنے سے بچوں کی خود اعتمادی بری طرح متاثر
ہوتی ہے اور زیادہ سختی کرنے سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ والدین کی
عادت ہوتی ہے کہ معمولی سی بات پر بچے کو جھڑک دیتے ہیں اور اچھی خاصی پٹائی بھی
کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں ضد پیدا ہوتی ہے اور وہ باغی ہوجاتے ہیں پھر
کسی کی بھی نہیں سنتے۔
فرمان
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ: برتن میں سوراخ کرنےکے بعد جتنا بھر
لو خالی رہے گا یعنی مار کر ہم بچے کو سمجھا نہیں رہے بلکہ اسے خود سے دور کر رہے
ہیں۔ بچے کی غلطی پر اسے مکار،جھوٹا، چور وغیرہ کے القاب سے نوازنے والے والدین
سخت غلطی پر ہیں بچہ سوچتا ہے جب مجھے لقب مل گیا تو میں کامل طور پر بن کر دکھا
دوں۔
ہےفلاح
و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا
کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
بچے پیار کا احساس
ہیں۔اگر اس احساس کو آپ سختی سے پروان چڑھائیں گے تو یہ احساس بچہ میں سے ختم ہو
جائے گا۔بچوں کے ساتھ پیار بھرا رویہ اپنانا چاہئے۔زیادہ سختی بچے کی ذہنی،جسمانی
اور معاشرتی نشوونما کے لئے درست ثابت نہیں ہوتی۔بچوں پربے جا سختی سے یا تو بچہ
بگڑ جاتاہے یا سہم جاتاہے اور کبھی بھی ویسا نہیں بن پاتا جیسا آپ اسے بنانا چاہتے
ہیں۔
بچے کی شخصیت
میں ڈر یاشر کا غالب آنا دونوں ہی صورتیں بچہ کی شخصیت کوتباہ کرنے کے لئے کافی
ہیں۔بچوں پر بےجا سختی کے درج ذیل نقصانات سامنے آتے ہیں:
نفسیاتی
مسائل: بات
بات پر روک ٹوک بچے میں نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کاسبب بنتی ہے۔اگر آپ کو بچے
کوکسی غلط بات سے روکنا ہے تو اسے اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس کام سے منع
کریں۔
ڈپریشن:
صرف
بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی بڑوں کے غلط رویے کی وجہ سے ڈپریشن میں جاسکتے
ہیں۔والدین کی طرف سے پڑھائی پر کی جانے والی سختی بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی
ہے۔
ماں
باپ سے دوری: آپ
کی بچے پربے جاسختی اسے آپ سے دور کرسکتی ہے۔سخت رویہ سے تنگ آکر وہ آپ سے دور
رہنے میں زیادہ آرام دہ محسوس کرے گا۔
اعتماد
کی کمی: اعتماد
میں کمی کی بڑی وجہ بڑوں کا بچوں کے ساتھ غلط رویہ ہوتا ہے۔ایسے بچے جو بہت گھٹے
ہوئے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی واضح طور پر دیکھی جاسکتی
ہے۔والدین کے سخت رویہ سے وہ ہر کام کرنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔بچوں کو اگر ہر کام سے
روکا ٹوکا جائے تو وہ کسی بھی کام کو کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔
احساس
کمتری: اکثر
دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین ان پر زیادہ سختی کرتے ہیں وہ احساس کمتری کا
شکار ہو جاتے ہیں۔تنہائی اور اکیلاپن انہیں زیادہ بہتر لگنے لگتا ہے۔ دوسروں کا
سامنا کرنا ان سے بات کرنا ان کیلئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔اور بچپن میں ہونے
والی احساس کمتری بڑے ہونے کے بعد بھی آسانی سے ختم نہیں ہوپاتی۔ان چند بیان ہوئے
نقصانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت میں بےجا سختی کی بجائے نرمی اور
شفقت اختیار کرنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے
بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا رہنمائی فرمائی اور آپ ﷺ خود اس کا کس درجہ خیال
رکھتے تھے؟اس کی بیشمار مثالیں کتب حدیث وسیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔حضرت عمروبن
ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا
تناول کرتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر ادھر چلا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے
ارشاد فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
(بخاری، 3/521، حدیث: 5376)
قربان جائیے!
آپ کی شان پر کہ آپ کتنے پیارے اور میٹھے انداز میں تربیت فرماتے تھے ہمیں آپ کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے احسن طریقے سے اسلام کی روشنی میں بچوں کی تربیت کرنی
چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں
توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
Dawateislami