بچوں کی تربیت ایک انتہائی نازک، اہم اور مقدس ذمہ داری کا کام ہے۔ والدین کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہمیشہ بہتری کی خواہش ہوتی ہے اور وہ انہیں کامیاب اور مثالی انسان دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی اس خواہش کو پورا کرنے کی جلدی اور فکر میں والدین انجانے میں بے جا سختی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نظم و ضبط اور بےجا سختی کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے اور جب یہ لکیر پار ہو جاتی ہے تو تربیت کے نتائج مثبت کے بجائے منفی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جب ہم بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں تو ہم ان کی شخصیت کی نشوونما کے فطری عمل کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ سختی سے پیدا ہونے والا ڈر کبھی بھی بچوں میں حقیقی اطاعت یا عزت و احترام پیدا نہیں کرتا، بلکہ یہ انہیں جھوٹ بولنے، اپنی غلطیاں چھپانے اور اپنے جذبات کو دبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب گھر کا ماحول خوف زدہ کر دینے والا ہوتا ہے، تو بچہ والدین سے اپنے دل کی بات کہنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتا ہے، جس سے والدین اور بچے کے درمیان خلش بڑھتی جاتی ہے اور اعتماد کا وہ رشتہ کمزور ہو جاتا ہے جس پر ایک صحت مند خاندانی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایسے بچے یا تو شدید باغی ہو جاتے ہیں یا پھر احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

حقیقی نرمی دل کا نرم ہونا ہے۔ جب بندۂ مؤمن کا قلب نرم ہوتا ہے تو اسے اللہ کا قرب ملتا ہے جس کی برکت سے وہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں پاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ کریم نے نبی پاک ﷺ کے دل کی نرمی کو اپنی رحمت قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-(پ4،اٰل عمران: 159) ترجمۂ کنز الایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے۔

فرمان مصطفے ﷺ: بیشک اللہ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جوسختی پر عطانہیں فرماتا بلکہ نرمی کے سوا کسی بھی شے پر عطا نہیں فرماتا۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6601)

تربیت کا بہترین اور پائیدار طریقہ سختی نہیں بلکہ مثبت نظم و ضبط ہے۔ بچوں کو سمجھانا، ان کی بات کو صبر سے سننا، اور غلطی پر انہیں سزا دینے کے بجائے اس کی اصلاح کا صحیح طریقہ سکھانا ہی ایک کامیاب والدین کی پہچان ہے۔ اگر ہم بچوں کو اپنی شفقت اور توجہ کا یقین دلائیں اور انہیں مناسب حدود کے اندر رہ کر اظہار رائے کا موقع دیں، تو وہ خود اپنی غلطیوں کو سمجھنا اور ذمہ دار بننا شروع کر دیں گے۔ یاد رکھیے، بچے آپ کے الفاظ سے زیادہ آپ کے رویوں سے سیکھتے ہیں، اس لیے سختی کے بجائے صبر، محبت اور حکمت عملی سے کام لینا ہی وہ واحد راستہ ہے جو انہیں ایک پر اعتماد، متوازن اور کامیاب انسان بنا سکتا ہے۔ آئیے اپنے گھروں کو خوف کے بجائے محبت اور باہمی احترام کا گہوارہ بنائیں تاکہ ہماری اولاد ایک خوشگوار ماحول میں پنپ سکے۔

بے جا سختی کے نقصانات: غیر ضروری روک ٹوک اور بندشیں بچوں کی برداشت کرنے کی صلاحیت کو کم کرتی جاتی ہے اور وہ آگے چل کر غصیلے مزاج کے انسان بن جاتے ہیں۔

آپ یہ کبھی نہ بھولیں کہ بچے آپ کو دیکھ ہی زیادہ سیکھتے ہیں، بجائے آپ کی نصیحتوں کے۔ آپ ان کے پہلے رول ماڈل ہو۔ اگر آپ خود اپنا رویہ کنٹرول میں نہیں رکھ پائیں گے تو بچے سے امید مت رکھئے گا کہ وہ آپ کی بات مانے گا۔

آپ کے بچے آپ سے کھل کر بات نہیں کر پائیں گے۔ نہ آپ سے گھل مل پائیں گے نہ ہی آپ کے ساتھ دوستانہ رشتہ استوار کر پائیں گے جس سے آپ لوگوں کے درمیان ہمیشہ ایک دوری قائم رہے گی اور اس دوری کے درمیان میں ہوگا تو صرف ڈر۔ نہ تو آپ اور نہ ہی آپ کے بچے ایک عام والدین اور بچے کے درمیان رشتے کو محسوس کرسکیں گے۔ سہما ہوا سا رشتہ ہوگا وہ اور یہ بچوں کو غلط راستے پر بھٹکا بھی سکتا ہے کیونکہ آپ اپنے بچوں کا بھروسہ جیتا نہیں جب والدین ہر بات پر سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، تو بچہ اپنی بات کہنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنا ذہن اور خیالات چھپانے لگتا ہے، جس سے والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد کی دیوار گر جاتی ہے۔

اے اللہ! ہماری اور ہم سے وابستہ تمام لوگوں کی مغفرت فرما اور ہم سب پر اپنی خاص رحمت نازل فرما۔