بچے گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ بچوں سے ہی گھر چہچہاتے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کو بچوں سے بہت پیار ہوتا ہے

پیارے آقا ﷺ کی بچوں پر شفقت: پیارے آقا ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ اور ان کے ساتھ بے حد شفقت سے پیش آتے جب بھی آپ کی بارگاہ میں کوئی نیا میوہ آتا سب سے پہلے بچوں کو دیا کرتے آپ بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے اگرچہ کفار کا ہوتا یا مسلمان کا اس سے معلوم کہ ہمیں بھی بچوں پر شفقت کرنی چاہیے اور اس طرح بچوں سے محبت کرنے کی سنت پر بھی عمل ہو جائے گا۔

بچے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔بچے کے گناہ شمار نہیں ہوتے۔بچوں کی نیکیاں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمیں بچوں کو شفقت کے ساتھ نیکیوں کی طرف رغبت دلانی چاہیے اور ان سے پیار و محبت کرکے ان سے ڈھیروں دعائیں لینی چاہیے۔

بچوں پر بے جا سختی نہ کریں: آج کل لوگ بچے کو پیار و محبت کرنے کی بجائے اس پر بے جا سختی کرتے ہیں اور انہیں بے جا مارتے ہیں اگر بچہ معمولی سا کچھ کر دے تو بچے پر سختی کی جاتی ہے اور اس کو مارا بھی جاتا ہے یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ بے جا سختی سے بچہ عموما باغی ہو جاتا ہے اللہ پاک نے اگر آپ کو اولاد سے نواز دیا ہے تواس پر اس کا شکر ادا کریں اور اپنے بچوں کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اولاد کی قدر بے اولادوں سے پوچھئے کہ وہ کس طرح اولاد کے لیے منتیں مانتے،دعائیں کرتے اور دن رات روتے ہیں کہ اے کاش ہمیں بھی اولاد نصیب ہو جائے مگر بد بخت ہےوہ شخص جسے اللہ نے اولاد سے نوازا لیکن وہ اس پر سختی کرتا اور اسے بے جا مارتا ہے۔

ایک حدیث مبارک ہے: جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزّت نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/ 369، حدیث:1927)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں بچوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ انہیں مارنے یا ان پر سختی کرنے سے گریز کرنا چاہیے انہیں شفقت سے سمجھانا چاہیے۔

بےجا سختی کے نقصانات: جب بچے پر بےجا سختی کی جائے تووہ بعض اوقات اس چیز کا عادی ہو جاتا ہے اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر میں کچھ کروں گا تو بعض اوقات مار پڑے گی یا پھر مجھ پر سختی کی جائے گی تو بچہ اس چیز کا عادی تو ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ماں باپ سے بھی باغی بھی ہو جاتا ہے اور اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہےاور ان سے منہ پھیر لیتا ہے اس لیے ہمیں بچوں پر بے جا سختی نہیں کرنی چاہیے۔

نرمی سے سمجھانے پر پکڑ: ہمیں ان سے محبت اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اب بچے پر محبت اور لاڈ پیار کا یہ ہرگز مطلب نہ ہوگا کہ ہم بچوں کو ان کی بری باتوں سے بھی نہ روکیں نہ ان پر گناہ کےمعاملے میں سختی کریں اگرچہ بچہ گناہ کا کام کرے اور والدین کو معلوم ہو اور وہ بچے کو کچھ نہ کہیں تو اس پر والدین سے پوچھا جائے گا اس بارے میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے: بنی اسرائیل کے ایک عالم صاحب وعظ فرما رہے تھے ان کا بیٹا بھی اس مخفل میں موجود تھا اس نے ایک لڑکی کو گھورا تو عالم صاحب نے کہا کہ اے بیٹےصبر رکھ! یہ کہنا تھا کہ عالم اچانک منبر سے گرا اور اس کی ہڈیاں بعض جگہوں سے ٹوٹ گئیں اور غیب سے آواز آئی کہ اپنے لڑکے کے گناہ پر کیا اتنی تنبیہ کافی تھی؟ تم نے اسے سختی سے کیوں نہ روکا؟ یاد رکھو! تمہاری نسل سے قیامت تک کوئی صدیق پیدا نہیں ہوگا۔ (احیاء العلوم، 2/383)

آخر میں خلاصہ یہ نکلا کہ ہمیں نہ تو بچوں پر بے جا سختی کرنی ہے نہ ہی زیادہ نرمی کیونکہ ان دونوں صورتوں میں بچے بگڑ جاتے ہیں بلکہ اعتدال کرنا ہے جس معاملے میں سختی کرنا صحیح ہو اس میں سختی کریں اور جس میں نرمی کرنا درست ہو اس میں نرمی سے پیش آئیں۔

اللہ ہمیں صحیح معنوں میں اولاد کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین