دعوتِ اسلامی ایک جامع اخلاقی، دینی اور تربیتی تحریک ہے جو سماج کے افراد کی اصلاح، دینی تعلیمات کی ترویج اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی خیر خواہی کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد افراد کو محض نظریاتی علم تک محدود رکھنا نہیں بلکہ ان کی اخلاقی و عملی زندگی میں مثبت انقلاب برپا کرنا ہے۔

اسی مقصد کے تحت ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 20 اکتوبر 2026ء کو کراچی یونیورسٹی میں قائم Chinese Teacher Memorial Auditorium میں سیرت النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس، پروفیسرز اور فیکلٹی ممبران سمیت شعبہ تعلیم کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

سیمینار میں مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے”Solutions Contemporary social Issues in Light of the Seerah“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔

بیان میں گفتگو کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے فرمایا کہ یہ تحریک عاشقانِ مصطفیٰ کی ایسی تحریک ہے جو عامۃ المسلمین کو دین کے بنیادی احکام سکھاتی اور باعمل بناتی ہے۔ تحریک کا محوری مقصد امت کی اخلاقی فلاح، خیر خواہی اور اجتماعی بہتری کے جذبے کو بیدار کرنا ہے۔ یہ دعوت رحمان کی رحمت اور ایمان کی سلامتی کا سامان فراہم کرتے ہوئے شیطانی وسوسوں اور اخلاقی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔ یہ تحریک اسلاف بالخصوص غوث پاک، خواجہ غریب نواز اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہم کے فیض و تعلیمات کو جدید دور میں عام کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

نگران شوریٰ نے انفرادی اصلاح کی اہمیت پر کلام کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی نظام میں پائیدار اور حقیقی تبدیلی کا بنیادی انحصار انفرادی خود احتسابی اور ذاتی اصلاح پر قائم ہے۔ پوری دنیا یا پورے شہر کو بیک وقت بدلنے کے وژن سے پہلے اپنی ذات کو سنوارنا ناگزیر ہے۔ یہ بات خام خیالی پر مبنی ہے کہ انسان اپنی ذات کی خامیوں سے نظریں چرا کر پورے معاشرے کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اصلاحِ احوال کا بنیادی فارمولا اس عزمِ مصمم پر استوار ہے: ”سب سے پہلے میں جس چیز کو صحیح کروں گا وہ میں ہوں“۔ جب تک ہر فرد اپنی ذات کے سدھار، اپنے رویوں کی درستگی اور انفرادی اخلاقیات پر توجہ مرکوز نہیں کرتا، تب تک کسی بھی سطح پر پائیدار اجتماعی تبدیلی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔

نگران شوریٰ نے مزید کہا کہ معاشرے کا ایک دردناک اور الم ناک پہلو یہ ہے کہ لوگ اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں کرپشن، بدعنوانیاں، رشوت ستانی، انتظامی ناکامیوں اور کھلے گٹروں جیسے مسائل پر محض زبانی گفتگو اور تنقید کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور عوامی نشستوں میں جب بھی موقع ملتا ہے، افراد جمع ہو کر ان خرابیوں کا تذکرہ تو کرتے ہیں مگر ان کا سارا زور اس غیر متوازن سوچ پر ہوتا ہے کہ ”سب خراب ہیں، بس میں خراب نہیں ہوں“۔ نظریاتی و تجزیاتی اعتبار سے، گھنٹوں بیٹھ کر مسائل کا رونا رونے اور نظام کی خامیوں پر محض کڑھنے سے کوئی عملی بہتری وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ شکایت پسندی بذاتِ خود ایک سست رویہ ہے جو انسان کو عملی جدوجہد سے دور کر دیتی ہے۔ معاشرتی مسائل کا حل محض منفی تنقید یا شکایات کے انبار لگانے میں نہیں، بلکہ اپنے دائرہِ کار میں عملی ذمہ داری قبول کرنے میں مضمر ہے۔

معاشرے میں ہماری اخلاقی و شہری ذمہ داری پر نگران شوریٰ کے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ معاشرتی بے حسی اور محض شکایت پسندی کی ایک دلخراش اور عبرت انگیز مثال کراچی میں کھلے ہوئے گٹر میں بچے کے گرنے کا الم ناک واقعہ ہے۔ اس دلدوز حادثے کے بعد عوام اور میڈیا کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ بلاشبہ بنیادی انتظامی ذمہ داری (Authority) متعلقہ بلدیاتی اداروں ہی کی تھی، لیکن اس واقعے کا دکھی کر دینے والا پہلو تماشائیوں کی بے حسی اور شہری شعور (Civic Sense) کی عدم موجودگی ہے۔ بے شمار افراد نے اس کھلے گٹر کو دیکھا، اس پر تنقید کی اور آگے بڑھ گئے لیکن کسی نے بھی اسے ڈھانپنے یا خطرے کی نشاندہی کے لیے ایک معمولی پیش قدمی نہ کی۔

اگر وہاں سے گزرنے والا کوئی ایک بھی فرد زبانی شکایت کے بجائے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گٹر پر کوئی پتھر یا عارضی رکاوٹ رکھ دیتا تو اس معصوم بچے کی قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔ یہ رویہ تماشائی کی بے حسی (Bystander Apathy) کی بدترین شکل ہے جہاں فرد اپنی ساختہ اخلاقی ذمہ داری سے فرار اختیار کر کے تمام تر ملبہ انتظامیہ پر ڈال دیتا ہے۔ ”میں مانتا ہوں کہ یہ ذمہ داری کس کی تھی، اتھارٹی کون تھے۔ میں مانتا ہوں، سب مانتا ہوں۔ مگر کیا یہ نہیں مانا جائے گا کہ اخلاقی طور پر بطور شہری شعور (Civic Sense)، مجھے بھی اٹھا کر کوئی ایک آدھ پتھر یا کوئی چیز رکھ دینی چاہیے تھی؟ اگر میں اس وقت اپنی ذمہ داری پوری کر لیتا تو آج وہ بچہ گٹر میں نہ گرتا۔“

نگران شوریٰ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ عملی زندگی میں درپیش رکاوٹوں اور وسائل کی عدم دستیابی کا بہانہ بنانے کے بجائے انسان کو اپنے دائرہِ اختیار میں موجود ممکنہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ بجلی کی قطعی (Power Outage) کی صورتِ حال سے ایک نہایت اہم منطقی درس ملتا ہے: بجلی کی فراہمی یا لائٹ کا واپس لانا انسان کے ذاتی اختیار یا صلاحیت میں شامل نہیں ہے، لیکن اپنی آواز کو بلا تعطل دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرنا مکمل طور پر اس کے ذاتی اختیار میں ہے۔ لائٹ کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے خاموش بیٹھ جانا یا کام روک دینا ایک غیر فعال رویہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جو کام اس کی صلاحیت اور فوری اختیار کے اندر ہے، وہ حالات کی پروا کیے بغیر اپنے حصے کا کام انجام دیتا رہے۔

تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں کے شعبہ جات (Departments) میں اساتذہ اور انتظامی سربراہان کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرہِ اختیار (Sphere of Influence) میں رہتے ہوئے طلبہ کی عملی سرپرستی کریں۔ پوری یونیورسٹی یا ملک کے تمام تر تعلیمی نظام کو ایک ہی وقت میں یکسر بدلنے کا غیر منطقی ہدف طے کرنے کے بجائے، مائیکرو لیول (Micro-level) پر اپنے زیرِ اثر شعبے پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ عملی اور نتائج کا حامل نقطہِ نظر ہے۔ ایک شعبے کا سربراہ اپنے شعبے کے تحت آنے والے 100، 200، 300، 500 یا 2000 طلبہ کی اخلاقی تربیتی سرپرستی اور کردار سازی (Character Building) کی مکمل ذمہ داری قبول کر سکتا ہے۔ جب ایک تعلیمی سربراہ اپنے مخصوص دائرہِ کار کے اندر آنے والی اس محدود تعداد کو مثبت اخلاقی اقدار سے آراستہ کرے گا، تو یہ مائیکرو ماڈل پورے ادارے کے لیے ایک عملی مثال بن جائے گا۔

طلبہ کی اخلاقی، سماجی اور عملی کردار سازی کوئی ایک بار کا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل اور باقاعدہ جدوجہد کی تقاضا کرتی ہے۔ اس اصلاحی عمل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے درج ذیل ترجیحات پر عمل درآمد ضروری ہے:

٭طلبہ کے مخصوص گروپس کے ساتھ ہر دو سے تین مہینوں کے وقفے سے مسلسل تربیتی اور اخلاقی نشستوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے ٭پوری دنیا یا ملک کو بدلنے کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اپنے متعلقہ شعبے اور زیرِ کنٹرول طلبہ پر توجہ مرکوز کی جائے ٭ محض خشک نظریاتی معلومات کی فراہمی کے بجائے طلبہ کے اندر شہری شعور، اخلاقیات اور عملی کردار سازی کو فروغ دیا جائے ٭شعبہ جات کے سربراہان اپنے زیرِ سایہ طلبہ کے رویوں کی مسلسل نگرانی کریں اور انفرادی بنیادوں پر اصلاح کا عمل جاری رکھیں۔

اس موقع پر اراکین شوریٰ حاجی محمد علی عطاری اور حاجی فضیل عطاری بھی موجود تھےجبکہ آخر میں پریزیڈنٹ کراچی یونیورسٹی ٹیچر سوسائٹی نےنگران شوریٰ اور رکن شوریٰ کو Appreciation Shield پیش کی ۔ صلوۃ و سلام اور دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔