بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از بنت سید رضوان علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
بچوں پر بےجا
سختی کرنا ان کی شخصیت کو متاثر کرتا اور ان میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ بچے نرمی،
محبت اور پیار سے ہی سب سیکھتے ہیں، اگر والدین اور بڑے ہر بات میں بچوں پر بےجا
سختی کرنے لگ جائیں گے بچے ذہنی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں اور وہ کھل کر بات کرنا
چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ کچھ غلط کرنے پر سچ بولنے کی بجائے جھوٹ بولتے ہیں،
اس ڈر سے کہ کہیں ان پر سختی نہ کی جائے اور ان کو مارا نہ جائے۔
ہمارا پیارا
دین اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ نرمی اختیار کی جائے اور ہمارے پیارے آقا
ﷺ بچوں سے ہمیشہ نرمی و محبّت سے پیش آتے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں سے نرمی سے
پیش آئیں اور رحم کریں۔ اس کے ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہے: رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم
میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
اگر بچے کچھ
غلط کریں تو بجائے ڈانٹنے اور مار پیٹ کے ہمیں چاہیے کہ نرمی اور محبّت سے ان کو
سمجھائیں اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ پیار اثر رکھتا ہے اور جو بات بچے نرمی
اور پیار سے سمجھتے ہیں وہ بات بچے غصے سے کبھی بھی نہیں سمجھتے، الٹا وہ ضد پر
اتر آتے ہیں لہٰذا بچوں کی تربیت میں نرمی اختیار کرنی چاہئے، اسی ضمن میں ایک
حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے
خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے نکال لی جائے وہ بدصورت ہو جاتی ہے۔ (مسلم، ص
1398، حدیث: 2594)
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ- (پ
28، التغابن:15) ترجمہ: بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ اولاد اللہ کی طرف سے دی گئی ایک امانت اور آزمائش ہے۔ اگر اولاد
نیک ہو تو دنیا و آخرت میں فائدہ اور اگر نافرمان ہو تو والدین کے لئے دنیا میں
پریشانی اور آخرت میں وبال ہو سکتی ہے۔ بچوں کی تربیت نرمی اور محبّت سے کرنی
چاہئے اور دین اسلام کے مطابق کیونکہ دین اسلام نرمی ہی سکھاتا ہے۔
ہمارے آقا جان
ﷺ بھی بچوں سے بہت محبّت فرماتے اور ان سے ہمیشہ نرمی و محبّت کا رویہ اختیار
کرتے۔ اسی ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں؟ ہم
تو نہیں چومتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں کیا کروں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال
دیا ہو؟ (مسلم، ص 1267، حدیث: 2317)
اس حدیث
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں سے محبت اور شفقت کرنا فطری اور ایمانی چیز ہے،
اور اسے ترک کرنا دل کی سختی کی علامت ہے۔
آقا
جان ﷺ کا طریقہ مبارک: نبی ﷺ بچوں کو گود میں بٹھاتے، پیار کرتے، کھیلتے
اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے تھے۔ اپنے مدنی و مکی آقا ﷺ کی پیروی
کرتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ بچوں پر بےجا سختی نہ کریں۔ بچوں کی تربیت میں سختی
صرف حد ضرورت اور حکمت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اصل طریقہ نرمی، محبت اور سمجھداری ہے،
جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمارے لئے عملی نمونہ پیش کیا۔
اللہ پاک ہمیں
بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami