اولاد اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت ہے، اور انکی اچھی تربیت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ بے جا سختی نہ صرف بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان کے دل میں خوف، ضد اور دوری بھی پیدا کر سکتی ہے۔

بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔ بچوں سے پیار كرنا رسول اللہﷺ کی سیرت کا حصہ ہے مگر آج بچے تھوڑا سا شور کرتے ہیں تو انہیں خود سے دور کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی پیار دینا ہوگا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ خاتم المرسلینﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے ’الفرح “ کہا جاتا ہے اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ (1)

کچھ والدین اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت جذباتی ہوتے ہیں کہ جونہی بچے نے کوئی غلطی کی وہ اس کے احساسات کا خیال کئے بغیر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور والدین کو اپنا مخالف سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسانہ کیا جائے بلکہ بچوں کی غلطی مثبت اور نرم انداز میں ان پر آشکار کی جائے تا کہ وہ اپنے آپ کو قیدی تصور نہ کریں اور سمجھانے والے کو اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ!، اللہ رفیق ہے اور رفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ (2)

اسی طرح بعض ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں مثلاً اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آؤں گی وغیرہ۔ ایسا نہ کیجئے بچے کا نا پختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور نتیجتاً وہ بھی جوابی دھمکیوں پر اتر آتا ہے اور سنبھلنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے۔ بچے کو کبھی بھی آناً فاناً سزا مت دیجئے بلکہ اسکی غلطی سامنے آنے پر سوچئے کہ مجھے اسے کس طرح سمجھانا چاہے،پھر اس حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھائیے۔ سب کے سامنے نہ جھاڑیئے بچہ بہت سبکی محسوس کرتا ہے اور اس کے نازک دماغ پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض مائیں اپنی اولاد کی بار بار کی غلطی پر بددعا تک دے ڈالتی ہیں (العیاذ باللہ)پھر جب یہ بددعا ئیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی مائیں مصلے بچھا کر بیٹھ جاتی ہیں۔

اسی طرح ایک بار کی غلطی پر بچے کو مختلف القابات مثلاً مکار، چور، جھوٹا وغیرہ سے نوازنے والے والدین بھی سخت غلطی پر ہیں۔ ان القابات کی تکرار سے بچہ یہ سوچتا ہے جب مجھے یہ لقب مل ہی گیا ہے تو میں کیوں نہ اس کام کو کامل طریقے سے کروں۔ پھر وہ اسی لقب کا حقیقی مستحق بن کر دکھاتا ہے۔

اگر نرمی کے باوجود بچہ کسی غلطی کو بار بار کرتا ہے تو مقتضائے حکمت یہ ہے کہ اسے ذرا سختی سے سمجھایا جائے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سزا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے گھر میں کوڑا لٹکائے جس سے اس کے اہل ادب سیکھیں۔ (3)

لیکن یاد رہے اگر سزا دینی پڑے تو ہاتھ سے اتنی ضرب لگائے کہ بچہ اسے برداشت کر سکے اور چہرے پر مارنے سے بچے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چاہیے کہ چہرے پر مارنے سے بچے۔ (4)

لہٰذا اولاد کی تربیت کے لیے قدر ضرورت سختی ضرور کیجئے مگر ایسی سختی بھی نہ کیجئے کہ پھر وہ آپ سے ہی بد ظن ہوکر سکون کی تلاش میں گناہوں کی طرف چل پڑے۔

اللہ کریم ہمیں ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین

حوالہ جات:

(1) جامع صغیر، ص 140، حدیث: 2321

(2) مسلم، ص 1398، حدیث: 2593

(3) کنز العمال، 16/159، حدیث: 44990

(4) ابو داود، 4/222، حدیث: 4493