دین اسلام جہاں زندگی کے ہر ہر پہلو پر ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے وہیں اسلامی تعلیمات میں بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کی ترغیب دلانے اور بچوں پر بے جا غصہ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے منع کیا گیا ہے۔

حضور سید عالم ﷺ کا ارشاد ہے: جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی،3/ 369، حدیث:1926)

تشریح حدیث: حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا۔(مراة المناجیح،6/ 560)

حضور ﷺ کا بچوں سے انداز محبت: نبی کریم ﷺ بچوں سے بے حد پیار کیا کرتے،ان کو چومتے،ان کو سونگھتے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ بچّوں پر مہربان تھے۔ (مسلم، ص 974، حدیث: 6026)

بچوں کی تربیت میں بے جا سختی کے نقصانات: بچوں پر بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ ان کی شخصیت، ذہنی صحت اور دماغی نشوونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جس سے احساس کمتری، شدید ڈپریشن، اور جارحانہ رویہ جنم لے سکتا ہے۔ مستقل سختی بچوں کو باغی یا انتہائی خوفزدہ بنا دیتی ہے، جس سے ان کی سیکھنے اور اعتماد کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

والدین کی سختی بچوں میں احساس کمتری اور تنہائی کا باعث بنتی ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق، سخت رویہ بچوں کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ زائد سختی سے بچے لڑکپن میں شدید ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جو بچے مار پیٹ یا سختی کا شکار ہوتے ہیں، ان میں دوسروں کے ساتھ بھی جارحانہ اور منفی رویہ اپنانے کی عادت پڑ سکتی ہے۔ بے جا تنقید اور ڈانٹ سے بچوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، جس سے ان کی شخصیت کمزور ہو جاتی۔

بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کے فوائد: محبت اور نرمی بچوں کی شخصیت سازی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے بچوں میں اعتماد، جذباتی استحکام، اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پیدا ہوتی ہیں، جبکہ وہ ذہنی تناؤ سے پاک رہتے ہیں۔ شفقت آمیز رویہ بچوں میں مثبت سوچ پروان چڑھاتا ہے اور ان کی معاشرتی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔

بچوں کی بہتر تربیت کے لیے کچھ رہنما اصول: بچوں سے اونچی آواز میں بات کرنے کے بجائے نرمی اور دھیمے لہجے میں بات کریں تاکہ وہ آپ کی بات دل سے مانیں۔ بچوں کے ساتھ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہنسی مذاق کریں اور انہیں سیر و تفریح پر لے جائیں تاکہ ان کے مزاج میں اعتدال رہے۔ ان کے احساسات کو جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ بچے کے اچھے کام پر اس کی تعریف کریں۔ جب بچہ محسوس کرے گا کہ اس کی مثبت سرگرمیوں کو سراہا جا رہا ہے، تو وہ غلط کاموں سے خود دور رہے گا۔

ہر بچے کی ذہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے اسے دوسرے بچوں کے ساتھ کم تر ظاہر نہ کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق اور اعمال کے ذریعے بچوں کے لیے مثال بنیں۔ بچوں کو گھریلو اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں تاکہ ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور وہ اپنے کام خود کرنے کے عادی بنیں۔

دور حاضر میں موبائل اور انٹرنیٹ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ان کی صحیح رہنمائی کریں اور ضرورت پڑنے پر نگرانی کے ساتھ استعمال کی اجازت دیں۔

الله پاک سے دعا ہے الله رب العزت ہمیں شریعت کے مطابق اپنی اولادوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین