بچے اللہ کی رحمت اور امانت ہیں۔ یہ معاشرے کی رونق ہوتے ہیں ان پر بے جا سختی کرکے ان میں احساس کمتری پیدا کرنے کی بجائے ان کے دوست بن کر انکی راہنمائی کیجیے۔محبت،صبر اور مثبت تربیت کے ذریعے ہی آپ انہیں ایک بہترین پراعتماد انسان بنا سکتے ہیں۔

بے جا سختی کے نقصانات: بچوں پر بے جا سختی ان کی شخصیت، اعتماد اور تعلق تینوں کو خراب کر دیتا ہے بچہ بچپن میں سیکھ ہی رہا ہوتا ہے وہ غلطی کرنے کے بعد ہی سیکھتا ہے تو بجائے ڈانٹ ڈپٹ کے بچوں کو پیار سے سمجھایا جائے۔

اعتماد کا ٹوٹنا: بار بار ڈانٹ مار،سختی کی وجہ سے بچے کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے وہ خود کو نکما سمجھنے لگ جاتا ہے۔

ضد بڑھتی ہے: بہت ذیادہ ڈانٹ بچے کو ضدی بنادیتی ہے

بچہ ماحول سے سیکھتا ہے: بچہ وہی کام کرتا ہے جو وہ اپنے ماحول میں دیکھتا ہے اگر ہم غصے میں بچے کو سخت الفاظ بولیں گے تو وہ بھی ایسا ہی رویہ اپنائے گا۔

بچے کے سامنے غصے پر کنٹرول کریں:اگر ہم بچے کو غصہ کیے بغیر پیار سے سمجھانے کی کوشش کریں گے تو اس سے اس میں بھی غصے کو کنٹرول کر نے کی حس پیدا ہوگی اس طرح بچے میں مثبت عادات پیدا ہونگی جس کی وجہ سے اس میں اچھائی کا جذبہ بڑھے گا۔

ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ ہمیشہ بچوں سے نرمی اور بہت محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔

نبی کریم ﷺ کی محبت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے،یہاں تک کے میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر نامی سے (مزاحا) فرماتے: ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟

بچوں پر رحم نہ کرنے کی مذمت میں حدیث پاک: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرےاور ہمارےبڑوں کا مقام نہ پہچانے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

صحیح بخاری میں ہے: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (بخاری، 4/100، حدیث: 5997)

حضور ﷺ کی سیرت سب سے بڑی نمونہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کس قدر بچوں پر محبت فرماتے تھے اس دور میں بچوں کی کامل تربیت بہت مشکل امر ہے اس وجہ سے بھی والدین اکثر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اس فکر میں وہ بے جا سختی کرتے ہیں ان کی معمولی سی بات پر بھی مارا جاتا ہے ایسا نہ کیا جائے بلکہ پیار سے ان کی غلطیوں پر ان کو سمجھایا جائے۔ گھر میں بے جا سختی کی وجہ سے یہ بچے سماجی میل جول سے کتراتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بچے دباؤ اور خوف والے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی صلاحیتیں ابھرنے کی بجائے دب جاتی ہیں جس سے تعلیم کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔

بچے کے سامنے جیسا رویہ اپنایا جائے وہ بھی ویسا ہی اپناتا ہے اس لیے ان کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آیا جائے اور سختی سے بچا جائے۔

اللہ پاک حضور اکرم ﷺ کی بچوں سے محبت کے صدقے ہمیں بھی بچوں سے پیار کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔